گورنمنٹ گرلز ہائی سکول علی آباد میں‌ضرورت مند طلبا میں‌کتابوں اور بستوں کی تقسیم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( بیورو رپورٹ)انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہے 2015میں زلزے سے متاثر ہونے والی سکول کی عمارت کی مرمت اب تک نہیں ہوپائی ہے۔ دور جدید میں ہمارے آنے والی مستقبل کے نونہال پھٹے پرانے ٹینٹوں میں زیر تعلیم ہیں جو نہ صرف محکمہ تعلیم بلکہ ہم سب کے لئے افسوس کا مقام ہے۔ ٹینٹوں میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے سکول میں معیار تعلیم بھی بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا ظہار قائمقام اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ کپٹن (ر)شہریار شیرازی نے گزشتہ روز گورنمنٹ گرلز سکول علی آباد میں ضرورت مند طلبہ اور طالبات میں کتابوں اور سکول بیگز کی تقسیم کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب ،میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سردی اور گرمی کے ایام میں طالب علموں کو یا تو چھٹی کرنی پڑتی ہے یا پھر کھُلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی پوری ذمہ داری ہم سب پر عائد ہو تی ہے اور ہمیں آج اپنے اپ سے وعدہ کرنا پڑے گا کہ ہمارے انے والے مستقبل کو ٹینٹوں سے نکال کر تعلیمی ماحول پیدا کریں گے تاکہ عوام سرکاری سکولوں پر اعتماد کر سکے۔

انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے پرنسپل ، سٹاف اور سکول منجمنٹ کمیٹی کے حکام کے اقدم کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسان کے لئے سب زیادہ اہمیت تعلیم کی ہے، اور جس انداز میں سکول ہذا نے اپنے مدد اپ کے تحت ضرورت مند طلباء میں سکول بیگز، کتابیں اورکاپیاں تقسیم کی ہیں، اس کاوش کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم توقع کرتے ہے کہ اس اقدام کو جاری رکھتے ہوئے آوٹ اف سکول بچوں کو بھی تعلیم دلانے میں اپنا کردار ادا کرئینگے اور انتظامیہ کی جانب سے جس طرح تعاون چاہیے ضلعی انتظامیہ آپ کے ساتھ ہو گی۔

قائمقام اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ کپٹن (ر) شہریار شیرازی نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول علی آباد اور بوائز ہائی سکول علی آباد کی خستہ حالی کے شکار عمارتوں کا معائینہ کیا جب کہ دوسری جانب ٹینٹوں میں زیر تعلیم طلبہ اور طالبات سے ملاقات کی، اور طلبہ نے سکولوں میں درپیش مسائل سے اسے سی کو آگاہ کیا۔

اس موقع پر ڈی آئی ایس جبار خان، سکول پرنسپل نسیم بانو ، ایس ایم سی کے چیر مین نمبردار اسلم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments