تجزیاتی رپورٹ: ضلع ہنزہ کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے مسائل حل کیوں نہیں ہورہے؟

ہنزہ (تجزیاتی رپورٹ: اجلال حسین ) گزشتہ کئی سالوں سے عوام ہنزہ مختلف مسائل سے دو چار ہیں۔ عوامی مسائل کو ہمدردی سے سننے اور ان مسائل کو حل کرنے پر نہ سیاسی رہنما توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی انتظامیہ۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران ضلع بھر میں عوام کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں سرفہرست بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ، تعلیمی اداروں کی خستہ حالی ،بعض تعلیمی عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ، اور سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کی روز بروز گراوٹ کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات کی کمی کے مسائل ہیں۔

قانون ساز اسمبلی میں غیر متوازن نمائندگی:

سرکاری لسٹ کے مطابق ہنزہ میں ووٹرز کی تعداد 36 ہزار سے زائد ہے، لیکن اس بڑی آبادی کے لئے محض ایک سیٹ اسمبلی میں مختص کیا گیا ہے۔ حالانکہ بہت سارے اضلاع میں گیارہ ہزار سے لے کر 16 ہزار ووٹرز کو الگ نمائندے دئیے گئے ہیں۔ ہنزہ کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں ہورہاہے، اس پر سب کے لب سلے ہوے ہیں۔

بجلی کا بحران:

ہنزہ کا بجلی بحران اب ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے خرچنے کے باوجود بجلی کے منصوبے طویل ہوتے جارہے ہیں۔ مسگر میں دو میگا واٹ منصوبے سے بجلی کی ترسیل کا دعوی جھوٹا ثابت ہوچکا ہے۔ صرف زبانی جمع خرچ پر عوامی نمائندے اور سرکاری بابو گزارہ کر رہے ہیں۔

ناکام اور زیر التوا ترقیاتی منصوبے:

ہنزہ بھر میں بہت سارے ایسے ترقیاتی منصوبے ہیں جو کئی سالوں سے التوا کا شکار ہیں۔ ان میں بجلی فراہمی کے منصوبے، سکولوں کی عمارتیں، ڈسپنسری اور دیگر انتہائی اہم منصوبے شامل ہیں۔ ان میں سے بعض منصوبوں کو شروع کئے ہوے دس سال سے زائد گزر چکے ہیں اور ٹھیکیدار رقوم لے کر رفو چکر ہوچکےہیں، جبکہ سرکاری کاغذات میں بیوروکریٹس کی ملی بھگت سے انہیں مکمل منصوبے قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً مورخون (جمال آباد) میں پرائمری سکول کی عمارت، اور سوست میں ہائی سکول کی عمارت، جو طلبہ کی زندگیوں کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔

انتظامی تقسیم:

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران کئے جانے والے اعلانات میں بالائی ہنزہ (گوجال) کو سب ڈویژن قرار دینے اور شیناکی (زیریں ہنزہ) کو تحصیل بنانا شامل تھا۔ تین سال بعد بھی ان اعلانات پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اور اس وقت عملاً ضلع ہنزہ ایک ہی سب ڈویژن پر مشتمل ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد انتظامی سسٹم ہے۔

شاہراہ قراقرم کے معاوضہ جات:

شاہراہ قراقرم گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ ضلع ہنزہ کی سرزمین پر سے گزرتی ہے۔ خنجراب سے لے کر ناصر آباد تک سینکڑوں کلومیٹرز سے شاہراہ قراقرم گزرتی ہے۔ اسلئے توسیعی منصوبے کے دوران ہزاروں کاشتکاروں کی زمینیں متاثر ہوئیں۔ باغات، کھیت اور پھلدار و غیر پھلدار درختوں کو بے دریغ کاٹا گیا، اور کسانوں کو کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تاپم، توسیعی منصوبے پر کام کا آغاز ہوے ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک ان کاشتکاروں کو معاوضے نہیں دئیے گئے ہیں۔ خصوصاً بالائی ہنزہ (گوجال) میں کسی ایک شخص کو ایک دھیلا بھی نہیں دیا گیا۔ جن علاقوں میں معاوضے دئیے گئے ہیں ان کی زمینیں کوڑیوں کے مول خریدے گئے ہیں۔

زمینوں کی قیمت:

زمینوں کا معاوضہ سرکاری حساب سے اس وقت 9 لاکھ سے 14 لاکھ فی کنال ہے جو عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ حالانکہ، بہت سارے علاقوں، خصوصاً ہیڈ کواٹر علی آباد ، کریم آباد، گلمت ، سوست اور ناصر آباد میں زمین کی مارکیٹ قیمت  (سرکاری نرخ سے ہٹ کر) فی کنال 40 لاکھ روپے تک ہے۔ اس حساب سے سرکاری ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے زمین کے معاوضے میں اضافہ کرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ ہنزہ کی جانب سے نئی قیمتوں کی سفارشات بالا حکام تک پہنچایا مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہیں۔

صحت اور تعلیم کے مسائل:

 ضلع میں صحت کی سہولیات اور تعلیم کا معیار بڑھنے کی بجائے گراوٹ کا شکار ہے۔ تعلیمی اداروں کی عمارتیں زمین بوس ہونے والی ہیں، لیکن سرکاری خزانے کا منہ بند ہے۔ زلزلے کی وجہ سے متاثر ہونے والی بعض عمارتیں تاحال مرمت طلب ہیں۔ عوام قابل اساتذہ کی تعیناتی کے باجود عوام اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں داخل کرواتے ہیں اور نجی تعلیمی اداروں پر کوئی نگرانی نہیں جس کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے بھی کاروبار بن چکے ہیں۔

ضلع ہنزہ کے شہری علاقوں میں صحت کے مراکز تو ہیں مگر ان میں ڈاکٹرز میسیر ہے اور نہ ہی دوائیاں۔ مضافاتی علاقوں سے بڑی توقعات کے ساتھ مریض مرکزی ہنزہ جاتے ہیں مگر ہسپتالوں میں داکٹر ز اور ادویات کی کمی ہونے کی وجہ سے مریض گھر بار اور جائیدادئیں فروخت کرکے گلگت۔ اسلام آباد، لاہور یا پھر کراچی چلے جاتے ہیں۔ دوردراز کے علاقوں میں ہسپتالوں کے منصوبوں کے اعلانات تو ہوے ہیں، لیکن عملی کام صفر ہے۔

ضلع ہنزہ کے مختلف علاقوں کے نمبرداران ، سیاسی و سماجی عہداداران کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز کو علاقے کے مسائل از خود سننے اور دیکھنے کی کئی بار دعوتیں بھی دی جاچکی ہیں، لیکن انہیں پاکستان کو چین اور افغانستان کے ساتھ منسلک کرنے والے ضلعے کے عوام کے ساتھ ملاقات کی فرصت نہیں ہے۔

حکومتی اور انتظامی عہدیداروں کی عدم توجہ:

گزشتہ تین سالوں سے عوام ہنزہ نہایت بے چینی سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے دروے کے منتظر ہیں، مگر اپنی مدت کے تین سال اختتام ہونے کے بعد بھی حافظ حفیظ الرحمن کو عوام کا حال دیکھنے اور ان کے مسائل سننے کی فرصت نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دیگر اضلاع میں متواتر جاتے ہیں، اور ان کے لئے اربوں روپوں کے منصوبوں کے اعلانات بھی کرتے ہیں اور افتتاح وغیرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔

اعلی حکومتی عہدیداروں کی روش دیکھ کر سرکاری افسران بھی طوطا چشم ہو گئے ہیں۔ بعض سیکریٹریز نے اپنے لئے ہنزہ کو از خود نوگو ایریا بنا دیا ہے۔ اگر جاتے بھی ہیں تو سیر و تفریح کے لئے، اپنے بیوی اور بچوں سمیت عطاآباد جھیل دیکھنے، یا سرکاری خرچ پر خنجراب و بلتت فورٹ کی سیر کرنے۔

بعض چیف سیکریٹریز نے دورے بہت کئے، لیکن مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔ عوامی مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ زبانی جمع خرچ اور چرب زبانی سے مسائل حل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، جو اس اہم اور حساس خظے کے عوام میں بددلی اور بداعتمادی کو فروغ دے رہے ہیں۔

میڈیا سروے کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں عوام ہنزہ کاوزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن اورحالیہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز کا نوزائیدہ ضلع کے مسائل حل کرنے کے لئے علاقے کا دورہ نہ کرنے کی وجہ سے عوام میں انتہائی بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔

علاقے کے منتخب و غیر منتخب نمائندے عوام کو نہ سردی میں دیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی گرمیوں میں۔ ان کے اپنے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ عوام ہنزہ اپنے مسائل حل کروانے کے لئے اب جائیں تو کہاں جائیں؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments