کارٹونز — ایک نطر ادھر بھی

تحریر: مہ جبیں

اگر آپ اپنے بچوں کو کاٹون نیٹ ورک، پوگو یا وارنر برادرز اور ڈزنی جیسے چینلز مہیا کر کے اس بات پے مطمئن ہیں کہ بچے تفریحی_سرگرمی میں مگن ہیں اور گھر کی چیزیں توڑنے اور تنگ کرنے سے باز ہیں تو یقین مانیں آپ_غلط_ہیں ۔۔۔۔۔

آپ دراصل اپنے بچوں کو ایک ایسی سرگرمی میں مبتلا کررہے ہیں جو ناصرف ان کی زندگی یا زندگی کے کچھ پہلووں کو تباہ یا ڈسٹرب کررہی ہے بلکہ انہیں ایسے روبوٹس میں بدل رہی ہے جو جنہیں بالواسطہ طور پے اس سرگرمی کے بانی کنٹرول کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔

کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آپ کا بچہ کارٹونز سے کیا سیکھ رہا ہے؟**

*کیا آپ نے کبھی وہ کارٹونز خود بھی دیکھے جنہیں آپ بچوں کو دیکھنے کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں؟*

اس پوسٹ میں کارٹونز کے بچوں پر اثرات کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں ۔۔!

*1-حقیقت سے فرار اور فینٹیسی*

ایک لمبے عرصے تک کارٹونز دیکھنا بچوں کو حقیقی دنیا سے دور اور ان کے ذہن میں انکی من پسند ایک خیالی دنیا بنانے اور اس میں کھوۓ رہنے رہنےکا سبب بنتا ہے

فینٹیسیز میں مبتلا بچے تعلیم اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں پیچھے۔ والدین اور رشتہ داروں سے کم تعلق۔ تنہائی پسند اور اعصابی تناو کے شکار کے ساتھ نفسیاتی طور پر زیادہ حساس اور کمزور دل ہوجاتے ہیں۔

*2-جسمانی مسائل*

زیادہ دیر تک کارٹونز دیکھنے والے بچوں میں چھوٹی عمر سے ہی نظر کی کمزوری،سردرد،نیند کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

*3- بری عادات*

کارٹونز کی اکثریت جیسے ڈریگن بال زی، پوکی مان، وغیرہ بدترین ماردھاڑ ،قتل و غارت خونریزی اورتشدد پر مبنی ہے ایسے میں بچوں میں جھگڑالو پن پیدا ہوجانا معمول کی بات ہے۔

ایسے ہی کئی کارٹون کردار چوری،دھوکہ دھی، بڑوں سے بدتمیزی اور دیگر بہت سی منفی سرگرمیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں جن کا اثر بچے بہت جلد قبول کرتے ہیں۔

*4-غلط نظریات کی ترویج*

کارٹونز کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا میں جس کام کوانتہائی برا بھی کیوں نہ مانا جاتا ہو کارٹونز میں اسے پرکشش اور اسے کرنے والوں کو ہیرو دکھایا جاسکتا ہے جیسے “بلی اینڈ مینڈی” اور “ٹین ٹائٹنز” جیسے کارٹونز میں کالے جادو کو اور پوکی مون اور ڈیجی مون جیسے کارٹونز میں جانوروں پر تشدد اور انہیں آپس میں لڑوانے کو۔

*5- بے راہروی*

آج کل کے کارٹونز میں جنسی بے راہروی کے بہتات ہے۔ ہردوسرے کارٹون کی کہانی میں کوئی لو سٹوری شامل ہوتی ہے۔ بڑی تعداد میں کارٹونز کی فیمیل ہیرو مثلا ونڈر وومن اور شی را اور ڈیفنی بلیک کو مختصر لباس زیب تن کیے دکھایا جاتا ہے ایسے ہی کئی کارٹونز میں بوس وکنار کے بولڈ مناظر، ذومعنی فقرے وغیرہ بچوں پر بدترین اثرات مرتب کرتے ہیں۔

“سپونج باب” نامی مشہور ترین کارٹونز میں سٹوری کی لوکیشن “بکینی اٹال” نامی جزیرے کے قریب سمندر کی تہہ ہوتی ہے جسے “بکینی باٹم”کہا جاتا ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہزاروں جزیرے ہیں مگر کارٹون کا محور ایسا جزیرہ کیوں بنایا گیا جس کا نام عریانیت کا مظہر ہے۔۔۔۔!!

*6-صحت مندانہ سرگرمیوں سے دوری*

کارٹونز کے شوقین بچے اکثر گیمز،سیر و تفریح وغیرہ جیسی سرگرمیوں میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔جس سے انکی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔

*7-پیسے اور وقت کا مزید ضیاع*

کارٹونز کیسے والدین کا پیسا ضائع کرتے ہیں اس کی مثال یوں ہیں کہ دس روپے میں بکنے والا کھلونا “یو یو” “بلیزنگ ٹینز” نامی بچوں کی سیریز کے بعد پانچ سو یا اس سے زیادی کا بکنے لگا اور پھر بھی اس کی فروخت میں طوفانی اضافہ ہوا جس کی وجہ اس کے ساتھ جذباتی ہیروازم کا اضافہ کردینا تھا۔ایسے ہی دس روپے میں بکنے والا لٹو “بی بلیڈ” سیریز کے بعد ہزار ہاروپے کے پیکس میں بکنے لگا کیونکہ اس پر جذباتی ہیروازم کی چھاپ لگ چکی ہے۔

میک ڈانلڈز جیسی کمپنیاں چند سینٹ قیمت پر مشتمل آلو کے چپس،نگٹس اور کولڈ ڈرنکس کئی ڈالرز میں فروخت کررہی ہیں کیونکہ انہوں نے اس پیک میں مشہور کارٹونز کے کھلونوں کا اضافہ کردیا ہے۔
ایسے ہی بین ٹین کی گھڑی ٹرانسفارمر کارٹونز کی کارز اور کیا نہ کیا۔

*8-نیو ورلڈ آرڈر اور مائنڈ کنٹرول پروگرام*

اور آخر میں۔۔۔۔
کیا وجہ ہے کہ نوے فیصد کارٹونز میں منفی کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے؟
کیا وجہ ہے کہ گرے ہوۓ کردار کے حامل کرداروں کو “دنیا کا نجات دھندہ” بناکر پیش کیا جاتا ہے؟

تقریبا ہر کارٹون میں “واحد آنکھ” اور “تکون” جیسے نشان ۔۔۔۔ گندے مکروہ چہرے ۔۔۔۔ دنیا کی تباہی کے مناظر ۔۔۔۔ کو وافر دکھایا جاتا ہے۔۔۔؟

*معزز والدین۔۔*
*ان سوالوں کا جواب خود ہی سمجھ جائیں ورنہ “آنے والا وقت” خود ہی سمجھادے گا۔*

آپ کی رائے

comments