یو ایس ایڈ سے ایک گزارش۔۔

محمد اعظم شگری
جامعہ علمیہ کراچی

گلگت بلتستان کے اسلامی کلچر میں کافی عرصے سے مغرب زمین کے کچھ ترقی یافتہ دعوے کرنے والے کچھ این جی اوز کا صرف گلگت بلتستان کے ساتھ ہمدردی کا بازار کچھ زیادہہی نظر آرہےہیں اس ہمدردی کے لئے میں بے حد ممنون ہوں۔اس ہمدردی کا شکریہ ادا کرنے کےلیے میں نے مغرب زمین کا (مطالعہ )نظارہ کیا تو مجھے شرمندگی محسوس ہوئی کہ یہ لوگ اپنے بحران غربت میں بھی اپنوں سے زیادہ غیروں کی دیکھ بھال کرتے ھیں بلکہ میری ہمدردی اپنے لوگوں سے زیادہ یورپ کے ترقی یافتہ مملکتوں سے زیادہ امریکہ کے لوگوں کے طرف بڑھی، کیونکہ یہاں بچے،جوان، بوڑھے ،بہنیں ہماری بہنوں سے زیادہ محتاج نظر آئیں۔ امریکہ میں عورتیں اپنے بچوں کو لیکر گلی کوچوں میں ایک لقمہ نان کے لیے تڑپ ر ہے ہیں۔ یہاں امریکہ میں ایک جوان ایک وقت کی بھوک مٹانے کے لیے کام کرنے کو تیارہے۔ یہاں امریکہ یورپ میں زیادہ ماڈرن ہونے کہ وجہ سے فیملی فسادات بہت زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے جوان  اور بوڑھے بے گھر سڑکوں پر کارٹون کو اپنا فرش زندگی بنا کر زندگی گزار رہےہیں۔2011 میں امریکہ میں غربت کہ شرح 30 فیصد تھی، اور اب تک اس شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ 2011 میں امریکہ کے ہر 6 نفر میں سے ایک نفر غربت کے شکار میں مبتلا تھے اور اسکی شرح میں بھی کمم ہوتی نظر نہیں آتی۔
لیکن اس تمام تر بحران کے باوجود یوایس ایڈ کو صرف ھماری فکر ھیں یورپین کلیچر نے اتنی ترقی کی ھیں کہ بھای بہن کو داد تحسین دے رہا ھے کہ ہماری بہن فلان اس غریب کے ساتھ کے ٹو سر کیا۔ کچھ عرصے بعد بہن اپنے بھای کے لیے ایک نو مولود کا تحفہ لیکر آتی ھے بھائی بڑی خوشی سے اپنی پیاری بہن کے نومولد کو چوم لیتا ھے پھر ایک دن وہی نومولود اور ایک ماڈرن نوموولد کو ساتھ لیکر آتے ھیں اسی طرح سلسلہ چلتا رھے گا۔

ماڈرن کیلچر اتنی ترقی کریگا کہ ایک دن بھائی بھن کو نھیں پہچان سکے گا نہ باپ بیٹی کو۔

این جی اوز، یو ایس ایڈ کے بحد ممنون ھے کہ ھماری فقیری کو دور کرنے کے ساتھ ھمارے تھذیب کا بھی فکر ان کو لاحق ہے۔ ایک ایسی تھذیب جس میں  بھائی،شوھر،باپ گھر میں آرام فرما رھے اور بہنیں ترقی کے آسمان کو چھو رہی ہیں۔

گلگت بلتستان کے غیور بھائیوں سے یہی تمنا ہے کہ سوچئے سمجھئے آج تک گلگت بلتستان میں اتنی غربت نھیں آئی ہے کہہ ہم جناب زینب (س) کے کنیز بہنوں کو بھول جائیں آج تک گلگت بلتستان میں کوئی گدائی کرتےہوے نظر نہیں آتا ہے۔ آج تک ہم اپنے پاوں پر اسلامی تہذیب کے ساتھ بے نیازی سے زندگی گزار رہے ہیں این جی اوز،یو ایس ایڈ کو چاہئے کہ ہم سے زیادہ امریکہ میں فقارت ہے۔ ںہم سے زیادہ وہاں تہذیب کا بحران ہے۔ہم سے ہمدردی کے بجاے اپنے گلی کوچوں میں سونے والے بے سہارہ لوگوں کی مدد کیجئے یہاں سر زمین گلگت بلتستان میں اسلامی تہذیب کے ساتھ لوگ اپنے فیملیز کے ساتھ خوش و خرم اور بے نیازی کے ساتھ سفر طے کر رہےہیں۔

بلکہ یو ایس ایڈ سے گزارش ہے کہہماری اسلامی تہذیب کو مغرب میں لاگو کریں تاکہ وہاں بیوی اپنے شوہر کو بہن اپنے بھائی کو پہچان سکے۔مجھے امید ہے کہ گلگت بلتستان کے بھائی ، بہنیں اس پالیسی کو سمجھے کہہم سے زیادہ امریکہ میں زیادہ غربت اور فکری روانی بحران ھیں اسکے باوجود یہ این جی اوز یو ایس ایڈ وغیرہ کو ھماری فکر کیوں ہے؟ !!!

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments