کونوداس اور کشمیر کمیٹی

تحریر: فہیم اختر

خشک سرزمین کونوداس کو پانی فراہمی کے لئے منصوبہ حکومت کا بلاشبہ بہترین اقدام ہے ۔ کونوداس کی سرزمین میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے ماؤں بہنوں نے گھروں سے نکل کر مظاہرے بھی کئے ہیں اور حکومتی و انتظامی اہلکاروں کا سامنا بھی کیا لیکن ماضی میں کسی حکومت نے بنیادی حقوق کی فراہمی میں اس اہم منصوبے پر توجہ نہیں دی ۔ گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام اس منصوبے کے فیز 1پر 21کروڑ کی لاگت آئی ہے جس میں ابتدائی مرحلے میں سکیم کی بنیاد جب کہ گھروں تک پانی فراہمی کے لئے فیز 2میں 15کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبہ رکھا گیا ہے جس کی باضابطہ منظوری مل چکی ہے ۔ کونوداس میں واٹر سپلائی سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ کونوداس ماضی کے بے آباد علاقے کی نسبت سے منسوب نام ہے جبکہ موجودہ وقت میں کونوداس گلگت بلتستان کے تمام مکاتب فکر اور تمام علاقوں کا خوبصورت گلدستہ بن گیا ہے جس بنیاد پر اسے منی پاکستان کہا جاسکتا ہے اسی لئے اس علاقے کا نام کونوداس سے تبدیل کرکے ’علامہ اقبال ٹاؤن‘ رکھا جائیگا۔ انہوں نے موقع پر ہی سرکاری اہلکاروں اور نمائندوں کو ہدایات جاری کئے کہ آئندہ سرکاری خط و کتابت میں کونوداس کی جگہ پر علامہ اقبال ٹاؤن رکھا جائے ۔ علاقے کا نام اس کی ثقافت اور اس کی آبادکاری اور کارہائے نمایاں سرانجام دینے والے افراد سمیت دیگر سماجی و ثقافتی معاملات کی نشاندہی کرتا ہے ۔ جن علاقوں نے یوں اپنے مادری زبان کے ناموں کو تبدیل کیا ہے ان زبانوں سے وہ الفاظ ہی متروک ہوتے گئے ہیں اور علامہ اقبال ٹاؤن نام رکھنے پر ایک دوست نے خوب ہی کہا تھا کہ ’علامہ محمد اقبال نے ابتدائی تعلیم گلگت کونوداس میں حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ لندن چلے گئے۔

*جماعت اسلامی کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ کُل جماعتی کانفرنس میں دبے الفاظ میں کشمیر کمیٹی پر سوالات اٹھائے گئے ۔ جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی نہ ہوتی تو شاید سخت الفاظ میں تشویش اور عدم اطمینان کااظہار کرتے ۔ ڈپٹی سپیکرجعفراللہ خان او ر مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری سیاسیات غلام عباس نے کشمیر کمیٹی میں گلگت بلتستان کی نمائندگی نہ ہونے اور مجموعی طور پر کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ۔ کشمیر کمیٹی کو یقیناًاب سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ سال فروری میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کا آئندہ اجلاس گلگت بلتستان میں طلب کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ پورا ایک سال ہوگیا معلوم نہیں کہ ’آئندہ‘ اجلاس کا انعقاد بھی ہوا یا نہیں۔ کشمیر کمیٹی میں گلگت بلتستان کی نمائندگی سمیت قومی سطح پر اس معاملے سے انن ٹچ رہنے والوں میں ڈپٹی سپیکر بھی ہیں جنہوں نے کشمیر کمیٹی کے گزشتہ اجلاس جو کہ مظفر آباد میں منعقد ہوا تھا میں شرکت کرکے بقول ان کے اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر کمیٹی کو گلگت بلتستان تک وسعت دی جائے اور جی بی کے نمائندوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے ۔کشمیر کمیٹی کا شمار پارلیمنٹ کی نہ صرف مہنگی ترین کمیٹیوں میں ہوتا ہے بلکہ بھاری زمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے قومی نظریہ ،پالیسی اور بیانیہ کے فروغ کے لئے عالمی سطح پر کوششیں کریں ۔ یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے ۔ کشمیر کمیٹی میں ابھی تک گلگت بلتستان کی نمائندگی بھی نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کا معاملہ اندرون ملک ہی انتشار کا سبب بن گیا ہے۔ جدید دور میں چونکہ ہر بندے کی معلومات تک رسائی ماضی کی نسبت آسان ہے ۔ موجودہ وقت میں مسئلہ کشمیر کے پالیسی اور بیانیہ کے فروغ سے قبل گلگت بلتستان کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کاباقاعدہ حصہ ہونے کے باوجود یہاں پر ’لاتعلقی کشمیر‘ جیسے نعرے اور سوشل میڈیا پر کتبے اٹھائے جارہے ہیں۔ کیوں کررہے ہیں ،کن کی ایماء پر کررہے ہیں اور کیا ان کا یہ اقدام صحیح ہے ؟ وغیر ہ قسم کے سوالات پر الجھنے سے قبل یہ بات صاف واضح ہے کہ گلگت بلتستان میں مسئلہ کشمیر سے نکلنے کے لئے سرتوڑ کوششیں ہورہی ہیں۔ اس میں ہمارے علاقائی نام نہاد سیاستدانوں کا نمایاں کردار ہے ۔ جن کی اسمبلی (گلگت بلتستان)میں موجود کسی بھی وقت کی نمائندگی قابل زکر نہیں رہی ہے لیکن اپنی سیاست کو زندہ رکھنے انتخابی سیاست میں حصہ کے لئے ’انتہاپسندانہ‘ نعرے اور وعدے سامنے لائے جاتے ہیں جس کااثر پڑھے لکھے لوگوں پر بھی اس انداز میں ہوتا ہے کہ وہ مایوسی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے بیانیہ کے فروغ کے لئے لازمی ہے کہ گلگت بلتستان سطح پر بھی اور قومی سطح پر بھی اس پالیسی کو از سر نو ترتیب دیں ۔ گلگت بلتستان کی مقامی سیاسی قیادت کو بھی اس بات پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو کس سمت کی طرف لے جارہے ہیں ۔ ’مقبول نعروں‘ کے حصول میں تین نسلیں تو جاچکی ہیں لیکن سیاسی سفر اب تک واضح نہیں ہے۔ احساس زمہ داری نبھاتے ہوئے مقامی سطح پر بھی قومی سوچ اجاگر کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اور سیاسی کارکنوں کو نئی پالیسی اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا منشور مشہور ’پانچواں‘ صوبہ نہ ہو لیکن اس کے حصول تو دور کی بات ہے مقامی قیادت کو آگے بڑھنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر صرف ایک بار جائزہ ہیں لیں تو معلوم پڑجائے گاکہ مقامی سیاستدانوں کو سیاست کے لئے ہاتھ میں کیا دیا گیا ہے ۔

*کل جماعتی کشمیر کانفرنس میں اسلامی تحریک پاکستان کے علاوہ تقریباً سبھی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔ حیرت ہوئی وفاقی قومی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں کی اس موضوع پر سوچ اور فکر کی ۔ بلکہ شرمندگی ہوئی کہ کسی بھی مقرر کی اس موضوع پر گفتگو لائق تحسین نہیں تھی ۔ ایک صاحب نے خطاب کے شروع میں کہہ دیا کہ پاکستان نے گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کا حصہ بناکر غلطی کی ہے اگلے ہی مرحلے میں انہوں نے پرو کشمیری ہونے کا ثبوت دیدیا۔اور کہا کہ پہلے گلگت بلتستان کے حدود اربعہ کیا تھے؟کیا ڈوگرہ کی حکومت گلگت بلتستان تک پھیلی ہوئی نہیں تھی؟۔ حکومت کے انتہائی اہم زمہ دار حکومتوں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے مغربی ممالک کے مثالیں دینے شروع کردئے اور معلوم نہیں کہ ان کا یہ کہنا کیوں ضروری تھا اور کیا پیغام دینا چاہتے تھے کہ ’گلگت بلتستان کا مسئلہ قائد اعظم کے دور میں بھی حل نہیں ہوا ، ایوب خان ، زوالفقار علی بھٹو ، ضیاء الحق بینظیر ، نوازشریف اور پرویز مشرف جیسے طاقتور حکمرانوں کے دور میں بھی حل نہیں ہوا ہے ؟۔بعض مقررین نے حکومتوں سے شروع کرکے حکومتوں پر ختم کردیا۔ جبکہ بعض نے سوال اٹھایا کہ 39ممالک پر مبنی اسلامی اتحاد کس چیز کا نام ہے اور اس اتحاد کی قیادت پاکستان کررہا ہے لیکن فلسطین اور کشمیر جیسے معاملے پر وہ خاموش ہیں؟۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت کے لئے دلیل کی بنیاد پر مشترکہ حکمت عملی اور اس مسئلے میں گلگت بلتستان کی اہمیت سمیت کردار کے موضوع کو ہمارے سیاسی قائدین کہاں سے کہاں لے گئے۔ مذہبی جماعتیں تو خیر وفاقی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی اس مسئلہ کا حل ’جہاد ‘قرار دیا۔بہر حال جماعت اسلامی گلگت کی یہ احسن کاوش تھی جس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا گیا اور یہ ان کی سیاسی زمہ داری کا ثبوت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments