23مارچ اور موجودہ پاکستان

ممتازعباس شگری

23 مارچ 1940تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جس دن پاکستان کے نام سے ایک الگ ریاست تشکیل دینے کی جدوجہد کااعلان ہوا۔اس اعلان کو قراردادپاکستان کا نام دیا گیا۔یہ قرارداراسی دن لاہورمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق نے پیش کی اس اجلاس میں تا حد نظرلوگ تھا۔جوش وجنون سب کی لہو میں ڈوررہا تھا ۔انکھوں میں انسوتھا ساتھ بیٹھے لوگوں کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہیں تھالیکن پھر بھی وہ سب ایک ہی احساس کے مالامیں پروئے ہوئے لوگ تھے۔ان سب کے دل ایک تھا زبان پر صرف اورصرف ایک ہی نعرہ تھا “لے کے رہیں گے پاکستان ،بن کے رہے گاپاکستان”ان لوگوں کی نہ کوئی زمین تھی نہ زمین کے حصول کیلئے وہ سب اکھٹے تھے۔اس میں نہ کوئی سندھی تھا نہ کوئی بلوچی تھا نہ کوئی پنجابی تھا اور نہ کوئی پشتون تھا ۔وہاں پرسب کے سب مسلمان تھا ان کی ایک ہی خوہش تھی کہ مسلمانوں کا ایک الگ ریاست ہو جہاں پرمسلمانوں کی حکمرانی ہو۔ تاکہ مسلمان آپس میں خوشخال ہوکربھائی بھائی بن کررہ سکیں۔

لاہورکے اس اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور ہونے کی دیرتھی ہندوں نے آسمان سرپر اُٹھا لیااس قراردادکو تسلیم کرنے سے صاف انکارکرتے ہوئے آوازبلندکرنا شروع کردیا۔گلی کوچوں میں نعرے لگنے لگے کہ “جومانے گا پاکستان اس کو دے گاقبرستان”کانگریس کی قیادت میں اس نعرے میں تعصب،تشدداورخونریزی کی بو تھی۔حالانکہ مسلم لیگ کا مطالبہ پُرامن تھا آئین اورجمہوریت کے دائرے میں تھااس کے مدمقابل کانگریس اوران کے چیلوں کارویہ پرتشددتھا۔انہوں نے اپنے ماتحت اخباروں میں بھی قرارداد لاہورکے خلاف زہر اگلنا شروع کردیے۔ماڈرن ریویو نے لکھا کہ جناح اور اس کے حواریوں کے علاوہ باقی تمام لوگ اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان سکیم نہ صرف ہندوستانی قوم کیلئے بلکہ مسلمانوں کیلئے بھی نقصان دہ ہیں۔گاندھی نے چھ اپریل 1940کو اپنے اخبارہریجن میں لکھا کہ”میراخیال ہے کہ مسلمان تقسیم کو قبول نہیں کریں گے ان کے مذہب انہیں اس طرح کے کھلی خودکشی کی اجازت نہیں دے گا ۔دوقومی نظریہ ایک جھوٹ ہے ۔تقسیم کا مطلب بے شمارہندوں اور مسلمانوں کے کام کو تباہ وبربادکرنا ہے میری روح اس نقطہ نظر کیخلاف بغاوت کرتی ہے ۔ ہندو اوراسلام دو الگ الگ عقیدوں اور متضادتہذیبوں کا نام ہے۔ہم سب ایک ہی خداکے بندے ہیں یقیناًاس خیا ل کیخلاف بغاوت کروں گاکہ کروڑوں ہندوستانی جو کل تک ہندو تھے اپنا مذہب بدلنے کیوجہ سے اپنی قومیت بھی بدل سکتے ہیں “

ا ن سب مخالفتوں کے باوجودہمارے آبا و اجداد الگ ریاست بنانے میں کامیاب ہوگئے ،ہم ہر سال 23مارچ کو بڑی شان وشوکت سے منا رہے ہیں ،77سال گزرنے کے باوجودبھی ہم اس شان وشوکت سے یہ دن منا رہے ہیں جیسے دنیا کی پہلی،دوسری یا تیسری طاقت بن گیا ہو،جیسے پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی ممالک کی سربراہی کرنے کے قابل ہوگیاہو۔جیسے پاکستان خودمختارملک بن گیا ہو۔جیسے وطن عزیراپنے پاوں پہ کھڑاہونے کے قابل ہو گیا ہواورجیسے یہاں کی قیادت غیرت مندہوکرتمام عوامی مسائل حل کردے گئے ہو۔مگراسکے برعکس گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان کمزورسے کمزورترہوگیا ہے۔مہنگائی نے عام آدمی کی کمرتوڑکررکھ دی ہے۔ملک روزبہ روز بیرونی قرضوں میں ڈوبتاجارہاہے۔دنیاجانتی ہے یہاں کاامیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے،ہم فرقوں میں بٹ گئے ہیں،ہم بلوچ،پنجابی ،سرائیکی،پشتون،سندھی اور گلگتی میں منقسم ہوگئے ہیں۔ قرضوں پرچلنے والی ملک میں شادیانوں کی گونج کسی سوالیہ نشان سے کم نہیں۔بات تو ٹھیک ہے زندہ قومیں اپنی قومی دن بڑی شان وشوکت سے مناتے ہیں لیکن ان چند سوالوں کا جواب کون دے گاکہ ہم کب دوبارہ سے ایک قوم بن جائیں گے؟جس طرح 23مارچ 1940کوبناتھا جس طرح چودہ اگست 1947کوبنا تھا ۔اضطراب اور بے یقینی کی یہ بادل کب چھٹے گی؟ہم میں اپنی پاؤں پرکھڑاہونے کی صلاحیت کب آئے گی؟نیند سے بیدارہونے والے آخرکب تک خوابوں کا شکاررہے گا؟

یہ وہ سوالات ہے جو آج ہرمحب وطن پاکستانی کے راتوں کے نیند اور دن کے سکون چھین رہاہے۔ وہ ہرلمحہ ہروقت وہ اسی فکرمیں رہتاہے کہ آخرہماری حالت کب بدلے گی۔خیرچھوڑیں آج23مارچ کادن ہے اس دن کو منائیں۔

میں اکثر اس فکرمیں گم ہوجاتاہوں کہ آخرہمارے ملک میں برابرای کا سسٹم کب رائج ہو گا۔اس قوم کاالمیہ یہ ہے یہاں پرقوم کے معماروں کو تعلیم کے نورسے ہمکنارکرنے والوں کو ہرجگہ حتیٰ کہ اپنے تنخواہ کی حصول کیلئے بھی دھکا کھاناپڑتاہے ۔جبکہ سیاستدانوں اوربیورکریٹس کو ہرجگے پر پروٹوکول دی جاتی ہے۔غیرملکوں میں اساتذہ کو سب سے زیادہ عزت دی جاتی ہے ان کو قوم کا معمارسمجھا جاتاہے۔لیکن ہمارے ہاں وہ سماج پرہی بوجھ سمجھاجاتاہے۔آپ تحقیقات کرکے دیکھ لیں پوش ایریازمیں ہر دوسراگھر بیوروکریٹس یاکسی اعلیٰ عہدے سے فارغ ہوئے کسی افیسرکی ہوتاہے۔ کسی استاد کو کبھی نصیب نہیں ہوئی وہ کسی کوٹھی میں دم گھٹتازندگی بسرکرتاہوانظرآئے گا۔

اے کاش اس 23کے دن کسی کو نظام درست کرنے کی فکرلائق ہوجائے کیونکہ یہاں کیسا نظام ہے آپ کسی بھی ڈیپاٹمنٹ کی نظام اٹھا کردیکھ لیں آپ حیرت ہوکررہ جائیں گے۔ٹریفک سیکشن کو ہی لیجئے اگرآپکے وپاس لائسنس نہیں ہے اگر موٹرسائیکل چلارہے ہیںیا گاڑی ڈرائیورہے تو آپ سے رشوت کے طورپرپچاس سوروپے لیے جاتے ہیں یا 500روپے کا چالان کاٹ کرآپ کو کھلی چھوٹ دے کرروڈپرچھوڑدیاجاتاہے۔حالانکہ ترقی یافتہ اورمہذب ممالک میں بغیرلائسنس کے گاڑی چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔کسی سے اسلحہ برآمد ہوجائے تولے دے کے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں خداناخواستہ یہ اسلحے کل کسی ٹارگٹ کلنگ میں استعمال ہواتو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔ہمارے ہاں ملزم کو اعتراف جرم کے بعد پھانسی کی سزاسناکربھی رہاکیا جاتاہے۔اوروہ معاشرے میں ہیروبنتا ہوانظرآتاہے۔کیا ایسے کیے جانے سے دیگرافرادمیں بھی یہ جذبہ پیدانہیں ہوتا؟؟

اگرقائداعظم ،علامہ اقبال اور دیگررہنماوں کو ان حالات کا علم ہوتاتو شایدہی پاکستان بنانے کیلئے اتنا جدوجہد نہیں کرتا۔آج اگرقائداعظم ہمارے درمیان موجودہوتے توان حالات کو دیکھ کراپنے کیے پرشائدہی افسوس کے سواور کچھ نہیں کرتا۔بحرحال پانی اب بھی سرسے نہیں گزرا،امید کی کرن اب بھی باقی ہے۔بس کمی ہے تو صرف اور صرف جذبے کی کمی ہے ۔ہم آج یہ پلے باندھ لیں کہ آپس کی نفرتیں کدورتیں،عداوتیں اور اختلافات بھلاکرملک میں پیارومحبت بانٹے ہوئے صرف اسی کی ترقی و خوشخالی کیلئے جدوجہدکریں گے توہم یقیناًکامیاب ہوجائیں گے۔حکمرانوں کو بھی اس دن کی مناسبت سے یہ پلے باندھ لینا چاہیے ہم بھی ملکی ترقی اورعوام کی خوشخالی کیلئے مل کرکام کریں گے تاکہ وطن عزیرپاکستان کو حقیقی معنوں میں قائداعظم اورعلامہ اقبال کا پاکستان بنا سکیں اوران کی خوابوں کی تعبیرہوسکیں۔

خدکرے کی میرے ارض پاک پراُترے وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments