اداروں کی نا کامی

جو لو گ عتیق شاہ کے قاتل کو راتوں رات افغانستان کے راستے امریکہ فرار کرانے پر تعجب کا اظہار کر تے ہیں اخبار والوں کو اُن لوگوں پر تعجب ہوتا ہے وہ نہیں سوچتے کہ عتیق شاہ پاکستانی تھا اور اس کا قاتل اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا ملازم کرنل جوزف تھا اس سے پہلے امریکی کنٹریکٹر بلیک واٹر کا اہلکار ریمنڈ ڈیوس لاہور میں تین پاکستانیوں کو قتل کر کے امریکہ چلا گیا.

فیض نے کیا بات کہی ؂

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

اگر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (JIT) اور تحقیقاتی کمشین یاعدالتی تحقیقات ہمارے ملک میں ریفرنڈم کی طرح بدنام نہ ہوتے تو ہم کرنل جوزف کے فرار کی تحقیقات کے لئے کمیشن یا جے آئی ٹی کا مطالبہ کر تے لیکن اس طرح کے مطالبے کا کوئی فائدہ نہیں ضیاء الحق کے جہاز کو حادثہ پیش آیاتو اس کی تحقیقات بے نتیجہ ثابت ہوئی کیونکہ حادثہ میں عالمی طاقت ملوث تھی میمو گیٹ کیلئے بڑے طمطراق سے کمیشن بنایا گیا تو نتیجہ صفر رہا پانامہ کیس پر کمیشن اور جے آئی ٹی بنائے گئے 10بکسے لائے گئے نتیجہ صفر کے سوا کچھ بھی نہیں کرنل جوزف کے فرار پر کمیشن بنایا گیا تو اس کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا مثلاََ مجرم کے فرار پر تحقیقات کی رپورٹ 4بکسوں میں بھر جائیگی ان میں ایک بکس سے یہ بات بر آمد ہوگی کہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرنے والا مقتول کا سگا بھائی یا باپ نہیں تھا اس لئے کرنل جوزف کو تھانے میں بٹھانے، جوڈیشل لاک اَپ میں رکھنے یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا جواز نہیں بنتا تھا اور یوں JITکی رپورٹ کو تاریخی دستاویز قرار دی جائے گی کیونکہ اس پر کسی مہینے کی کوئی نہ کوئی تاریخ ضرور درج ہوگی ایک زمانہ تھا جب عدالت پر لوگ بھروسہ کرتے تھے پھر وہ دور آیا جب ملکی سلامتی کے اداروں کو سب سے زیادہ معتبر تسلیم کیا جاتاتھا ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بعد دونوں پر سے عوام کا اعتبار اُٹھ گیا ٹی وی پر کرائے کے اینکر پرسن آنے کے بعد میڈیا کا اعتبار بھی اُٹھ گیا ریمنڈ ڈیوس کو ایک ہفتے کے اندر سزائے موت ہونی چاہیئے تھی کم ازکم 3مہینے کے اندر اس کی لاش لاہور کے چوراہے پر لٹکنی چاہیئے تھی کلبھوشن یادیو کا مسئلہ بھی ایسا ہی تھا اس کو ڈھیل دینے کی ضرورت نہیں تھی ہم حالت

جنگ میں ہیں جنگ کی حالت میں دشمن کو زیادہ ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔ 1948ء کی جنگ کشمیر میں کرنل مطاع الملک سکردو کے محاذ پر چترال باڈی گارڈ کے رضا کار فورس کی کمان کر رہا تھا۔ قلعہ کھر پچو فتح ہوا تو جنگی جرائم کے بڑے مجرم کیپٹن گنگا سنگھ کو کرنل تھا پا کے ساتھ زندہ گرفتار کیا گیا۔ کرنل مطاع الملک نے سمر ی ٹرائیل کے ذریعے کیپٹن گنگا سنگھ کو سزائے موت دی۔ اُسے پار لگانے کے بعد اوپر سے حکم آیا کہ ’’ خصوصی جہاز آرہا ہے کیپٹن گنگا سنگھ کو بحفاظت راولپنڈی روانہ کرو‘‘کرنل متاع الملک نے اپنا کام نمٹا دیا تھا۔ اُس نے جواب میں لکھا ’’ گنگا سنگھ اب اس دنیامیں نہیں رہاکرنل تھاپا کو جہاز میں روانہ کیا جائے گا۔‘‘

حالت جنگ میں اس طرح کے فیصلے ہوتے ہیں اس طرح کی ہمت اور دلیری کا م آتی ہے اگر ریمنڈ ڈیوس اور کلبھوشن یادیو کو عدالت میں پیش کرکے سزائے موت دی جاتی تو مسئلہ ہی ختم ہوجاتا نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ مجرم تھا انجام کو پہنچ گیا۔

کرنل جوزف کا معاملہ نیا نہیں ہے یہ پرانے معاملات کا شرمناک تسلسل ہے اس کی تحقیقات کے لئے میڈیا کی کمیٹی بننی چاہیئے اور چار خطوط پر چار زاویوں سے اس واقعے کا میڈیا ٹرائل ہونا چاہیے پہلی بات یہ ہے کہ قاتل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا مگر پولیس اسٹیشن سے اُس کو چھڑا کر لے جانے والے کون لوگ تھے ؟ کس قومی ادارے کے لوگ تھے ؟ اُن کے مقاصد کیا تھے ؟ اور اُن کو اوپر سے کیا حکم ملا تھا؟دوسر ی بات یہ ہے کہ قاتل کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اُس کا ریمانڈ لینے میں کیا امر مانع تھا ؟ کس کے دباؤپر قاتل کو چھوٹ دے دی گئی ؟تیسری بات یہ ہے کہ جینوا کنونشن کے تحت سفارت کار کو جو استشنا حاصل ہے وہ استشنا افغانستان کے بے گناہ سفیر عبد السلام ضعیف کو کیوں نہیں ملی ؟ عبدالسلام ضعیف نے کوئی جرم بھی نہیں کیا تھا وہ قانوں کے تحت مطلوب بھی نہیں تھا!

چوتھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے قومی ادارے اور پاکستان کی قومی عدلیہ اپنی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ناکام ہوگئی ہے یا ہمارے اداروں اور ہماری عدالتوں کو ’’ اوپر کے حکم ‘‘نے ناکامی سے دوچار کر دیا ہے ؟ ان چار زاویوں سے کرنل جوزف کے فرار کا جائزہ لینا چاہیئے کرنل جوزف کے فرار میں کس نے معاونت کی ؟ یہ بات سب کو معلوم ہے اس پر تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں پاکستان میں اندرونی خانہ جنگی ، سیاسی عدم استحکام ، بد امنی اور دہشت گردی کی وجوہات میں بھی اہم وجہ یہ ہے ہمارے ہاں قومی ادارے اور ہماری عدالتیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوگئی ہیں گذشتہ 8سالوں میں بھارت کی عدالتوں نے 4پاکستانیوں کو پھانسی دی بنگلہ دیش کی عدالتوں نے پاکستان کے ساتھ محبت کے جرم میں اپنے ہی ملک کے6شہریوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا پاکستان نے دو بھارتی مجرموں کو عالمی دباؤ پر جیل سے آزاد کرکے بھارت کے حوالے کیادو امریکی مجرموں کو سزا دینے میں نا کامی کے بعد امریکہ کے حوالے کیا بھارتی شہری کلبھوشن بھی اپنی رہائی کا منتظر ہے اس کو

معلوم ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں دم خم نہیں ہے پاکستان کے قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار ہیں اوریہ بات ایک ایٹمی طاقت کو ہرگز زیب نہیں دیتی کہ اس کی عدالت مجرم کو سزا نہ دے سکے اس کے ادارے مجرم کو دشمن کے حوالے کردیں ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہماری مجبوری نا قابل برداشت ہے۔

میرتقی میر نے ہمار ے ہی بارے میں کہا ہوگا ؂

ہم مجبوروں پہ ناحق تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے سو آپ کرے ہے ہم کو عبث بدنام کیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments