سانحہ راولپنڈی کے اثرات

عدم برداشت، بر بریت، ظلم و زیادتی ،قتل و غارت گری ،ہمارے معاشرے میں ان تمام برائیوں کا ذکر آئے روز ہوتا ہے،لیکن جس بر بریت کا مظاہرہ سانحہ راولپنڈی میں دیکھنے کو ملا وہ نہ صرف نا قابل بیان ہے بلکہ انسانیت سوز بھی ہے۔ ١٠ محرم الحرام عاشورہ کے دن جب تمام مسلمان حضرت امام حسین (رض) کی کربلاکے میدان میں اسلام کی سربلندی اور حق کی فتح کے لیے دی گئی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے تھے، ایسے میں راولپنڈی کے انتہائی مصروف علاقے راجہ بازار میں انسانیت سوز مناظر دیکھنے کو ملے ،اور اس سانحے کے نتیجے میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق 10 سے ذائد افراد کی زندگیاں چھین لی گئیں اور 50 سے ذائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ مسجد و مدرسے سمیت کئی دکانوں کو نذر آتش کیا گیا.

سانحہ راولپنڈی میں قتل و غارت گری کا وہ بازار گرم کیا گیا جس کی مثال کہیں نہیں ملتی، انسا نیت کا اس بے دردی سے قتل عام پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا. اس سے پہلے بھی بیسوں ایسے سانحات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن اس سانحے نے جیسے پاکستان کی سر زمین کو ہلا کر رکھ دیااس آگ میں مذید کتنے گھر جلیں گے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔کپڑے کالے ہوں یا سفید ،داڑھیاں لمبی ہوں یا چھوٹی انسانیت کا اس طرح قتل عام کرنے والے نہ صرف دہشت گرد ہیں بلکہ حیوانوں سے بھی بد تر ہیں.

سوشل میڈیا پر اس سانحے کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی جنھیں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں ، اس واقعے کے پیچھے کیا محرکات تھے اور یہ سانحہ کیوں پیش آیا یہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد پتا چلے گا ،تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور سیاسی شخصیات نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے. لیکن اس سانحے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے حوالے سے جو بحث چھڑگئی ہے وہ علاقے میں عدم استحکام اور بد امنی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہے،وفاقی حکومت نے دل آزار اور فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینے والے پوسٹس کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان کر کے احسن اقدام کیا ہے.

راولپنڈی سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ دوست اس واقعے میں ملوث شر پسندوں کادفاع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں چھپی ہوئی گندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، آج ہم سچ کو سچ ماننے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں ، ماضی میں ایسے سانحات میں معاشرے کے تما م افراد نے نہ صرف مذمت کی بلکہ ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ،اگر ہم آج بھی مصلحتوں کا شکار رہے اور ملک بھر میں آگ لگانے والے درندہ صفت انسانوں کا دفاع کرتے رہے تو مستقبل میں اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔سانحہ راولپنڈی میں ملوث افراد کے خلاف حکومتی سطح پر احسن اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، واقعے میں ملوث افراد کی تصاویر نہ صرف سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہے بلکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز سمیت سوشل میڈیا پر ان مجرموں کو باقاعدہ ایکشن میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اس لئے حکومت کو مجرموں تک پہنچنا مشکل نہیں ہے، جس واقعے نے پورے ملک میں افرا تفریح پیدا کی ،نفرتوں کو ہوا دی ،فرقہ وارانہ فسادات پیدا ہوئے، اتحاد بین المسلمین کی دھجیاں بکھیر دیں ،اور یوم عاشور کے تقدس کو پامال کیا ایسے واقعے میں ملوث افراد چاہے وہ جس مسلک سے بھی تعلق رکھتے ہوں ،ان کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے ،ایسے افراد کی حمایت کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

گلگت بلتستان میں اس سال محرم الحرام کے دوران بین المسالک باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا گیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن ایسے بیانات اورسوشل میڈیا کے ذریعے نفرتیں پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیے جو اس پرامن ماحول کو خراب کرنے کا موجب بن سکیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس واقعے کی حکومتی سطح پر انکوائری کا انتظار کریں ،فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے والوں کے عزائم کو ناکام بنائیں،یہ ریاست کی ذمہ داری ہیکہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف مہیا کرے اور مجرموں کو سزا دے۔ 

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

9 تبصرے “سانحہ راولپنڈی کے اثرات

  1. عجیب نرالی منطق ہے اس مضمون نگار کی. خود فریبی کا یہ عالم پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے، نہ ہی سناہے۔

    ارے میرے دانشور دوست، آپ ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سانحہ راولپنڈی جیسا واقعہ پہلے کبھی بھی نہیں ہوا ہے۔ آپ کی اس لاعلمی، یا عارفانہ تغافل، کو سلام۔

    جناب، آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ سانحہ لولوسار، سانحہ بونر داس (چلاس) اور سانحہ کوہستان میں پتھروں، لاتھوں، گھونسوں اور گولیوں کا نشانہ بننے والے کس کھاتے میں جاینگے؟ کویٹہ میں سینکڑوں لوگوں کی ہلاکتیں کس ضمرے میں شمار کی جاینگی؟ کراچی میں جو کچھ عرصہ دراز سے ہو رہا ہے اور جس طرح ایک فرقے سے وابستہ افراد کا قتل عام کیا جارہا ہے اس کو کس کھاتے میں شمار کیا جاییگا؟ ان ہزاروں اموات کے سامنے اس انتہایی افسوسناک واقعے کو “سنگین ترین” کہنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک) آپ کو دوسرے واقعات کا علم نہیں ہے، اور ۲) آپ اپنے فرقے کے افراد کی اموات کو بڑھاچڑھاکر پیش کر رہے ہیں۔

    یہ تو ممکن نہیں ہے کہ آپ کو اوپر بیان شدہ واقعات اور کچھ شدت پسند تنظیموں کی کھلے عام قتل و غارت کی دھمکیوں کے بارے میں علم نہ ہو۔ البتہ غالب امکان یہی ہے کہ آپ اپنے فرقے پر ہونے والے مظالم کو دوسروں پر ہونے والے مظالم سے زیادہ بیان کرنا چاہ رہے ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ یہ مضمون لکھتے وقت آپ نے صحافت کے ذرین اصولوں کو پایمال کیا ہے، اور معروضی حقایق بیان کرنے کی بجایے جلتی پر تیل چھڑکنے کی کوشش ہے۔ آپ کچھ بھی کہے، آپ کا یہ مضمون معروضیت کے معیار پر اترتا ہے نہ ہی اس میں ذمینی حقایق بیان کرنے کی سعی کی گیی ہے۔ ایساکرنے سے پہلے آپ کو ہزار بار سوچنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی فرقے کے دس افراد کی اموات (آپ کی دی ہوی اعداد وشمار کے مطابق) ایک بہت بڑا سانحہ ہے، لیکن اس سے بڑے سانحے دوسرے فرقوں کے ساتھ بھی ہو چکے ہیں، جن کونظر انداز کر کے آپ نے جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔

    جاتے جاتے یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ میرا تعلق اہل تشیع سے نہیں ہے، اور نہ ہی میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ میں آپ کے قلم قبیلے کا حصہ ہوں، اور قلم کے حرمت کی خاطر یہ لمبا کمنٹ پوسٹ کر رہا ہوں۔

  2. Maazrat chahta hun jinab jahan tak firqa parasti ki baat hay to is tehreer k kisi bhi jumle se ye zahir nahe hota albatta apke comments se zarur firqa wariat ki bu arahi hay. jahan tak saneha e lulusar or kohistan k waqiat ka taaluk hay to kaalam nigar ne apne kaalam main unka bhi zikar kia hay. mujay lagta hay k ap ne zarur is kaalam ko firqawariat ka chashma laga kar parha . aur akhar main apka ye btana keh mera taluk GB se nahe ya main ahle tashee se taluk nahe rakhta to ap ki yahe baat apke gilgity hone ki cheekh cheekh kar daleel derahi hay. khair main bhi itna lamba comment is liye deraha hun keh ap jaise log hi musbit batun ko bigar kar manfi bnate hain hain or firqa wariat k sholun ko hawa dene ka bais bante hain.. or main dua karta hun k Allah Pakistan ko Ap jaise logo k shar se mehfooz rakhe

  3. توقیر صاھب آپ نے راولپنڈی سانحہ کو صرف ، افسوس ناک واقعہ ،قرار دیکر اس پر مٹی ڈالنے کی ناکام کوشش کر کے اپنے تاثرات پر تعصب کا زھریلا پانی ڈال دیا ھے کالم نگار نے ملک میں رونما ھو نے والے دیگر سانحات کا حوالہ نام لیے بغیر دیا ھے جس پر آپ کی نظر رکی نہیں ھم سمجتھے ھے کہ آپ کو بھی راے کا اظہار اور کسی کی رہنمائی میں انصاف سے کام لینا چا ھے نہ کے سانحہ کو واقعہ قرار دیکر دبے الفاظ میں دہشتگردی کا دفاع کرنا چا ھے

  4. میں چند اعداد و شمار آپ کی خدمت میں پِش کرتاہوں، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ سانحہ راولپنڈی بہت افسوسناک اور المناک اور ناقابل برداشت ہے، لیکن ان سے بھی بڑے سانحات اس مملکت خداداد میں رونما ہو چکےہیں.

    ١. کراچی میں سنی تحریک پر نشتر پارک میں حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم ساٹھ افراد جان بحق ہو گئے.
    ٢. بیس مارچ ٢٠٠٥ جنوبی بلوچستان کے ایک مسجد (شعیوں کی) پر حملہ، ٤٣ افراد جان بحق
    ٣. یکا غوند گاؤں (خبر پختونخواہ) میں ایک خودکش دھماکہ، جس میں ایک سو چار افراد جان بحق ہو گئے. تاریخ: ١٠ جولائی ٢٠١٠
    ٤. پانچ نومبر ٢٠١٠، درہ آدم خیل میں ایک مسجد پر حملہ، کم از کم اٹھاسٹھ افراد جان بحق ہوے
    ٥. ڈیرہ غازی خان میں یکم اپریل ٢٠١١ کو ایک صوفی کے مزار پر حملہ ہوا، جس میں کم از کم پچاس افراد جان بحق ہوے
    ٦. جمرود (خبر ایجنسی) میں ١٩ اگست ٢٠١١ کو ایک خود کش حملہ اور نے ایک مسجد کو نشانہ بنایا، کم از کم پچاس افراد جان بحق ہوے.
    ٧ مستونگ میں ایک بس پر حملہ کیا گیا، ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے کم از کم ٢٣ افراد جان بحق ہوے
    ٨. پارہ چنار مارکیٹ میں ١٠ ستمبر ٢٠١٢ کو ایک حملہ ہوا، ١٢ افراد جان بحق ہوے

    میں یہاں پر کوئٹہ میں ہوںے والے حملوں، عباس ٹاون حملے اور دوسرے تمام حملوں کی تفصیل میں جا کر، کہ جن میں سو سو سے زیادہ افراد ایک ساتھ جان بحق ہوے، یا پھر چرچ پر حملہ یا قصہ خوانی بازار پر حملہ جیسے واقعات میں جا کر، آپ کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا.

    اگر ان تمام حقائق کے باوجود بھی آپ مجھے غلط سمجھتے ہیں، اور سانحہ راولپنڈی کر سنگین ترین واردات سمجھتےہیں، تو سو بسم الله.

    کسی استاد نے کیا خوب فرمایا ہے کہ …. اظہار رائے کی آزادی ہے، لیکن حقائق بہر حال ہمیشہ مقدم ہوتےہیں.

  5. janab TOWQEER sb beshak ap ka ye kehna baja hay k LULUSR of KOHISTAN ka hadisa b ak saniha hay. shayad kalam nigar ka ye ak kalam ko ap ki nazar padi hogi lakin kalam nigar nen sanihae LULUSAR or KOHISTAN k doran b muzammati mazmon likh chukay hen shayad ap ki taassubana nazar un pe nai pad gai hoge. or han un sb sanihat se b bda or afsosnak saniha pindi wala IC liye hay jahan pe insani janon k alawa Masjid or ALLAH ki MUQADDAS kitab QURAAN PAK or dosri Muqaddas kitaben bi shaheed kr di gai.

    akhr men men b ap ko ak bat btata chalon k braye meherbani apni wo FIRQAWARIAT ka Chashma utar k padh logay to ap k smajh men ajayega.

  6. قانون کی بالا دستی

    ہندوستان کے بادشاہ علاوالدین خلجی کا دور ہے ایک بیوہ اس کے پاس فریاد لے کر پہنچتی ہے حضور میں ایک غریب بیوہ ہوں اور محنت مزدوری کرکے اپنے دو بچوں کا پیٹ پالتی ہوں ہمارے پڑوس میں ایک خوشحال گھرانہ رہتا ہے جس کے باورچی خانے سے روز انہ لذیذ کھانوں کی خوشبو آتی ہے ایک ہفتے پہلے میرے بچوں نے بریانی کھانے کی ضد کی تو میں نے چرخہ کات کات کر تھوڑے پیسے بچائے اور ان سے بریانی پکانے کے لئے دو پیسے کے چاول خریدے جو پونے دو سیر ہونے چاہئے تھے مگر وہ ڈیڑھ سیر نکلے دکاندار سے شکایت کی تو اس نے میری بے عزتی کی اور دھکے دے کر مجھے دکان سے بھگا دیا عورت نے اپنی داستان ختم کی تو بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا وہ فورا بھیس بدل کر خاتون کے ساتھ ہو لیا مگر دکاندار کے پاس جانے کے بجائے پہلے غریب عورت کے گھر گیا اس نے ایک بچے سے دو پیسے کے چاول منگوائے وہ وا قعی پاوٗ ٗبھر کم نکلے اب بادشاہ نے سپاہی بھیج کر دکاندار کوطلب کیا اس طرح غریب عورت کے گھر عدالت لگ گئی اور باہر کئی لوگ جمع ہوئے دکاندار کے پاٹوں کا معائنہ ہوا تو اس کی چالاکی پکڑی گئی دیکھنے میں تو وہ ٹھیک لگتے تھے مگر ہر پاٹ کے پیندے میں سوراخ کرکے اسے مو م سے بند کر دیا گیا تھا علاوالدین کی عقابی نگاہوں سے وہ پوشیدہ نہ رہ سکا قانون کے مطابق سزا سنائی گئی سزا سنتے ہی دکاندار کا رنگ پیلا پڑ گیا دو طاقتور سپاہوں نے دکاندار کو قابو کیا ایک نے تیز دھار چھری سے اس کی ٹانگ کا ایک پاوٗ گوشت کاٹ کر ترازو میں رکھا اور چاولوں کا وزن پورا کر دیا ۔دیکھنے والوں کے لئے یہ ایسا خوفناک سبق تھا کہ آئندہ کوئی دکاندار کم تولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا وہاں کھڑے کئی لوگ تھرتھر کانپ رہے تھے ۔میں جانتا ہوں کہ یہ سزا بہت سخت ہے بادشاہ نے پورے جاہ و جلال سے کہا مگر میری نظر میں قانون توڑنا بڑا جر م ہے۔۔ ماضی کے اس واقعہ کی روشنی میں جب حال کے حکمرانوں اور رعایا کے حال کا جائزہ لیا جائے تو حالات یکسر مختلف نظر آتے ہیں لگتا ایسا ہے کہ ماضی بعید کی باتیں یا واقعات تو دور کی بات ہے ماضی قریب کے واقعات بھی ہمیں یاد نہیں ہم ماضی کوبھول چکے ہیں اور اسے یاد کرنا ہی نہیں چاہتے اور نہ ہم عبرت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو عبرت کا سبق دینا چاہتے ہیں اور شائد اس لئے کہ ہم دوسروں کے لئے عبرت کا مقا م بننا چاہتے ہوں ۔( اللہ نہ کرے) ہمارے ملک میں آٓئے روز نت نئے قانون بنتے ہیں اور ان قوانین کے اندر مذکورہ بالا واقعہ سے زیادہ سخت سزائیں بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پھر کیا وجہ ہے کہ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گر م اور اپنی اپنی من مانی کا راج جاری ہے کیا مجال کہ کوئی قانون کی پاسداری کرے۔ لگتا ایسا ہے کہ یہاں ہر ایک کا اپنا قانون ہے اور ملک کا قانون صرف عدالتو کی پیشیوں تک محدود ہوچکا ہے کئی سالوں بعد ایک ادھ کیس کا فیصلہ آ بھی جاتا ہے تو اس پر بھی عمل درآمد کرانے میں ہمارے مسلکی اور قومیتی خود ساختہ قانون آڑے آجاتے ہیں اور ہم لوگ بھی اسی طرح کا قانون ہی چاہتے ہیں جس طرح مچھلی کا ایک شکاری شکار کھیلنے سے پہلے اپنی مرضی کا ٹاس کرتا تھا۔ مچھلی کے شکاری نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ میں کوئی کا م ٹاس کے بغیر نہیں کرتا اس لئے کبھی ناکا م نہیں ہوتا آج صبح ٹاس کر کے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے مچھلی کے شکار پر جانا چاہئے یا عبادت کے لئے ۔دوست نے پوچھا پھر کیا ہوا ۔ شکاری نے کہا بڑا سخت مرحلہ تھا مجھے چھ دفعہ سکہ اچھالنا پڑا تب کہیں جا کر شکار کے حق میں فیصلہ ہوا ۔بلکل یہی حال ہمارے ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا لگتا ہے وہ بھی شاید اس مچھلی کے شکاری کی طرح ٹاس کرتے ہونگے کہ ان کو ایکشن لینا ہے یا آنکھیں بند کر کے چپ سادھ لینی ہے اور شائد انھوں نے چپ سادھ لینے کو ترجیح دی ہوئی ہے اور آئے روز اس ملک کی قانون کی ہزاروں خلاف ورزیاں ہوتی ہیں لیکن سزا کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا اور سزائیں نہ ہونے کے باعث جرائم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کسی ملک میں قانون کی عملداری نہیں ہوتی ہے تو وہاں ضابطہ اخلاق پر کیا خاک عمل ہوگا ضابط اخلاق سے یاد آیا کہ گلگت میں بھی فرقہ واریت کا سد باب کرنے کے لئے یہاں کے دو بڑے فرقین میں ایک امن معاہدہ باہم رضا مندی سے طے پایا تھا اور اس پر عمل درآمٓد کے لئے ایک ضابطہ اخلاق بھی مرتب اور ترتیب دیا گیا تھا لیکن لگتا ایسا ہے کہ اس امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کا یا کروانے کا کسی کا موڈ نہیں مساجد بورڈ اور وہ حضرات جو اتفاق اور اتحاد کے لئے دن رات محنت اور کوشش کر رہے ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مساجد بورڈ ،اسماعلیہ ریجنل کونسل اور اہل سنت والجاعت سے تعلق رکھنے والے مخلص ،ہمدرد اور محب وطن حضرات ایک دوسرے کے پیچھے دکھاوے والی نماز یں یا جلوسوں کے ساتھ چلنے کے بجائے اصل اور پائیدار حل کے ضامن اس امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائیں تاکہ علاقے میں پائیدار امن قائم ہوسکے کیا وزیر اعلیٰ کا اخباری بیان کہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کو یقنی بنایا جائیگا یا ایک دوسرے کے پیچھے دکھاوے کی نمازیں اور مجالس کے سننے سے علاقے میں امن آسکتا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ صوبائی حکوت کسی طرح سے
    محر م عاشورہ کے دن کو ٹالنا چاہتی ہے جووقتی طور پر تو ٹھیک لگتا ہے لیکن نا پائیدار۔ امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق جس کو قانونی شکل بھی دی گئی اگر اس پر سختی کے ساتھ عمل درآمد ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کسی مصلحیت کا شکار ہوئے بغیر سخت ترین سزا بادشاہ علاو الدین خلجی کی طرح سب کے سامنے دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس سے دوسرے عبرت حا صل نہ کریں ۔ سزا کے معانی انتقام لینا نہیں بلکہ مجر م کو راہ راست پر لانا اور دوسروں کو عبرت دلانا ہے ۔کیا اس ملک میں کوئی ایسا حکمران آئیگا جو بھیس بدل کر لوگوں کی داد رسی کرے؟

  7. سانحہ راولپنڈی
    ہر سال محرم ہمیں کربلا کی یاد دلاتا ہے اس مہنے میں ہمیں حسین بہت زیادہ ہی یاد آتے ہیں اور آنا بھی چاہئے کیونکہ حسین جراعت کی نشانی ہے حسین قربانی کی نشانی ہے حسین عدل انصاف کا نام ہے لیکن اب دور جدید کا محرم ان تمام چیزوں سے خالی اور پھیکا بنتا جارہا ہے اب محرم جب بھی آتا ہے غریب اور مظلوم مسلمان سہمے سہمے سے اور ڈرے ہوئے لگتے ہیں اس لئے کہ اب محرم ایثار اور قربانی کے جذبے سے نہیں بلکہ اس میں اب کربلا ہی کے مناظر حقیقی طور پر دکھانے کا بندوست ہوتا ہے ۔اب تو پاکستان کا ہر شہر کربلا کا منظر پیش کرتا ہے امام بارگاوں مسجدوں چرچ میں آہوں سکسیوں میں ڈوبی لاشیں کیا کسی کربلا سے کم منظر پیش کرتی ہیں ۔اب کے محرم میں نو دن خیر سے گزر گئے تو دل کو تسلی ہوئی تھی کہ اب کے بار یہ عاشورہ خریت سے گزر جائیگا لیکن راولپنڈی کے دل خراش سانحہ نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ افسوس اب بھی ہم دشمن کی چالوں کو نہیں سمجھ سکیں ہیں دشمن نے تو اپنا کام بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا اور فرقہ واریت کی چنگاری جلا دی ہے اور دشمن کے ہاتھوں میں کھلونا بننے والے جذباتی مسلمان کبھی اللہ کے نام پر کبھی رسول کے نام پر کبھی حسین کے نام پر کبھی کسی اور آئمہ کے نام پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔ راولپنڈی سانحہ اتنا شدید ہوا کہ دشمن اگر یوم عاشور پر لاشوں کا ڈھیر لگا کر خوش ہے تو قوم کو فکر اس بات کی کرنی چاہیئے کہ یہ آگ فرقہ پرستی کی آگ میں نہ بدل جائے۔ دو گروہوں کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی 14افراد کی جان لے چکی ہے اور پچاس سے زائد افراد زخمی ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تصادم کا آغاز یوم عاشور کے جلوس کے اختتام کے بعد ہوا۔ یوم عاشور کا جلوس جب فوارہ چوک کے قریب واقع جامعہ تعلیم القرآن کے قریب سے گزر رہا تھا تو جامعہ سے جلوس جلد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس کے بعد تصادم شروع ہو ا۔اور مشتعل افراد نے املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ فسادیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے مدرسہ تعلیم القران کو اور اس سے ملحقہ دکانوں کو نذر آتش کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اہلسنت افراد کا کہنا ہے کہ جانی و مالی نقصان زیادہ ہوا ہے۔ مشتعل نما شرپسند افراد نے پولیس والوں سے سرکاری رائفلز چھین کر اس سے فائر بھی کئے۔ سانحہ کےبعدحکومتِ پنجاب نے کرفیو کا نفاظ کر دیا ہے
    دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے اب تو ہر خبر پلک جھپکتے ہی دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاتی ہے اس سانحہ کی باز گشت گلگت کی فضاوٗں میں بھی سنائی دینے لگی ہے اور تنظیم اہل سنت ولجماعت کے امیر کی طرف سے جوڈیشل انکوئری کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کی انکوئری سپریم کورٹ آف پاکستان سے کروائی جائے۔۔ ہمیں یہ فکر نہیں کہ اس کی انکوئری کس سے کروائی جاتی ہے فکر ہے تو صرف اس بات کی دو گروہوں کا تصادم کہیں بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ بنے اس دل خراش واقع کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب حکومت اس دل خراش واقعے کی صاف اور شفاف طریقے سے تحقیقات کو یقینی بنائے تاکہ اس واقعہ سے متاثر ہونے والے مطمعن ہو سکیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فرقہ واریت کا روپ دھارے اور ملک کو جلا کر بھسم کر دے

  8. فرقہ وارانہ درندگی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہ شیعہ کرے یا سنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حنفی کرے یا اہلحدیث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمان کرے یا کافر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاغان اور کوہستان میں بسوں سے اتار کر اور شناخت کر کے ماردیئے جانیوالے اہل تشیع بھی اتنے ہی مظلوم ہیں جتنا کہ کل راولپنڈی میں شیعیوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہونے والے سنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فرقہ وارانہ فسادات اپنی ہر صورت میں قابل مذمت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خواہ ان کا شکار بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے اہل تشیع ہوں یا سانحہ نشتر پارک کراچی میں مارے جانیوالے بریلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا راولپنڈی میں مارے جانے والے دیوبندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پشاور چرچ پر حملے میں مارے جانے والے عیسائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر کسی بھی شخص کو ہم صرف عقیدہ رکھنے کی وجہ سے حق زندگی سے محروم کرتے ہیں تو پھر خود ہمیں بھی کوئی عقیدہ رکھنے کا حق نہیں!!

تبصرے بند ہیں