ضلع کوہستان کے شہر داسو اور کمیلہ غلاضت کا ڈھیر بن گئے، تعفن سے شہریوں کا چلنا محال ہوگیا، انتظامیہ خوابِ خرگوش میں مصروف

کوہستان(نامہ نگار) کوہستان کے صدرمقام داسو اور بڑی آبادی والا شہر کمیلہ غلاظت کا ڈھیر بن گیا، فوٹ پاتھوں پر ریڑھی بانوں کا قبضہ اور نالیوں سے پھیلتی غلاظت کے تفعن سے شہریوں کا چلنامحال ہوگیا۔انتطامیہ خواب خرگوش میں مصروف ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع اپر کوہستان تجاتی شہر کمیلہ غلاظت کا ڈھیر بن گیاہے ، جگہ جگہ کچرے وغلاظت سے راہگیروں کا چلنا بھی محال ہوگیاہے ۔خان ولی نامی شہری نے بتایا کہ’’ کمیلہ بازار میں بکھری غلاظت سے عام شہریوں سمیت دُکانداروں کو بھی پریشانی کا سامناہے ۔ اس بازار کی صفائی و ستھرائی کے لئے کوئی خاکروب نہیں ۔‘‘ ایک غیر سرکاری ادارے کی جانب سے لگائے گئے کوڑے دان بھی اُلٹادئے گئے ہیں جو کوڑے دان غلاظت سے بھر چکے انہیں خالی کرنے والا کوئی نہیں ۔ علاوہ ازیں نالیوں میں پھینکی ہوئی غلاظت کے تفعن سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے ۔ ادھر فوٹ پاتھوں پہ ریڑھی بانوں نے قبضہ جمائے رکھا ہے اور دوسری جانب ٹیکسی گاڑیوں نے شہر کے وسط سے گزرنے والی پوری شاہراہ کا مغربی حصہ اڈہ بنارکھا ہے جس کے باعث راہگیرفوٹ پاتھ کے بجائے شاہراہ قراقرم کے وسط سے گزرنے پہ مجبورہیں جس سے ماضی میں کئی حادثات بھی رونما ہوچکے اور مستقبل میں بھی خدشہ ہے ۔کمیلہ شہر میں ٹریفک جام بھی معمول کی بات ہے۔انجمن تاجران کمیلہ شہر کے صدر احسان الحق نے شہر کے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ’’کمیلہ شہر کے مسائل کے حل میں ٹی ایم اے مخلص نہیں ، اس ادارے کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ، ہزار ہا درخواستوں کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ تاجر برادری کا سابق ڈی سی سے طے ہوا تھا کہ تمام کوڑے دان دس دنوں کے اندر خالی کردئے جائیں گے ۔ خاکرو ب کیلئے بھی پانچ سالوں سے رگڑے کھا رہے ہیں ۔ نکاسی آب کے بد تر نظام کے بدولت شہر میں لیکیج سے کیچڑ پھیل رہاہے۔ٹیکسی گاڑیوں کیلئے اڈہ بھی نہیں۔حکومت کو ان مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔‘‘اس شہر کے مسائل حل کرنے میں متعلقہ ادارے اور ضلعی انتظامیہ مخلص نظر نہیں آتی جس کی واضح مثال جگہ جگہ غلاظت اور دیگر مسائل ہیں ۔واضح رہے کہ کمیلہ شہر کی مارکیٹ پہ میگاپروجیکٹ داسو ڈیم کیلئے کام کرنے والے عالمی کنٹریکٹرز کے ملازمین کا بھی انحصار ہے یہ مسائل حل نہ ہوئے تو صوبے کی عالمی سطح پر بدنامی ہوسکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments