وزیر اعلیٰ کی خوشخبری اور عوامی رائے 

تحریر: عافیت اللہ غلام ؔ

وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن ایک اور خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں خواتین یونیورسٹی قائم ہوگی ،ا سے بھی ماضی میں سنائی گئی دیگر بہت ساری خوشبریوں کی طرح محض زبانی قرار دیا جائے یا پھر اسی وجہ سے سنجیدہ لیا جائے کہ صدر مملکت ممنون حسین صاحب نے بھی گزشتہ سال اپنے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر اس علاقے میں خواتین کے لیے علیٰحدہ یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا تھا ۔ بہر حال جیسا بھی ہو وزیر اعلیٰ صاحب کی جانب سے ایک بار پھر اس خطے میں خواتین کی الگ یونیورسٹی کے قیام کے اعلان کے بعد عوام بالخصوص ان خاندانوں کے با پردرہ خواتین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جو اپنے علاقے کی مخصوص روایات اور دینی مسلہ مسائل کی وجہ سے خودکو مخلوط نظام تعلیم میں شامل نہیں کرپاتی ہیں اور یوں وہ سکول اور کالج سطح کی تعلیم سے آگے نہیں جاسکتی ۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے خواتین کی تعداد تقریباً95% ہے جو بے شمار ٹیلنٹ اور قابلیت کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ عوام وزیر اعلیٰ صاحب کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ اعلان بھی ماضی کی طرح محض زبانی نہیں ہونی چاہیے اور اس اعلان پر عملدآمد کرانا صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔ جب تک عوام سے کئے گئے وعدوں اور خوشخبریوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جائیگا عوام انہیں محض زبانی ہی قرار دیں گے ۔ ہم وزیر اعلیٰ صاحب کو یاد دلانا چاہیں گے کہ اُنہوں نے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کراکر اس خطے کے عوام کی 70 سالہ محرومیوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا پھر سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب نے بھی لالک جان سٹیڈیم گلگت میں منعقدہ ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران اس مقصد کے لیے سرتاج عزیز صاحب کی سربراہی میں آئینی اصلاحاتی کمیٹی بنانے کی خوشخبری سنادی ۔ بعد ازاں مذکورہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنے سفارشات مرتب کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف کو حتمی منظوری کے لیے بھیج دی مگر اُنہوں نے ان سفارشات پر دستخط نہیں کئے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک عدالتی فیصلے پر گھر چلے گئے پھر ہمارے وزیر اعلیٰ نے نئے سرے سے ایک اور نئی جائزہ کمیٹی بنائے جانے کی خوشخبری سنادی اور اب بتایا جارہا ہے کہ مذکورہ کمیٹی نے بھی اپنی سفارشات کو فائنل کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھیج دی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سے ہماری گزارش ہے کہ وہ کم از کم ان سفارشات پر وزیر اعظم سے دستخط کرانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ بتایا جارہاتھا کہ آج یا کل میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاحب گلگت بلتستان کے دورے پر آرہے ہیں اس موقع پر جی بی کے عوام کو یہ خوشخبری ملنی چاہیے تھی کہ اس خطے کو بھی آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۱ میں شامل کرکے قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی جاتی ہے مگر ایسا ممکن نہیں ہوا اور شاہد خاقان عباسی نے اپناحالیہ دورہ گلگت بلتستان کینسل کردیا، اس پر بھی عوام اپنے وزیر اعلیٰ صاحب پر ہزاروں سوالات اُٹھائیں گے ۔ اس کے علاوہ وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب نے 2 سال قبل گھڑی باغ میں منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کے دوران اکتوبر / نومبر 2016 ؁ء میں پورے گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی خوشخبری سنادی تھی وہ اپنے اس اعلان کو بھی عملی جامہ نہ پہنا سکے ، پھر گزشتہ سال وزیر اعلیٰ صاحب کا یہ بیان سامنے آگیا کہ جو ن 2018 ؁ء سے قبل بلدیاتی انتخابات ہر حال میں ہوں گے لیکن اب تک اس کے بھی آثار ممکن نظر نہیں آرہے ہیں اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ صاحب نے بہت ساری چھوٹی موٹی خوشخبریاں سنادی مگر وہ خوشخبریاں محض خوشخبریاں ہی رہی ہیں اور اب خواتین کی الگ یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کر رہے ہیں اس وعدے کو ہر حال میں پورا کرنا ہوگا اگر گلگت بلتستان میں خواتین کی الگ یونیورسٹی کے قیام کی منظوری میں کوئی رکاوٹ حائل آتی ہے اور پاکستان میں یونیورسٹی کی تعلیم کو مخلوط نظام سے مشروط قرار دیکر معاملہ ٹال دیا جاتا ہے تو ہم وزیر اعلیٰ صاحب کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے راولپنڈی جیسے بڑے اور اعتدال پسند ماحول کے شہر میں فاطمہ جناح یونیورسٹی کے نام سے خواتین کے لیے الگ یونیورسٹی قائم ہوسکتی ہے تو گلگت بلتستان کا ماحول قدرے قدامت پسند ہے اور یہاں پر مذہبی و دینی مسلہ مسائل بھی اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اس خطے کی تقریباً 95% ایسی خواتین کے لیے بھی اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول دیے جائیں جو مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے گھروں میں محصور ہیں ۔ اگر وزیر اعلیٰ صاحب اپنے اس اعلان پر عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ ان کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوگی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments