پاک ٹرمپ بدلتی صورت حال

 تحریر: شکیل احمد

قوموں کی ترقی وتنزلی کا سبب ان کے اپنی اندرونی وبیرونی پالیسیوں پر ہو تی ہیں۔ اور وہی اقوام عروج کو چھوتی ہیں جواپنی عزت اور وقار کے خلاف کو ئی بھی پالیسی قبول کرنے کو تیار نہ ہو۔ اپنے معاملات میں کسی مالی تعاون کا منتظر نہ رہتا ہو۔وہی اقوام اپنی مستقبل کا فیصلہ دوسروں کے رحم و کرم پرنہیں چھوڑتے۔ا یسے اقوام ہر لحاظ سے مستحکم اور مضبوط ہوتی ہیں۔وطن عزیزپچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کی جنگ میں مصروف عمل ہے اور ہزاروں جانی و مالی نقصان برداشت کر چکے ہیں۔مگرستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ ان قربانیوں کو سراہنے کے بجائے شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور اس کی جانب سے بے بنیادالزامات اور دھمکیاں اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مخلص ہرگز نہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ سے دوستی اسلامی ممالک بلخوصوص پاکستان کے لئے معاون ثابت نہیں ہوئے بلکہ صرف اور صرف اپنے مقاصد کی حد تک اتحادی تصور کرتا ہے۔

بُرے حالات میں ساتھ چھوڑدینا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابی کے باوجود ڈو مور کا مطا لبہ کر نا، دہشت گردی کے خلاف تعاون کو پاکستان کی امداد قراردینا امریکہ بلخصوص ٹرمپ کا شیوہ بن گیا ہے۔ اگر پاکستان دہشت گردی کے جنگ نہ لڑ تے تو شاید امریکہ کبھی تعاون نہ کرتا۔ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کو بے یار و مد د گار چھوڑادیاہے ۔ اور امریکی پالیسی پاکستان کے لئے کبھی سود مند نہیں رہی۔ اسلامی ممالک خاص طورپر پاکستان کے ساتھ کبھی بھی تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ وطن عزیز کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف اپنے مقاصد کے لئے کرتے رہے مگر افسوس پاکستانی سرزمین کو استعمال کرنے کے بعد اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ جس کی واضح مثال اف59غان جنگ میں پاکستانی سرحد کو استعمال کرنا ہے۔ جس کی وجہ سے صدر ایوب خان کو معافی مانگنی پڑی، بے وفائی کی انتہا یہ ہے کہ 1965 ؁ 63 ء کی جنگ میں امریکہ نے وطن عزیز پر فوجی پابندیاں عائد کرکے اسلحہ کی فراہمی بند کر دی۔ یہی نہیں بلکہ 1971 ؁ ء کی جنگ میں دشمن کے ساتھ مل کر 1960 ؁ ء کا بدلہ لینا چاہا۔اور دوبارہ پابندی عائد کردی۔ لیکن پاکستان ان سارے حالات کو پس پشت ڈال کر دوستی کا ہاتھ بڑھاتارہا۔ بحیثیت قوم ہمیں دنیا میں اپنی عزت اور آبرو سلامت رکھنے کے لئے سیاسی ، معاشی اور عسکری طور پر مستحکم اورمنظم ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے رہنے کے لئے امریکہ یا کسی بھی ملک کی ناجائز احکامات کو چھوڑکر اپنی پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہوگا ۔ امریکی پالیسی کبھی بھی اسلام بلخوصوص وطن عزیز کے لئے سود مندنہیں رہا ۔امت مسلمہ کو آپس میں لڑانے کے لئے مشرق وسطی میں ٹرمپ کی بدلتی ہوئی پالیسیاں سب پر عیاں ہیں۔ مصر ، اردن ، مراکش ، سعودی عرب ، یمن ، شام اور ایران میں انتشار اور بدامنی کو ہوادے کر اسلامی حکومتوں کو کمزور کرنے کی ناپاک کوششیں بدستور جاری ہے ۔ اور ان ملکوں پر اپنی طاقت مسلط کر کے وسا ئل ہتھیانا چاہتے ہیں۔افسوس اس امر کی ہے کہ انکی پالیسیوں کے بدولت مسلمان ممالک ایک دوسرے کے دست و گریباں ہونے پہ مجبور ہو رہے ہیں۔ کاش مسلمان ممالک متحد ہو جائیں اور فلسطین ، عراق، عزہ ، کشمیر کے نہکتے عوام پر ہونے والے ظلم و بربریت کا جواب دیں تو امریکہ کیا کوئی بھی ملک کسی بھی مسلمان پر ظلم نہیں ڈھاسکتا۔ امریکہ اسلامی ممالک کو صرف ضرورت پڑنے پرہی استعمال کرتا ہے۔ جس کی مثال افغان جنگ میں نظر آتے ہیں جہاں ضرورت پڑنے پر افغان مجاہدین کو اپنا ساتھی بنا لیا۔بعد میں انہی پر 2001 ؁ ء میں حملہ کردیا۔بے وفائی کی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جب سے ٹرمپ نے اقتدار سمبھالا ہے اسلام بلخصوص پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ۔ اوریہ دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ پاکستان میں مزید ڈرون حملے کرنے کے ساتھ ساتھ، امداد بھی روکیں گے ،یہ بھی کہہ ڈالا کہ پاکستان پر دباؤ بھی ڈالیں گے۔ ٹرمپ حکومت اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان نے کس جرعت اور بہادوری سے دہشت گردی کی جنگ میں کامیابی حاصل کیاہے ۔اور ان کامیابیوں کوتسلیم کرنے کی بجائے ڈو مور کا مطالبہ، سو چنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ٹرمپ انتظا میہ کی تنگ نظری کی انتہاہے کہ کچھ ڈالر و دہشت گردی کے خاتمے کے لئے خرچ کیا اس کی گن گانا ختم نہیں ہو رہا جبکہ وطن عزیز نے جو جانی مالی قربانیاں دی ان کو خاطر میں ہی نہیں لا رہے۔ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ ،بھارت پاک چین دوستی اور پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں سے آنے والے معاشی استحکام کی بدولت پاکستان کو اپنی پاؤں پر کھڑا ہوتے دیکھنا گوارا نہیں کر رہا۔ اور ٹرمپ کی طرف سے آنے والے بیانات سے وطن عزیز کی اخلاقی ثروت پر کاری ضرب لگا ئی ہے۔ امریکہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کو پاکستان کے لئے امداد قرار دیں تو یہ کیسے کہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ بر سرپیکار ہے۔ لہذا ان سارے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بحیثیت قوم ہمیں ہر میدان میں لوہا منوانے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسی دھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں تو اس کی وجہ ہماری معاشی و سیاسی لحاظ سے کمزوری ہے۔ ہمیں معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی اشد ضرورت ہیں۔ ایسی بیانات کو خاطر میں لانے کی بجائے ہر میدا ن میں خواہ وہ معاشی ، سیاسی یا عسکری ہو ہر لحاظ سے مستحکم ہونا چاہیے۔ حکومت اور عسکری قیادت کی طرف سے ٹرمپ کی بیان پر ایسا رد عمل اگر گزشتہ وقتوں میں کرتا تو آج ہمیں کسی کی امداد بند کرنے کی دھمکی سنے کو نہیں ملتی۔ بہر حال وقت کی رسی ہاتھ میں ہے۔ ہم مضبوظ اور باوقار قوم بنے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔جس کے لئے لازمی ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں پائے جانے والے قدرتی انعامات کو بروکار لاتے ہوئے ، تجارت ، صنعت اور تعلیم کو فروخت دے کر روشن مستقبل کی طرف قدم جما سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments