اعتماد اور عدم اعتماد

پیپلزپارٹی کے رکن قانون ساز اسمبلی جی بی جاوید حسین کا شمار ماضی میں ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جن پر تمام جماعتوں کا اعتماد اور تمام جماعتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہوا کرتے تھے ۔ابھی دور کی بات نہیں 2015کے الیکشن سے کچھ ماہ قبل ہی انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ سمیت بڑی تعداد میں سیاسی شخصیات کو ایک دسترخوان پر جمع کیا تھا۔ لیکن جلد ہی وہ بعض جماعتوں اور شخصیات کے تیر وں کا نشانہ بننا مجبوری بن گئے ۔ جاوید حسین کے پاس یہ ہنر موجود ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال کو نازک صورتحال میں موڑ دیں۔ ان کی سیاست میں انٹری ہی غیر متوقع طور پر ہوئی تھی۔ انہوں نے ضلع نگر سے معروف سیاسی شخصیت اور پیپلزپارٹی کے دیرینہ و اہم رہنما محمد علی اختر کے مقابلے پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لینے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ انتخابات کے موقع پر بھی وہ سیاسی حلقوں میں زیر بحث رہے ۔ تاہم انتخابات میں اسلامی تحریک کے امیدوار کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے ۔ ضمنی انتخابات میں جاوید حسین اسلامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین کو بلاواسطہ جبکہ مسلم لیگ ن کو بالواسطہ شکست دیکر اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اسمبلی پہنچنے کے بعد انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے دفتر سے حاجی شاہ بیگ کا بستر گول کردیا اور کیپٹن شفیع کے حوالے کروادیا۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کو قائم ہوئے اڑھائی سال کا عرصہ گززچکا ہے ۔ اس دورانیہ میں جہاں امن و امان کی بہترین صورتحال کا مشاہدہ کیا گیا وہی پر تعمیراتی منصوبے زور و شور سے جاری رہے ۔ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’6مہینے میں سکول کی تعمیر مکمل ہورہی ہے اور ایک سال میں پل تیارہوکر آمد و رفت کے لئے کھول دیا جاتا ہے ‘۔ صوبائی حکومت مسلم لیگ ن کا یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ گزشتہ سال گلگت بلتستان حکومت بجٹ مکمل خرچ کرنے کی وجہ سے دیگر تمام صوبوں اور آزاد کشمیر پر سبقت لے گیا تھا ۔ جبکہ کم و بیش تقریباً تمام خالی آسامیاں باضابطہ طریقے سے این ٹی ایس جیسے ادارے کے زیر اہتمام پُر ہورہے ہیں ۔ جس پر کم از کم گزشتہ حکومت جیسے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گلگت ریجن اور بلتستان ریجن دونوں میں ایک ہی انداز میں ترقیاتی کام جاری ہے بلکہ گلگت کے وزیراعلیٰ نے بلتستان میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرائے ہیں اور گلگت تا سکردو روڈ جیسے دیرینہ مطالبے کو بھی حل کردیا جس پر اس وقت کام جاری ہے ۔ گزشتہ اڑھائی سال کے عرصے میں جس کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا وہ صوبائی حکومت کے ’ورکنگ کوآرڈینیشن‘ کی کمی ہے ۔ اس سے قبل بھی راقم نے لکھا ہے کہ حکومتی ممبران اسمبلی خصوصاً وزراء کی عدم دلچسپی کے باعث تمام معاملات دیکھنے کے لئے خود وزیراعلیٰ کو درمیان میں آنا پڑا ہے ۔ کسی بھی محکمے کی شکایت مل جائے تو نوٹس لینا والا وزیراعلیٰ ہی ہوتا ہے ۔ اس صورتحال کو سیاسی زبان میں ’ون مین شو‘ بھی کہتے ہیں جو اگر وزیراعلیٰ کی خواہش بھی ہے تو وہی پر ممبران اسمبلی اور وزراء کی عدم دلچسپی بھی ہے ۔ وزیراعلیٰ اور وزراء کے مابین کچی ڈور پر بندھے اسی تعلق سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے فائدہ اٹھاکر ’عدم اعتماد‘ کی افواہ کردی۔ اتفاق سے چند روز قبل ہی بلوچستان میں وزیراعلیٰ پر ن لیگی ممبران نے عدم اعتماد کااظہار کرکے حکومت کی ڈور مسلم لیگ ق کو سونپ دی ۔مسلم لیگ ق کے مذکورہ ممبر اور وزیراعلیٰ کو یہ اعزا ز حاصل ہے کہ انہوں نے صرف 544ووٹ لیکر تقریباً ایک کروڑ عوام پر حکمرانی کی اور 544ووٹ حاصل کرکے پورے پاکستان کے آدھے رقبے پر حاکم قرار ٹھہرے ۔ بلوچستان کی سیاسی عدم استحکام نے گلگت بلتستان میں جاوید حسین کو شہہ دی کہ وہ بھی عدم اعتماد کی افواہ ہی اڑادے ۔

سیاسی صورتحال میں استحکام تھا کہ اچانک عدم اعتماد کی افواہ اڑ گئی ۔ عدم اعتماد کے مدعی جاوید حسین کی یہ تفصیل بھی بڑی عجیب ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں کل 33ممبران ہیں جن میں سے 22ممبران مسلم لیگ ن کے جبکہ 11ممبران متحدہ اپوزیشن کے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اگر متحدہ اپوزیشن 6مزید ممبران کو ملانے میں کامیاب ہوئی تو عدم اعتماد کی منزل کوئی دور نہیں لیکن جاوید حسین کے مطابق عدم اعتماد پیپلزپارٹی یا کوئی اور اپوزیشن جماعت نہیں بلکہ حکومت کے ممبران ہی لائیں گے ۔ اور اب تک کسی حکومتی ممبر نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ وہ عدم اعتماد کا حصہ ہیں۔ ’’مدعی سست گواہ چست ‘کے مترادف عدم اعتماد کی تحریک لانے والے اب تک خاموش ہیں مگر اکیلے جاوید حسین اس دعوے کو لیکر سامنے آرہے ہیں۔ دلچسپ صورتحال تو یہ ہے کہ ابھی تک کسی اپوزیشن ممبر نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ عدم اعتماد تحریک کے لئے متحرک ہے ۔

عدم اعتماد اور مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے کی افواہ سوشلستان (فیس بک) میں جی بی کی حد تک ٹاپ ٹرینڈنگ پر ہے ۔ حکومتی میڈیا سیل آئے روز مختلف بیانات اور تصاویر کے زریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ حکومت میں کوئی اختلافات نہیں اور تما م ممبران متحد ہیں۔ جبکہ حکومتی مخالف حلقے ہر زاویہ سے ثابت کرنا چاہتی ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوگی اور اگلے وزیراعلیٰ دیامر کے یا بلتستان سے ہوگا۔ قابل زکر بات یہ ہے کہ جس بزرگ سیاستدان کی طرف مدعی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے وہ ابھی تک اس مسئلے میں لب کشاہی کرنا مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں۔

سیاسی صورتحال اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں ابھی تک یہ بات ناممکن نظر آرہی ہے کہ حافظ حفیظ الرحمن کے خلاف کوئی عدم اعتماد لاسکے گا یا کامیاب ہوسکے گا البتہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حکومت کے تمام پرزے ایک پیج پر نہیں ۔ جس کے کئی وجوہات بھی ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومتی حلقہ صرف چند شخصیات تک محدود ہے اور وہ کسی دوسرے رکن اسمبلی یا وزیر کے کسی بھی خدمت یا کارنامے کو حکومتی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی خواہش بھی یہ ہے کہ حکومتی ترجمانی بھی صرف مخصوص گروہ کی جانب سے ہو ۔’’دلاور عباس ‘‘ کے بیہمانہ قتل کے متعلق راقم کے گزشتہ تحریر پر حکومتی اس مخصوص حلقے کے فرد نے اعتراض بھی اٹھایا کہ اشرف صدا کا نام آپ نے ویسے ہی شامل کیا ہے جبکہ تمام کوششیں وزیراعلیٰ صاحب کی تھیں۔

حافظ حفیظ الرحمن پر بحیثیت وزیراعلیٰ علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خدمت سمیت مشکلات میں کمی کے لئے بھاری زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ تعمیر ترقی اور ترقیاتی منصوبوں سمیت بجٹ کے خرچ کرنے کی حد تک وزیراعلیٰ اپنی زمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھارہے ہیں لیکن یوں محسوس ہورہا ہے جیسے جی بی کے لئے صوبائی سطح کے فیصلے بھی خلا ء سے بن کر اتررہے ہیں اور انتظامیہ و دیگر عملدرآمد کے پیچھے پڑے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کی چاردیواری کو کئی فٹ بلند کرکے عوام اور عوام کے نمائندے کے درمیان واضح فاصلہ پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ بلند چار دیواری فلانگ کر عالیشان محل تک پہنچنا کے لئے بندے کے نام کے ساتھ صاحب لگنا لازمی ہے۔ عام آدمی کی پہنچ کی بات نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں سوائے سرکاری امور کے عوامی امور کی ایک بھی تصویر کبھی اخبار کو جاری نہیں ہوتی ہے ۔ عوام اور عوامی نمائندے کے درمیان پیدا شدہ یہ خلاء ایک غیر محسوس اور غیر اعلانیہ عدم اعتماد کا اشارہ کررہی ہے ۔ عوام کو اس بات سے زرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا ہے کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کو کتنا ’کاؤنٹر‘ کیا ہے ۔ البتہ اس بات پر عوام میں بے چینی ضرور پید ا ہوتی ہے کہ یکسر مسترد ہونے والی پیپلزپارٹی نے بھاری مینڈیٹ لینے والی مسلم لیگ ن کے ناک میں دم کررکھا ہے اور دم پر پاؤں رکھا ہے ۔ اعلیٰ حضرت اس بات کو محسوس کریں کہ ووٹ دینے والے آپ سے بلاواسطہ تعلق رکھنا چاہتے ہیں غیر منتخب اور زاتی ووٹ بھی مشکوک رکھنے والوں سے نہ توقعات ہیں ا ور نہ ہی توقعات میں کمی آسکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments