گلگت بلتستان کی عدالت برائے حکم امتناع

 سکندر علی زرین

عدالت کی بنیادی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے۔ مگر گلگت بلتستان میں عدالتیں عدل و انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے قائم ہیں۔ لگتا ہے یہاں کے کورٹ کا یہ عزم صمیم ہے کہ پڑھے لکھے افراد کو نوکری لینے نہیں دینا۔ اداروں میں میرٹ کے تحت اہل افراد بھرتی ہونے نہیں دینا۔ خطے میں بے روزگاری کو اور بڑھاوا دینا ہے۔ فیڈرل اور صوبائی سطح پر اعلان کردہ ہر دوسرے ٹیسٹ کو حکم امتناع کے ذریعے التوا میں ڈالنا ان عدالتوں کا مشغلہ بن چکا۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت آج سے جنرل ریکروٹمنٹ کے سلسلے میں 2018 کے اولین تحریری امتحانات ہو رہے ہیں۔ اکتوبر تا دسمبر 2017 میں مشتہر شدہ اسامیوں کے ٹیسٹ منعقد ہو رہے ہیں۔ نومبر 2017 میں گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت و ثقافت کی پوسٹیں بھی مشتہر ہوئی تھیں۔ “اسسٹنٹ ڈائرکٹر ٹوورزم”کی 7 اور “اسسٹنٹ ڈائرکٹر کلچر” کی ایک پوسٹ کے لئے بھی چھانٹی ٹیسٹ ہونا تھا۔ مگر خبر یہ ہے کہ مذکورہ اسامیوں پر بھرتیوں کو مقامی عدالت نے روک لیا ہے۔ محکمہ سیاحت و ثقافت صوبے کا سب سے اہم اور منفعت بخش ڈیپارٹمنٹ سمجھا جاتا ہے۔ یوں اندھے قانون کا سہارا لیتی عدالت نے 8 نوجوانوں پر کلچرل آفیسر بننے کا دروازہ بند کر دیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ان سٹے آرڈر عدالتوں کی مسند ہائے انصاف پر براجمان جج صاحبان نے اصول نصفت نہیں پڑھا۔ قانون اندھا ہوتا ہے مگر منصف کو چشم بینا کا حامل ہونا چاہئے۔ ان منصفین کو شاید بے جا سٹے آرڈر کے مضمرات اور اثرات کا نہیں اندازہ۔ بنا وجہ اور بغیر دلیل و وکیل حکم امتناع کا اجراء گلگت کی عدالتوں کا وطیرہ رہا ہے۔ ذیل میں چند کیسز کا حوالہ اور دیا جاتا ہے۔ اپریل 2014 میں ایف پی ایس سی کے تحت گلگت بلتستان کے کالجوں کے لئے تقریبا 70 لیکچررز اسامیوں کا اعلان ہوا۔ جون 2014 میں تحریری امتحان شیڈول تھا۔ مگر عدالت نے ان پوسٹوں پر بھرتیاں رکوا دیں۔ خدا خدا کر کے ڈھائی برس بعد حکم امتناع ختم ہوا۔ ایف پی ایس سی نے ترجیحی بنیادوں پر فوری ٹیسٹ منعقد کرائے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کے کالجوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے۔ ستمبر 2016 میں ٹیسٹ ہو گئے۔ 20 دنوں کے اندر نتائج بھی آگئے۔ مگر ایک بار پھر سٹے ہو گیا۔ کوئی شخص عدالت گیا، حکم امتناع لیا اور انٹرویو رکوا لیا۔ ہنوز یہ انٹرویوز نہیں ہو سکے۔ یعنی مقامی عدالت کے ایک غلط فیصلے نے ایک طرف کالجوں کو کولیفائیڈ اساتذہ سے محروم رکھا ہے تو دوسری جانب 70 اعلی ڈگری یافتہ نوجوانوں کو 5 سال سے دربدر رکھا ہوا ہے۔ تیسرا کیس : نومبر 2016 میں محکمہ تعلیم نے ایف پی ایس سی کے زریعے سبجییکٹ سپیشلسٹ کی 45 پوسٹیں مشتہر کرائیں۔ یہاں پھر عدالتی حکم امتناع آڑے آیا۔ اب تک یہ ٹیسٹ منعقد نہیں ہو سکے۔ یقین ہے کہ حکم امتناع لینے والا شخص ہی نہیں حکم امتناع دینے والی عدالت بھی اس کیس کو بھول چکی ہو گی، مگر نقصان ہوا علاقے میں تعلیم کا، خسارے میں رہے خطے کے پڑھے لکھے نوجوان۔ چوتھا کیس : محکمہ قانون میں ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کی 4 اور اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر کی 10 سیٹیں جون 2017 میں مشتہر ہوئیں۔ ایف پی ایس سی نے مقابلے کے امتحان کا شیدول بھی جاری کیا۔ 16 سے 18 ستمبر 2017 تک یہ امتحانات ہونے تھے۔ ایک بے روزگار اور فارغ البال وکیل کورٹ گیا۔ سٹے آرڈر لیا اور اہم ترین 14 عدالتی پوسٹوں کو مفت میں کھڈے لائن لگوا دیا۔ ممکن ہے اب تک گلگت بلتستان کے 14 قانون دان اور ایل ایل بی ڈگری یافتہ نوجوان پراسیکیوٹر بن چکے ہوتے مگر انصاف کے پہرے داروں سے یہ رہا نہ گیا اور سٹے کے ریلے میں یہ 14 قانونی پوسٹیں بھی بہا دیں۔ پانچواں کیس : 7 اپریل 2017 کو گلگت بلتستان کے صوبائی سطح کے مقابلے کے امتحان کا اعلان ہوا۔ ایف پی ایس سی نے 21 سے 27 جولائی 2017 تک امتحانات منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ یہاں بھی چیف کورٹ سٹے آرڈر لیکر حاضر ہوئی۔ مقابلے کے امتحان کو تا حکم ثانی روکنے کا حکم جاری ہوا۔ تمام امیدوار مایوس ہو گئے اور تیاری کرنے سے ہاتھ کھینچ لئے۔ 14 جولائی کو یہ خبر امیدواروں پر بجلی بن گر گری کہ ایک ہفتے بعد ٹیسٹ ہوں گے، سٹے آرڈر اٹھا لیا گیا ہے۔ یہاں امتحانات بر وقت ہو تو گئے تاہم عدالت کے سٹے آرڈر نے امیدواروں کو تیاری سے دور رکھا۔ یوں کئی اہل اور قابل نوجوان سٹے آرڈر کے دھوکے میں مار کھا گئے۔ گلگت بلتستان کے عوام اس بات پر شاکی نظر آتے ہیں کہ وفاق اور پنجاب یہاں کے قابل افراد کو اہم عہدوں پر فائز ہونے نہیں دیتے۔ مگر ہمیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ آستین کے سانپوں سے نپٹنا ہو گا۔ ججوں کو سمجھانا ہو گا اور حکم امتناع کو رکوانا ہو گا۔ لوٹنے والا ہی منصف ہے عدالت میں نہ جا سکندر علی زرین

آپ کی رائے

comments