امریکہ کے مسلمان بچے

تحریر: ممتاز گوہر
امریکہ کے مشہور صحافی و مصنف سی جے ورلیمین نے کچھ عرصہ قبل اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں امریکہ کے ایک چودہ سالہ مسلم بچی کی ویڈیو شیر کی جس میں اس کی ساتھی بچیاں صرف اس وجہ سے اسے مار پیٹ رہی ہیں کیوں کہ وہ مسلمان ہے. اس بچی کے والد کہتے ہیں کہ میری بچی نے بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے. مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں ایسے واقعات میں آئے روز اضافہ کیوں ہو رہا ہے.

مڈل ایسٹ کے لئے لکھے اپنے ایک آرٹیکل میں ورلیمیں مزید لکھتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 42 فیصد مسلم والدین نے یہ شکایات کی ہے کہ سکولوں میں ان کے بچوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے. انسٹیٹیوٹ فار سوشل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے مطابق مسلمان بچوں کو یہودی اور پروٹسٹنٹ بچوں کی نسبت دوگنا جبکہ کیتھولک بچوں کی نسبت سات گنا زیادہ ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے.

Massachusetts کے ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر کہتے ہیں کہ امریکہ بھر کے اساتذہ کی طرف سے مسلمان بچوں کو ہم جماعت بچوں کی طرف سے ڈرانے اور دھمکانے کے حوالے سے بڑی تعداد میں شکایات اس وقت سے موصول ہو رہی ہیں جب دو سال قبل امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم کا آغاز کیا. اس کے حساب سے صرف پچھلے بارہ مہینوں میں اتنے شکایات موصول ہوئی ہیں جو اس سے پہلے کئی سالوں میں موصول نہیں ہوئیں.

اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ایک یا ایک سے زیادہ ممبرز کو ڈرانے اور دھمکانے کے یہ واقعات نئے یا صرف امریکہ کا ہی مسئلہ نہیں ہے. یہ کم و بیش دنیا کے تقریباً ممالک میں پیش آتے رہتے ہیں جہاں بچے اسکول جاتے ہیں. ہاں ان کی نوعیت ایک دوسروں سے مختلف ضرور ہو سکتی ہے.

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قدامت پسندانہ اور سخت گیر اقدامات پر نہ صرف دنیا کے اکثر ممالک نے احتجاج اور غصے کا اظہار کیا ہے بلکہ خود امریکہ کے شہری بھی ٹرمپ کے اقدامات سے سخت نالاں نظر آ رہے ہیں. یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کے اپنے فیصلے اور عالمی برادری کو دھمکی دے کر من پسند فیصلہ سامنے لانے کی کوشش میں جس خفگی کا سامنا کرنا پڑا ہے. اس کی مثال امریکہ کی تاریخ میں شاید ہی کہیں ملے. اقوام متحدہ کی جنرل اسسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں دنیا کے بیشتر ممالک نے امریکہ کے اس اقدام کو کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوۓ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام دیا کہ آپ کی تھانیداری آپ کے اپنے ملک اور آپ کے ٹکڑوں پر پلنے والے چند ممالک میں تو چل سکتی ہے مگر سارے ممالک آپ کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کے پابند نہیں.

ٹرمپ کے مسلم مخالف بیانات اور اقدامات کے بعد امریکا کے مختلف جگہوں میں مسلمانوں کو بلواسطہ یا بلا واسطہ تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے. ان میں بہت سارے ایسے واقعات بھی ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہو رہے.

امریکا میں کچھ مہینے قبل ایک دس سالہ مسلمان بچے کو صرف اس بنیاد پر مارنے اور سوئمنگ پول میں ڈالنے کی کوشش کی گئی کیوں کہ وہ مسلمان تھا. مگر وہ بچہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب رہا. امریکہ کے اکثر سکولوں میں بچوں پر اسلامی شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق رکھنے اور دہشت گرد ہونے کے الزامات لگانے کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں. ایک چودہ سالہ مسلمان بچی کے والدین نے یہ شکایت کی کہ اس کی بچی کے بیگ پہ لکھا گیا تھا کہ “مسلمانوں پر امریکہ میں پابندی لگا دی گئی ہے… گڈ بائی.”

ٹرمپ کے اقدامات سے مسلمان اور دیگر اقلیتوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی مایوس کن ہیں. ذات، زبان، مذہب، رنگ و نسل کی بنیاد پر ایک بچے کو سکول سے ہی تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے تو اس سے بچے کے دماغ پر ابتداء سے ہی یقیناً انتہائی منفی نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے. اس سے ان بچوں میں خوف اور جھجھک کا عنصر غالب ہوگا اور اپنے ہم عصر ساتھیوں سے صلاحیتوں میں یقیناً پیچھے رہ جائیں گے.

ایک تکلیف دہ بات یہ بھی ہے کہ امریکہ میں مسلمان بچوں کو ان کے ہم عصر ساتھیوں کی طرف سے ہی جملے کسا اور ڈرایا دھمکایا نہیں جاتا بلکہ اساتذہ بھی ایسے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں. پچھلے مہینے ایک ٹیچر کو مسلمان بچی کا حجاب کھینچنے پر معطل کیا گیا. جبکہ ساؤتھ کیرولینا میں ایک اور واقعے میں ایک استاد کو پانچ سال کے بچے کو ہراساں کرنے پر گرفتار کیا گیا.

ایک بچہ جو دنیا میں جہاں کہیں بھی رہتا ہو ابتدائی تعلیم کا حصول اس کا بنیادی حق ہے. یہ حق انھیں بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے میں دی گئی ہے اس معاہدے پر تقریباً تمام ممالک نے دستخط اور توثیق کی ہے. امریکہ نے کئی سال اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے مگر اب وہ اس معاہدے کا حصہ ہے. امریکہ جو ایک طرف بچوں کے اور انسانی حقوق کے چیمپئن کا کردار ادا کرتا ہے مگر دوسری طرف ان کے ہاں معصوم بچوں کو صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پر ہی نشانہ بنانے کے واقعات جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں. وہ ہر حوالے سے تشویش ناک ہیں.

نائن الیون کے سانحے کے بعد مسلمان بمشکل سنبھل پائے تھے مگر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے اور مسلمان مخالف اقدامات سے امریکہ میں آباد مسلم کسی نہ کسی طریقے سے مسائل سے دو چار ہو رہے ہیں. زبردستی کسی کے مذہبی عقائد کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا. اس وقت امریکہ کے جن 42 فیصد مسلمانوں کے بچوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. اس سے ایک پرامن اور اعتدال پسند امریکہ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا. البتہ ٹرمپ کا مسلمانوں سے نفرت کا ایجنڈا ضرور پورا ہوگا. نفرت کو نفرت سے نہیں البتہ محبت سے ختم یا اس میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments