اللہ سے شکوہ! میں ہی کیوں؟

اپنی رہائش گاہ کریم منزل میں بیتی اوائل جنوری کی وہ رات قدرے خنک اور سرد تھی۔ نسالو (شینا۔ سردیوں کے لیے محفوظ کیا گیا گوشت) دسترخوان کی زینت بنا تھا۔ کچھ رشتہ دار بھی مدعو تھے۔ اتنے میں موبائل کی آواز نے مجھے دسترخواں سے اٹھنے اور باہر جاکے فون سننے پر مجبور کیا تھا۔ گاؤں میں سگنلز کا مسلہ ہوتا ہے اور گھر کے اندر تو سگلز بہت ہی کم آتے ہیں اس لیے ضروری کالز سننے کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ سو، مجھے بھی باہر نکلنا پڑا۔ یہ کال آغا خان ہسپتال کراچی سے میری بیٹی کے ڈاکٹر صاحب کی طرف سے تھی۔ بیٹی کا پچھلے سال مذکوہ ہسپتال میں ہڈیوں کا آپریشن ہوا تھا۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہر چھے مہینے بعد انہیں بیٹی کا ایکسرے بیجھنا ہوتا تھا تاکہ ان سے آپریشن کے بعد کی پراگریس معلوم کیا جاسکے۔ پہلے چھے ماہ کی رپورٹ اچھی تھی۔ جبکہ اس دفعہ ڈاکٹر صاحب کی آواز میں قدرے مایوسی تھی۔ جب میں نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف ڈاکٹر کی قدرے مایوس آواز سماعت سے ٹکرائی۔ وہ مسلسل بول رہے تھے: ’’سر! بچی کا ایکسرے ملا۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ البتہ دوبارہ آپریشن کرنا پڑے گا۔ ہڈی اپنی جگہ سے ہلی ہے۔‘‘ میری طرف سے مسلسل خاموشی ڈاکٹر صاحب کے لیے اچنبے کی بات نہیں تھی۔ کتنا مشکل ہوتا ہے کہ جب آپ سے ڈاکٹر آپ کی بیٹی کا دوبارہ آپریشن کا بھی کہے اور پریشان نہ ہونے کی بھی تاکید کرے۔ میرے ذہن میں ہزار سوال پیدا ہوئے کہ ہم سے بہتر نگہداشت نہیں ہوئی یا ڈاکٹر صاحب کی طرف سے غفلت تھی۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ میں نے فون کاٹ دی۔ آخر ایسا کیوں ہوا۔ سال بھر بیٹی کا خیال رکھنے کے باوجود پھر دوبارہ آپریشن؟ یااللہ! یہ کیا امتحان ہے آخر اس امتحان کے لیے میں ہی کیوں؟ یہ سوال کئی بار ذہن میں گردش کرتا رہا۔ شاید خاکم بدہن میں اللہ سے شکوہ کر رہا تھا۔ اس اثنا نسالو کا گوشت کہیں پس منظر میں چلا گیا تھا جب میں نے یہ خبر دسترخواں پر موجود افرادِ خانہ سے شئیر کیا تو سب نے تسلی دی اور کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اللہ بہتر کرے گا۔ ہر چیز میں مصلحت ہوتی ہے۔ تسلی دینا کتنا آسان کام ہے نا۔ کسی کو صبر کی تلقین  کرنا یا نصیحت کرنا بہت آسان لیکن جب ان حالات سے خود واستہ پڑتا ہے تو تسلی کام نہیں آتی۔

پھر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہم نے ایک دفعہ پھر آغا خان ہسپتال کے لیے رختِ سفر باندھا۔ جہاں امی ابو نے باہر گیٹ تک آکے بے پناہ دُعاؤں کے ساتھ ہمیں رخصت کیا وہاں میری مسز سوسن قرآن پاک ہاتھ میں لیے ہمیں اس پاک کتاب کے سائے میں الواداع کر رہی تھی۔ بڑی بہن اور منجلی بہن بھی ہمیں الوداع کہنے آئی تھیں۔ چھوٹی بہن کے ہاتھ میں ایک تھالی تھی جس میں تھوڑا آٹا اور نمک تھا۔ ہم نے اس پہ ہاتھ رکھا۔ یہ ہمارے خاندان کی روایت ہے کہ سفر پہ جانے والوں پہ تھوڑا بہت صدقہ دیا جاتا ہے۔ ماں باپ اور بہنوں کی دعاؤں اور رب کائنات کی اس پاک و پاکیزہ کتاب قرآن پاک کی برکت سے سفر بخیر رہا اور ہم ایک دفعہ پھر شہر قائد کے مہمان بنے تھے۔ بیٹی کے معمول کے چیک اپ کے بعد آج ایڈمت ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ کل آپریشن ہوگا۔ انشااللہ!

اپنی کتاب دوستی اور پڑھنے کی عادت سے مجبور آج اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے میں آغا خان ہسپتال کی لائبریری کا وزٹ کر رہا تھا۔ کیونکہ آج شام کو بیٹی کو دوسری بار آپریشن کے لیے ایڈمٹ ہونا تھا اس لیے ہمارے پاس وقت تھا اس وقت کو لائبریری میں گزارنا چاہتا تھا۔ علمی اکابرین کا کہنا ہے کہ پریشانی جب حد سے بڑھ جائے تو کتابوں میں سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔ اس لیے ہم بھی سکون کی تلاش میں لائبریری میں وقت بیتا رہے تھے۔ لائبریری کی میز پر پڑا ایک میگزین میں چھپی آرتھر آشے کی کہانی میری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی۔ آرتھر آشے امریکہ کا نمبر وَن ٹینس پلیئر تھا۔ وہ عوام میں بے حد مقبول تھا، اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ وہ عالمی سطح کا ایک مقبول اور بہترین کھلاڑی تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب آپ کسی بھی شعبہ میں سب سے بہترین کے درجے پر پہنچتے اور عروج حاصل کر لیتے  ہیں تو آپ ہر خاص و عام کے ہر دل عزیز بن جاتے ہیں۔ دلوں کی دھڑکن کا درجہ پا لیتے ہیں۔ پھر جب آپ کسی حادثے کا شکار ہوتے ہیں تو آپ کے چاہنے والے آپ سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ اسی طرح آرتھر کو ایک حادثے کے بعد ہسپتال میں انتہائی غفلت کے ساتھ معالجین نے ایڈز کے مریض کا خون لگا دیا، جس کے عوض آرتھر کو بھی ایڈز ہو گیا۔

جب وہ بستر مرگ پر تھا، اسے دنیا بھر سے اس کے چاہنے والوں اور پرستاروں کے خطوط آتے تھے۔  اس کے ایک مداح  نے خط بھیجا، جس میں لکھا ہوا تھا:

’’خدا نے اس خوف ناک بیماری کے لیے تمہیں ہی کیوں چنا؟‘‘

آرتھر نے صرف اس ایک خط کا جواب دیا۔ آرتھر خط کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دُنیا بھر میں پانچ کروڑ سے زائد بچے ٹینس کھیلنا شروع کرتے ہیں اور ان میں سے پچاس لاکھ  ٹینس کھیلنا سیکھ پاتے ہیں۔ ان پچاس لاکھ میں سے پچاس ہزار ہی ٹینس کے سرکل میں داخل ہوتے ہیں۔ جہاں ڈومیسٹک سے انٹرنیشنل لیول تک کھیل پاتے ہیں۔ ان پچاس ہزار میں سے پانچ ہزار ہیں جو گرینڈ سلام تک پہنچ پاتے ہیں۔ ان پچاس ہزار میں سے پچاس ہی ہیں جو ومبلڈن تک پہنچتے ہیں، اور ان پچاس میں سے محض چار ہوتے ہیں جو ومبلڈن کے سیمی فائنل تک پہنچ پاتے ہیں۔ ان چار کھلاڑیوں میں سے صرف دو کھلاڑی ہی فائنل تک پہنچ پاتے ہیں۔  ان دو میں سے محض ایک ہی فاتح قرار پاتا اور ٹرافی اٹھاتا ہے۔ یاد رہے کہ وہ ٹرافی جیتنے والا پانچ کروڑ میں سے چنا جاتا ہے۔  وہ ٹرافی اٹھانے کے بعد میں نے کبھی خدا سے نہیں پوچھا کہ’’میں ہی کیوں؟‘‘۔ لہذا آج اگر مجھے درد مل رہا ہے، تو میں خدا سے شکوے شروع کر دوں کہ ’’میں ہی کیوں؟‘‘ جب ہم نے اپنے اچھے وقتوں میں خدا سے کبھی نہیں پوچھا کہ ’’وائے می‘‘ یعنی میں ہی کیوں؟ تو ہم برے وقتوں میں کیوں پوچھیں کہ ’’وائے می‘‘ یعنی میں ہی کیوں؟‘‘

اس واقعہ کو سننے کے بعد میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میں بھی آرتھر آشے کی طرح اپنی کامیابیوں کے بارے میں سوچنے لگا تھا اور رب کی نوازشات کو گننے لگا تھا ارے! وہ آدمی جس نے میڑک کا امتحان بھی پرائیوٹ دیا ہو۔ کالج اور یونیورسٹی کو خواب میں بھی نہ دیکھا ہو یہ الگ بات کہ کالج، یونیورسٹی اور مختلف سمینارز میں لیکچرز لینے نہیں بلکہ دینے گیا ہو۔ کسی پی ایچ ڈی ڈاکٹر سے پڑھا نہیں ہو البتہ انہیں پڑھایا ہو۔ لوگ ڈگریوں کا انبھار لینے کے باوجود خط تک لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ نوجوانی میں ہی درجن بھر کتابوں کا مصنف ہو۔ لوگ اس کی تحریریں پڑھے بغیر ناشتہ نہ کرتے ہوں۔ جو احساسات کو الفاظ میں منتقل کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ یہ سب کامیابیاں تمہیں ںظر نہیں آئیں۔ تب تم نے نہیں کہا کہ ’’میں ہی کیوں؟‘‘ میں نے خود کو ٹوکا تھا۔ شرمندہ ہو رہا تھا۔ میں تو خاک کا ایک ذرہ ہوں مجھ سے بہت بہتر لوگ معاشرے میں ہیں کوئی ان کو گھاس تک نہیں ڈالتا۔ مجھے سنتے ہیں قدر افزائی کرتے ہیں۔ محفل میں سب سے اوپر بٹھایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ میں بہت قابل ہوں نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ میں کتنا پانی میں ہوں یہ مجھے پتہ ہے۔ لیکن یہ سب تیرے کرم ہے مولا۔ تو جس کو عزت دے کس کی مجال اس کی برابری کرے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے میں کہیں پہ لیکچر دے رہا تھا سیشن میں کچھ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز بھی تھے باتیں غالباً روحانیت پہ ہو رہی تھیں ایک ڈاکٹر نے سوال پوچھا! ’’سر! اپنی زندگی کا کوئی معجزہ کوئی انہونی بات شئیر کرنا چاہیں گے؟‘‘ کہتے ہیں کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ آپ بس اسٹیج پہ کھڑے ہوتے ہیں بولتا وہ خود ہے۔ بقول حفیظ استاد ’’وہ مجھ میں بولتا ہے میں نہیں ہوں‘‘ بالکل میری فیلنگز بھی ایسی ہی تھیں۔ اس محترم ڈاکٹر صاحب کے سوال کے جواب میں، میں نے فی البدیہہ کہا تھا ’’اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میں خود تو کسی کالج یونیورسٹی سے باقاعدہ فارغ التحصیل نہیں باؤجود اس کے آپ جیسے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کو پڑھا رہا ہوں۔ آئی تھنک یہ میرے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ سن کے ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ ان احساسات اور رب کی نوازشات پہ تو میں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ ’’میں ہی کیوں؟‘‘ آج جب میری بیٹی آپریشن تھیٹر جا رہی ہے تو لبوں پہ شکوہ کی گستاخی کیوں۔ یا اللہ! مجھے معاف کر دیجئیے گا۔ رب سے معافی کے ساتھ میں اس عزم کا اعادہ کر رہا تھا، اس مشکل وقت میں اب اللہ سے شکوہ نہیں بلکہ رجوع کرنا ہوگا۔ صبر، شکر اور دُعا کو اپنا سہارا بنانا ہوگا۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام پریشان حال لوگوں کی مدد فرمائے اور انہیں ارضی و سماوی آفات سے محفوظ رکھے جن کے منہ سے تکلیف کے لمحوں میں اللہ کے لیے شکر کے بجائے شکوہ ادا ہو جاتا ہے۔

تمام خیرخواہوں سے میری دختر نیک اختر آشا سوزین کریمی کے کامیاب آپریشن اور جلد صحت یابی کے لیے دُعا کی استدعا ہے۔ کہتے ہیں جہاں دوا کام کرنا چھوڑ دیتی ہے وہاں دُعا اپنا اثر دکھاتی ہے۔

آپ کی رائے

comments