منشیات سے پاک گلگت بلتستان

تحریر۔فیروز خان

یہ گلگت بلتستان کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ آئی جی پی گلگت بلتستان نے سال 2018 کو منشیات سے پاک سال قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے ایس ایس پیز کو اس لعنت کے خاتمے کا ٹاسک دے دیا۔آئی جی کے احکامات جاری ہوتے ہی تمام اضلاع کی پولیس منشیات فروشوں کے خلاف متحرک ہو گئی اور مختلف اضلاع میں آپریشن کر کے نہ صرف منشیات برآمد کر لی بلکہ منشیات کے بیوپاریوں کو سرکاری مہمان خانے پہنچا دیا۔آئی جی گلگت بلتستان کا یہ اقدام لائق تحسین ہے لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ریا ستی اداروں اور بالخصوص پولیس محکمے میں موجود منشیات فروشوں کے سرپرستوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ دور حاضر کا سب سے بڑا المیہ منشیات ہے جس نے بے شمار زندگیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجواں نسل کو تباہ کر کے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے ساتھ ترقی کے مواقع روکنا چاہتے ہیں گلگت بلتستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک خاص گروہ نوجوان نسل کو منشیات کے عادی بنانے کی مشن پر عمل پیرا ہیں ۔اور اب تک وہ کسی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں ایسے میں آئی جی پی گلگت بلتستان کی اس مشن کو اجتماعی طور پر کامیاب بنانے کی ضرورت ہے موجودہ وقت میں گلگت بلتستان میں چرس کا کاروبار کھلے عام جاری ہے اور اس کاروبار سے منسلک سماج دشمن عناصر ڈنکے کی چوٹ پر آئے روز اس منافع بخش کاروبار کو وسعت دے کر مستقبل کے معماروں کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ہم سب جانتے ہیں کہ چرس کی پیداوار گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلع میں نہیں ہوتی تو ایسے میں اتنی بھاری مقدار میں چرس کس راستے اور کس ذرائع سے گلگت بلتستان پہنچایا جاتا ہے کیا اس کاروبار سے منسلک افراد اس قدر طاقت ور ہیں کہ وہ ریاستی اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے یا ان کی آنکھ میں دھول جھونک کر اس لعنت کو گلگت بلتستان کے کونے کونے میں پہنچا رہے ہیں ایسا بلکل بھی نہیں درحقیت پولیس اور منشیات کو روکنے والے دیگر اداروں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو منشیات فروشوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں دراصل یہی ہیں وہ لوگ جن کی بدولت گلگت بلتستان کے کونے کونے میں چرس ،آفیون ،شراب یہاں تک کہ ہیروئن بھی ٹافی کی طرح کھلے عام بک رہا ہے آئی جی صاحب اگر آپ گلگت بلتستان کو منشیات سے پاک کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہاں کے عوام زندگی بھر آپ کو اپنے محسن کے طور پر یاد رکھیں گے۔معاشرے سے منشیات کی سدباب صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اس لعنت کی روک تھام کے لئے ہمیں اپنی ذات اور اپنے گھروں سے اس ناسور کے خلاف اعلان جہاد کرنا ہوگا۔ہمیں سب سے پہلے یو خود کو منشیات سے دور رکھنا ہوگا اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم سے چھوٹے ہمارے بھائی بچے ہماری راہ راست پر چلتے ہوئے اس بری عادت سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کریں گے ۔لیکن یہاں پر ایک اور اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہم سب کو کرنا پڑ رہا ہے ہم سگریٹ نوشی،شراب ،افیون اور چرس کی مخالفت تو کر رہے ہیں لیکن ان کے سدباب کرنے میں خود حکومت مخلص نظر نہیں آرہی حد تو یہ ہے کہ سگریٹ کو جائز قرار دے کردھڑلے سے فروخت کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ اخلاق اور قانون کا اس بری طرح مذاق اڑایا جا رہا ہے کہ سگریٹ کی ڈبیہ کے اوپرسگریٹ کے مضر اثرات جن میں دل کی بیماریاں کینسر اور پھپھڑوں کی بیماریوں کی اصل وجہ سگریٹ کو قرار دےئے جانے کے باوجوداس کو کھلے عام بیچنے کی قانونی طور پر اجازت دی گئی ہے اور یہ منافقت ذرائع ابلاغ،حکومت اور اخلاق سدھارنے والے اداروں کے منہ پر تمانچے سے کم نہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ قوم فکری ،روحانی اور جسمانی اعتبار سے مفلس ہوتی جا رہی ہے ۔سگریٹ کی کھلے عام استعال کی اجازت دینے والو اسی نشے کی لت میں مبتلا ہونے والے ہمارے بچے اسی کی آڑ میں چرس ،افیون اور یہاں تک کہ ہیروئن کے عادی بن چکے ہیں ایک طرف ان جدید منشیات نے نوجوان نسل کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا ہے تو دوسری طرف گلگت بلتستان میں شراب کے عادی لوگوں نے بھی اپنی زندگی کو داؤ پر لگا دیا ہے نہ صرف یہ بلکہ یہ شراب ہی ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں جرائم کی شرح میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔آئی جی پی صاحب اگر گلگت بلتستان میں صرف شراب کی بنانے اور چرس کو گلگت بلتستان کے حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تو سمجھ لینا آپ نے گلگت بلتستان میں پچاس فیصد جرائم پر قابو پالیا اور آپ اپنے اس نیک مشن میں کامیاب ہو گئے ۔آئی جی پ صاحب گلگت بلتستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد آئے روز بڑھتی جارہی ہے اور آج اگر اس وباء کو روکنے کے لئے سنجیدہ اورمناسب اقدامات نہیں کئے گئے توآنے والے وقتوں میں اس پر قابو پانا نہ صرف آپ بلکہ کسی کے بھی بس میں نہیں ہو گا آپ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے مسیحا بن کے آئے ہیں اس برائی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کریں اور گلگت بلتستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں درج کروائیں۔ ہماری دعا ہے خدائے رب ذوالجلال تجھ اس نیک کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments