چترال کا بجلی نامہ

چترال کا بجلی نامہ ملک کے پہاڑی اور میدانی علاقوں کے لئے ناکام ماڈ ل ہے، نا پائیداری کا نمونہ ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ روز چترال میں 33سال پرانے گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے پہلے یونٹ کا افتتاح کیا۔اس بجلی گھر کی استعداد 108میگا واٹ ہے۔ پہلا یونٹ 36میگا واٹ کا ہے۔ افتتاح کے ساتھ ہی لوگوں نے 12میگا واٹ صلاحیت والے 128چھوٹے پن بجلی گھروں کو چھوڑ کر نئے بجلی گھر کی طرف رجوع کیا۔صوبائی سطح پر سابق ادوار میں شائیڈو ( SHYDO)کے بنائے ہوئے 6میگا واٹ کے دو بجلی گھروں کو ناکارہ حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ یوں 18میگا واٹ کی وہ بجلی ضائع جانے والی ہے۔ جو اب تک عوام کے لئے رگِ جان کی حیثیت رکھتی تھی۔ جن دیہات میں 24گھنٹے کی سستی بجلی دستیاب ہے۔ آٹا مشین، آرہ مشین، ویلڈنگ مشین بجلی سے چلتی ہے۔ 24گھنٹے گرمائش اور کھانا پکانے کے لئے بجلی ملتی ہے۔وہ بھی نئے بجلی گھر سے مہنگی بجلی لینے کے لئے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔ یہ1986ء کی بات ہے جب چترال میں چھوٹے پن بجلی گھروں پر کام شروع ہوا۔ عطیہ دینے والے ممالک کے تعاون سے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے 50کے وی ، 100کے وی اور 200کے وی کے چھوٹے بجلی گھر بناکر کمیونٹی کے حوالے کئے۔ کمیونٹی کے اندر دو چار ہنر مندوں کی تربیت کی گئی ان ہنر مندوں نے انتظام سنبھال لیا ۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP)اور سرحد رورل سپورٹ پروگرام (SRSP) کو ان بجلی گھروں کے لئے بین الاقوامی ایوارڈ بھی دیئے گئے۔ ان کو دنیا میں کامیاب نمونہ ( success story)کا درجہ دیا گیا۔اس کے بعد سول سوسائٹی کی تنظیموں نے 400کے وی اور 600کے وی کے بجلی گھر بنانے پر توجہ دی۔یہ بجلی گھر کامیاب ہوئے۔ کمیونٹی نے ان کو چلانے کا بہترین نظم و نسق دکھایا۔ 2400گھرانوں کی آبادی نے 75لاکھ روپے کا فنڈ اکھٹا کرکے دیا۔ یوں قربانی اور سلیقہ مندی کی مثال قائم کی۔2016ء میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP)کے اندرونی حلقوں سے یہ خبریں آنے لگیں کہ چھوٹے پن بجلی گھروں کو مربوط طریقے سے گرڈ میں ڈال کر کسی بڑی ڈسٹری بیوشن کمپنی یعنی (PEDO) کے ہاتھ فروخت کرنے پر غور ہورہا ہے۔ SRSP کی طرف سے بھی اسی طرح کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ مگر یہ منصوبہ بندی درمیاں میں اٹک کر رہ گئی۔کسی سیانے کا قول ہے کہ ’’ بیشک سوچو مگر اتنا بھی نہ سوچو کہ تم سوچتے رہ جاؤ اور دُنیا آگے نکل جائے‘‘۔چترال کی سول سوسائٹی کے ساتھ ایسا ہی سانحہ پیش آیا۔یہ لوگ سوچتے رہ گئے اور گولین گول کی بجلی آگئی۔پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کے ساتھ صوبائی بیوروکریسی نے بڑا ہاتھ کیا۔ ریشن کے مقام پر 1990ء کی دہائی میں شائیڈو (SHYDO) نے 4میگا واٹ کا بجلی گھر تعمیر کیا تھا ۔ اس کی مشینری جولائی 2015 ء کے سیلاب میں بہہ گئی تب تک SHYDO کی جگہ PEDOلے رکھی تھی۔ 80ہزار آبادی کے بجلی گھر کے لئے نئی مشینری کی تنصیب کے ساتھ بجلی گھر کی بحالی پر 6مہینے لگتے تھے اور گیارہ کروڑ روپے خرچہ آتا تھا۔ بیورو کریسی نے 80کروڑ کا بجٹ بنایا اور 3 سال کی مدت دکھائی۔ یوں بجلی گھر کے لئے فنڈ نہ مل سکا۔ ریشن کے ایک کارٹونسٹ نے سوشل میڈیا میں کارٹون دیاہے۔ چند لوگ ایک قبر پر فاتحہ پڑ ھ رہے ہیں۔ پس منظر میں بجلی گھر کے کھنڈرات کا نقشہ ہے اور سامنے قبر پر کتبہ لگا ہے’’ پیڈو مرحو م تاریخ وفات جولائی 2015‘‘ کارٹونسٹ سے پوچھا گیا تو انہوں نے الٹا سوال کیا تاش کی بازی میں ’’ رنگ‘‘ کی کیا اہمیت ہے ؟ میں نے کہا کھلاڑ ی اپنا یکہ اور بادشاہ مناسب وقت پر میدان میں نہ لائے تو رنگ کا معمولی پتہ اس کو مات دے دیتا ہے۔ کارٹونسٹ نے کہا پیڈو کا ایسا ہی حشر ہوا ہے۔ ریشن بجلی گھر کو دسمبر 2015ء یا مارچ 2016ء میں بحال ہونا تھا، جون 2017ء یا دسمبر 2017ء تک بحال ہوجاتا تو پیڈو کی عزت بچ جاتی اس کا اثاثہ محفوظ ہوجاتا۔ مگر بیوروکریسی نے اس کو بحال نہ ہونے دیا۔ اب اس کی ٹرانسمیشن لائنیں گولین گول کو دی جارہی ہیں۔PESCOان لائنوں کا قبضہ لے رہا ہے۔ ’’ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘یہی حال بروز اور ایون کی 30ہزار آبادی کا ہے۔ اس آبادی کو محمد خان اینڈ کمپنی کے 600کے وی نجی بجلی گھر سے بجلی ملتی ہے۔ اب اس آبادی نے گولین گول کی بجلی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ گویا ایک اور بجلی گھر ناکارہ ہونے جارہا ہے۔ دنیا بھر میں پائیدار ترقی کا ذکر ہورہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قوموں کے لئے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)مقرر کئے ہیں۔دوسری طرف ہم ہیں کہ 18میگاواٹ بجلی کو ضائع کرنے جارہے ہیں۔ حالات اور وقت کا تقاضا یہ ہے کہ PEDO سول سوسائٹی اور نجی کمپنی والے مل بیٹھ کر اپنی بجلی گرڈ (GRID) کو دینے کے لئے لائحہ عمل مرتب کریں ۔ PESCOکے ساتھ مذاکرات کر کے چھوٹے پن بجلی گھروں کی بجلی گرڈ GRIDتک لے آئیں تاکہ توانائی کا ضیاع نہ ہو۔ 18میگاواٹ بجلی بہت بڑی دولت ہے۔ اس کا ضیاع ہوا تو چترال کا بجلی نامہ خوشحال خان خٹک کا ’’سوات نامہ‘‘ بن جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments