ملازموں کی ہڑتال کے سبب ہیلتھ سنٹر چٹورکھنڈ چار دنوں سے بند، مریض انتہائی مشکلات کا شکار

اشکومن (کریم رانجھا) آغاخان ہیلتھ سنٹر چٹورکھنڈ بند ہوئے چار روز گزرگئے۔ ڈلیوری کیسز، ایک کیس واپسی پہ راستے میں ہوا ہے۔عوام کو شدید مشکلات۔

آغاخان ہیلتھ سنٹر چٹورکھنڈ گذشتہ چاردنوں سے بند پڑی ہے۔مریض انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔خاص طورپہ ڈلیوری کیسزکے حوالے سے کہ جہاں مریضوں کے لئے ایک بڑی سہولت موجود تھی اور ایسے معاملات میں یہ ادارہ امید کا ایک مرکزتھاگذشتہ چاردنوں سے بند پڑے رہنے سے ابھی تک بارہ کیسزمایوس واپسی گھروں میں ہوچکے ہیں اور ایک کیس واپسی راستے میں واقع ہو چکا ہے چونکہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں عوام کی شمولیت کارفرماہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ ادارہ جاتی پالیسی اپنی جگہ لیکن جہاں ایسے اداروں کی شدید ضرورت ہے اور عوام بھرپور تعاون کررہی ہے تو ادارے کی یہ پالیسی عوام کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔لہذا عوام ادارے کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور فوری طور پہ سنٹر کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

اس کے علاوہ عوام اس بات کو بھی انتہائی تشویشنات قرار دیتے ہیں کہ جہاں اس ادارے میں ملازمین دس، بارہ ،پندرہ اور بیس سالوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں انکو صرف ایک سال کی تنخواہ کے ساتھ فارغ کردینا کہاں کا انصاف ہے۔ان ملازمین نے اپنا وقت اور اپنی عمر اس ادارے میں گذارا آج ان کے ساتھ اسطرح کا بہیمانہ سلوک سمجھ سے باہر ہے۔عوام کا مطالبہ ہے کہ ادارے کو اسقسم کے اقدامات کو اٹھا نے سے قبل کم ازکم عوام سے رابطہ رکھنا اور مشورہ لینا ذمہ داری بنتی ہے۔عوام اشکومن نے سنٹرز کی بندش کے خلاف بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت