ہوا کا رخ موڑ لینا ضروری ہے!!!

ذوالفقار علی کھرمنگی

بہت بڑا کالم نگار نہیں ہوں نہ ہی اس پیشے سے منسلک ہوں البتہ روح کی تسکین, زخم کے درد اور درد کی دوا کے لئیے اپنی احساسات کو کالم کی شکل میں ارباب اختیار اور معاشرے کے عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں .بات دراصل دل سے منسلک جذبات کی ہیے اسی لئیے لکھنے پر مجبور ہوں ورنہ ہماری ضرویات زندگی خود ہی کافی ہیے ہمارے چھوٹے اور کمزور دل کی افسردگی بڑھانے کے لئیے.سوچتا ہوں کھبی کھبی مجنوں ہوتا تو بہتر تھا صرف لیلیٰ کے غم میں مست رہتا مگر کیا کریں ہماری لیلیٰ کوئی حضرت انسان مخصوص نہیں بلکہ معاشرے کے ہر وہ ظلم سہتے انسان بن گیا ہیے جس سے کھبی تعلق ہی نہ رہا ہوں.باتوں کو گھما پھیرا کے کہنے کی عادت ہیے نہ اس قابل ہوں کہ الفاظ کے خوبصورت باغیچہ بنا لوں بس درد دل کے واسطے لکھنے کی عادت ہیے تو اسی راہ پر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں.روز رونما ہونے والے جرائم کے واقعات سن کر مجھ سمیت ہر انسان کا دل دہل جانا فطری عمل ہیے.اور جب ایسے حادثات تواتر کے ساتھ جاری رہیے تو کفیات دل کچھ اور بیان کرتا ہیے.ہمارے ملک میں ہونے والے واقعات نے ہر ذی شعور رکھنے والے انسانوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہیے.کھبی قصور کی بے قصور زینب کی یاد رولاتی ہیے تو کھبی دیار غیر میں بے کسی کے عالم میں بے وطن مسافر دلاور عباس کی میزبانوں کے ہاتھوں بے دردی سے تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہوا لمحہ.کھبی کراچی کی انتظار سونے نہیں دیتی ہیے تو کھبی کوئٹہ کی بے بس بیٹی جو اپنے ہی رشتے کے ہاتھوں ذیادتی کے نشانہ بن جاتی روداد.کوہاٹ میں رشتہ نہ دینے پر عاصمہ کی قتل ہو یا جنوبی پنجاب کے غریب ہاریوں پر ہونے والے ظلم وستم کے پہاڑ ہر طرف دل میں افراتفری پید کرتی ہیں . کیونکہ انصاف نامی کوئی شے نظر نہیں آرہا .ظالم دن بدن مضبوط ,مجرم پیشہ ور اور مظلوم ظلم سہے جا رہیے ہیں .کیا اسی لئیے ہمارے آباواجداد نے لاشوں کی قربانی دی تھی .کیا اسی لئیے ہمارے ملک عزیز پاکستان کو حاصل کیا تھا .یہاں کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہیے کھبی مذہبی تعصب کا بھینٹ چڑھتا ہیے تو کھبی مسلکی و نسلی اقلیت کو چن چن کر مارا جاتا ہیے.ایسے پاکستان کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح نے تو نہیں دیکھا تھا جس میں انصاف نامی کوئی شیے موجود نہ ہو .جس میں ناموس کی حفاظت ممکن نہ ہو جس میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہ ہو.پشاور ,قصور ,کوئٹہ ,لاہور سمیت ملک کے کونے کونے میں ہونے والے مختلف نوعیت کے جرائم و واقعات نے ہر انسان کو افسردہ کر دیا ہیے.اب بھی وقت ہیے اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئیے کام کرنے کا.حکومت ,خاندان ,اسکول اور دوسرے معاشرتی ادروں کو سنجیدگی سے سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہیے.خاندان کو بچوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہیے.حکومت کو قانوں کی بالادستی اور رٹ کو قائم کرنے کی ضرورت ہیے.استاد کو مقدس پیشے کو حقیقی طور پر مقدس بنا کر تربیت دینے کی ضرورت ہیے.نوحوانوں کو سنجیدگی کے ساتھ بے کرایہ سکیورٹی فورس بنے کی ضرورت ہیے.ماوّں کو تربیت اولاد کو فوقیت دینے کی ضرورت ہیے.انصاف کے ادارے کا انصاف کی فوری فراہمی سے مشروط ہیے.ہر فرد کو اپنے اپنے فرائض سمجھنے کی ضرورت ہیے پھر دیکھیے حالات کا رخ کس جانب موڑ جاتا ہیے .آئے معاشرے سے انواع اقسام کے سماجی برائیوں کے خاتمے کے لئیے ایک دوسرے کے بازو بن جاتا ہیے تاکہ ہمارا نام بھی انسانیت کے چمپین میں شامل ہو.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments