شگر یاترا اور راجہ صبا شگری سے ملاقات

آج جہاں سکردو میں گرمی زروں پر تھی وہاں دوستوں کی محبت کی گرمی اس سے سوا تھی۔ دوست محترم پروفیسر کمال الہامی کی دعوت سے فارغ ہوکر جب ہم مشہ بروم ہوٹل سکردو سے شگر کی طرف پابہ رکاب ہوئے تھے۔ اچانک محترم فدا ناشاد سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے جب شگر فورٹ دیکھنے اور بزرگ شاعر راجہ صبا شگری سے ملنے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے نہ صرف ان کے صاحبزادے راجہ اعظم خان سے فون پر ہماری بات کروائی۔ بلکہ اپنی گاڑی کی چابی بھی تھمائی۔ ہم نے ناشاد صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ ہمیں گاڑی کی نہیں محبت کی ضرورت ہے گاڑی ہمارے پاس تھی۔ جب راجہ اعظم صاحب سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے دل کھول کر ہمیں خوش آمدید کہا۔ اب ہم تھے، ہماری بھاگتی دوڑتی پک اپ تھی اور بلتستان کی تپتی سڑک تھی۔ ہاں جگ جیت سنگھ تھا، ان کی مدھر آواز میں ہلکی میوزک کے ساتھ یہ غزل ’’ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح‘‘ سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ڈرائیو فیض امان ہنزائی کر رہے تھے وہ اطرب سکردو کے چیئرمین اور ہمارے اچھے دوست ہیں۔ ایک مست الست انسان ہیں۔

ہم شام کے سائے کے ساتھ شگر پہنچے تھے۔ فورٹ جانے سے پہلے بچوں کا اسرار بڑھا کہ پہلے دریائے شگر کے کنارے آم کھایا جائے۔ شگر نالہ کے یخ پانی سے اڑتی ٹھنڈی ہوائیں ہماری روح تک اتر گئیں۔ سوسن نے آم تھوڑی دیر کے لیے پانی میں ڈبوئے۔ ایک آدھ منٹ میں ہی آم اتنے ٹھنڈے ہوئے تھے کہ گویا برف ہو۔ شگر نالے کے اس ٹھنڈے ٹھار پانی سے تازگی حاصل کرنے کے بعد ہم اب شگر فورٹ میں تھے۔ راجہ اعظم صاحب گیٹ پر ہی ایک گھنٹے سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہم نے معذرت کی کہ آپ کو اتنی زحمت نہیں کرنی چاہئیے تھی ہم خود آجاتے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’’موبائل میں چارج ختم ہونے کی وجہ سے پریشانی ہوئی کہیں آپ یہ نہ سوچے کہ راجہ صاحب نے جان بوجھ کر فون بند کر دیا ہے۔ اس لیے انتظار کرنا پڑا۔‘‘ ہم نے راجہ صاحب کے خلوص اور مہمان نوازی کا بار دیگر شکریہ ادا کیا۔

راجہ صاحب نے ایک گائیڈ ہمارے حوالے کی، فورٹ وزٹ کے بعد گھر چائے پر آنے کا کہا اور اجازت لے کر چلے گئے۔ گائیڈ نے بڑی تفصیل سے ایک ایک چیز کے بارے میں بتایا کہ پہلے اس محل میں راجہ کہاں بیٹھتا تھا، رانی کہاں ہوتی تھی، رعایا سر جھکا کے کیسی خدمت بجا لاتی تھی، مالیہ کہاں جمع ہوتا تھا، وزیر کہاں خیمہ زن ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ آشا اور آذین پرانے کمروں میں گھستے اور بیک آواز کہتے کہ رپنزل کا گھر، پھر کوئی پرانی برتن اٹھاتے اور کہتے ’’بابا! اس میں سنو وائٹ کھانا کھاتی ہے ناں؟‘‘ اب ان بچوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ اس زمانے میں راجہ، رانی اور ان کے شہزادے، شہزادیاں سنو وائٹ اور رپنزل کی طرح زمین پر آسمانی مخلوق تھے کہ ان کی آبرؤں کے اشاروں پر کنیزوں کی فوجِ ظفر موج کی لائنیں لگ جاتی تھیں۔ خیر وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ گائیڈ نے آغا خان کلچر سروسز کی خدمات کو سراہا۔ بلتستان میں یہ پہلا فورٹ ہے جس کی بحالی کے بعد خپلو فورٹ کو بھی اس ادارے کے حوالے کر دیا گیا۔ اب یہاں شگر اور خپلو دونوں جگہوں پر سرینا ہوٹل چل رہے ہیں۔ راجہ صاحب نے کہا کہ اتنے سیاح آتے ہیں جگہ ہی نہیں ہوتی۔ گائیڈ کا کہنا تھا اس وقت سارے کمرے فل ہیں۔ سیاح اس ماحول کو بہت انجوائے کرتے ہیں۔

فورٹ وزٹ کے بعد اب ہم بزرگ شاعر اور ادیب راجہ صبا شگری جو راجہ اعظم صاحب کے والد محترم اور ہمارے دیرینہ دوست ہیں، سے ملنے راجہ صاحب کی رہائش گاہ کی طرف گئے۔ حیرت ہوئی کہ راجہ اعظم اپنی رہاش گاہ میں بھی گیٹ پر ہماری راہ تک رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں ایک دیسی وسیع گھر میں بٹھایا۔ میں نے بیٹھتے ہی راجہ صاحب سے کہا کہ کیا یہ بھی قدیمی گھر ہے انہوں نے کہا نہیں یہ نیا گھر ہے لیکن قدیم طرز پر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس شاندار گھر میں بیٹھے ابھی چند لمحات گزرے ہوں گے محترم راجہ صبا شگری صاحب لاٹھی کے سہارے اندر داخل ہوئے۔ ہم بغلگیر ہوگئے۔ راجہ صاحب اس وقت اٹھانوے سال کی عمر میں ہیں لیکن ماشااللہ صحت مند ہیں ہاں سماعت میں کچھ خلل پیدا ہوا ہے۔ اس لیے ہزار چاہتوں کے باوجود ان سے کھل کر بات نہیں ہوسکی۔ راجہ صبا شگری سے تب سے سلام دعا ہے جب میری ادارت میں ’’فکرونظر‘‘ میگزین بلاناغہ شائع ہوتا تھا اور راجہ صاحب اپنی محبت بھری شاعری ارسال فرمایا کرتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ ’’فکرونظر‘‘ کی اشاعت جہاں تعطل کا شکار ہوئی وہاں راجہ صاحب سے بھی سلام دعا میں وقفہ آگیا۔ لیکن میں دوست احباب سے ان کی صحت کا اکثر پوچھا کرتا تھا۔

راجہ صاحب سے محبت بھری باتیں بھی ہوئیں۔ چائے اور دیسی روٹی پراٹھوں سے ہماری تواضع کی گئی۔ دسترخواں پر ان نعمتوں سے کہیں زیادہ ہمیں جس طرح کی محبت ملی، اس کے ہم مقروض رہیں گے۔ ان کے صاحبزادے راجہ اعظم خان جہاں ایک اچھے سیاستدان ہیں وہاں وہ ایک اچھے علمی و ادبی انسان بھی ہیں۔ پچھلے سال قراقرم یونیورسٹی گلگت میں منعقدہ ایک کانفرنس میں راجہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں راجہ صاحب کو صرف ایک سیاست دان سمجھ رہا تھا لیکن اس کانفرنس میں پیش کیا گیا ان کا مقالہ ان کی علمی مرتبت کے تعین کے لیے کافی تھا۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ؎

’’شیروں کے پسر شیر ہی ہوتے ہیں جہاں میں‘‘

راجہ صاحب نے جس علمی و تحقیقی انداز میں اپنا مقالہ پیش کیا تھا وہ بجائے خود ایک علمی کارنامہ تھا۔ یوں پدر سے ہماری دوستی پسر کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔

پدر و پسر دونوں راجہ صاحبان نے اپنے دولت خانے میں رات کا کھانا کھانے اور رات گزار کے صبح جانے پر اسرار کیا لیکن ہم رات کے کھانے پر سکردو میں کہیں اور مدعو تھے اس لیے معذرت کے ساتھ ان کی محبتوں کا شکریہ ادا کرکے ہم سوئے سکردو روانہ ہوئے تھے۔ ہماری گاڑی جونہی ان کی رہائش گاہ سے نکل رہی تھی چودھویں کا چاند اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ شگر پر نور برسا رہا تھا آشا اور آذین انگلیوں کے اشارے سے مجھے متوجہ کر رہے تھے ’’وہ دیکھو بابا! مون!‘‘ اب ان ننھے فرشتوں کو کون سمجھائے کہ مون کو صرف دیکھا جاسکتا ہے، ہاں اس کی روشنی کو اپنی روح کی گہرائیوں تک محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن اسے پایا نہیں جاسکتا۔

یار زندہ، صحبت باقی!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments