چترال کی خواتین کونسلرز کا اہم اجلاس، اپنے حقوق کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم

چترال(گل حما د فاروقی)ٹاؤن ہال میں چترال بھر کے خواتین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز نے کی۔ اجلاس میں ضلع ناظم مغفرت شاہ، سی ڈی ایل ڈی کے ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس اینڈ پلاننگ، لوکل گورنمنٹ اور دیہی ترقی محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجنئیر فہیم جلال نے بھی شرکت کرتے ہوئے خواتین کونسلرز کی شکایات اور مطالبات سنی۔
اجلاس میں خواتین کونسلرز کو بریفنگ دی گئی کہ وہ اپنے علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کو ویلیج کونسل ڈیویلپمنٹ پلان یعنی دیہی کونسل ترقیاتی پروگرام میں ضرور شامل کیا کرے تاکہ اس کیلئے بروقت فنڈ محتص کرتے ہوئے اس پر کام شروع کیا جاسکے۔160
خواتین کونسلرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ کمیونٹی ڈریون لوکل ڈیویلپمنٹ کے منصوبوں میں بھی اپنے منصوبے شامل کیا کرے اور سی ڈی ایل ڈی فنڈ کیلئے منظم طریقے سے کوشش کرکے اس میں سے اپنا حصہ لیا کرے تاکہ وہ بھی اپنے حلقوں میں چھوٹے موٹے ترقیاتی یا بحال کاری کے کام کرسکے۔
خواتین کونسلرز کو اجلاس کے دوران پلاسٹک بیگ کے نقصانات پر مفصل آگا ہ کیا گیا کہ اس کے کیا نقصانات ہیں اور ان سے اس ضمن میں تعاون کی حواست کی گئی کہ وہ بھی پلاسٹک کے شاپنگ بیگ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرے اور بائیوڈیگریڈایبل تھیلے استعمال کرے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ندی نالوں کی بندش کا سبب نہیں بنتا۔ اس سلسلے میں بہت پہلے آگاہی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔160
ان کو بتایا کہ گیا کہ دکانداروں کو کافی پہلے بتایا گیا ہے کہ وہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ حتم کرے اور اس کی جگہہ بائیو ڈیگریڈایبل تھیلے استعمال کرے جو اسی قیمت پر دستیاب ہے اور اس سے ماحول کو نقصان بھی نہیں پہنچتا۔160
ویلیج کونسل ک سطح پر ترقیاتی فنڈ کی تقسیم اور استعمال پر تفصیل سے بات ہوئی جس میں اکثر خواتین کونسلرز کی شکوے شکایت سامنے آئے کہ اس فنڈ میں ان کو یا تو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے یا بہت کم فنڈ ان کو دی جاتی ہے جو بے انصافی ہے۔ اس پر ضلع ناظم مغفرت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ ان کو پورا حق دیا جائے گا۔160
جنگلات کی رائلٹی کی مدد میں صوبائی حکومت کی جانب سے خواتین کو بھی حصہ دینے کی خواتین نے خیر مقدم کرتے ہوئے اسے نہایت خوش آئند فیصلہ قراردیا اور یقین دلایا کہ اگر ان کو جنگلات کی مد میں حصہ ملے تو وہ اس سے کافی فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض عناصر کی شدید الفاظ میں مذمت کی جو ٹمبر مافیا کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان کو حق دینے کے محالفت کرتے ہیں کیونکہ بعض ٹمبر مافیا اس فیصلے کے حلاف میدان میں اترا ہوا ہے۔160
خواتین کونسلرز کے دیگر مسائل پر بھی بحث ہوئی جس میں زیادہ تر خواتین کونسلروں نے شکایت کی کہ ان کا کوئی علیحدہ دفتر نہیں ہے اور نہ ہی ا ن کوکوئی مشاہرہ دی جاتی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان خواتین کونسلرز کو بھی علیحدہ دفتر فراہم کی جائے جہاں علاقے کے خواتین آکر پردے میں ان کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا کرے۔160
اے سی چترال نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ پیر کے روز اپنے دفتر میں ایک اجلاس بلائے جس میں ویلیج کونسل کے ناظمین اور زنانہ کونسلرز بھی موجود ہو تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ان خواتین کونسلرز کو کس وجہ سے فنڈ نہیں دی جاتی۔
بعض اراکین نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کے پاس اکثر ایسے خواتین آتی ہیں جن کا نیچے اضلاع میں شادی ہوئی ہیں اور ان کو اپنے شوہر نے بے یارومدد گار چھوڑا ہوا ہے اب وہ اپنے میکے میں رہتی ہیں مگر ان کا اور ان کے بچوں کا خرچہ بھی ان کے شوہر نہیں دیتے۔160
اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز نے ان کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مسائل کو صوبائی حکومت تک پہنچائے گے اور جو مقامی سطح پر حل طلب ہیں ا ن یہاں پر حل کریں گے۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تمام خواتین کونسلرز نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments