ضلع داریل تانگیر کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری ہوچُکا ہے، ہیڈکوارٹر کا تعین ہونا باقی ہے، حیدر خان صوبائی وزیر

چلاس ( ڈسٹرکٹ رپورٹر)     صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و عشر زکٰوة حاجی حیدر خان نے کہا ہے کہ داریل تانگیر ضلع کا نوٹیفکیشن ہو چکا ہے ہیڈ کوارٹر کا تعین ہونا باقی ہے ۔ داریل اور تانگیر کے چالیس چالیس افراد پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جنہوں نے داریل اور تانگیر کو الگ الگ اضلاع بنانے کی سفارش کی ہے ۔ حکومتی جانب سے اس پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے ۔ چلاس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور عشر زکٰوة کے دفاتر کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ڈرامہ ہے مسلم لیگ کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ تمام ممبران اسمبلی وزیراعلیٰ پر  بھرپور اعتماد کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیامر میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے زمینوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں سالانہ کروڑوں روپے واپس ہوتے ہیں ۔ سرکاری اراضی پر سٹے آرڈر جاری کرنے کی روایت ختم ہونی چاہیے ۔ دیامر میں مختلف سرکاری محکمہ جات کے ٹینڈر ہوچکے ہیں پیسے بھی موجود ہیں لیکن زمینوں پر  معزز عدالتوں نے حکم امتناعی دے رکھا ہے جس سے ترقی کا عمل جمود کا شکار ہے ۔ مقامی لوگ تھوڑی قربانی دیں ۔ اگر عوام کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کے دفاتر کیلئے اراضی نہ دینے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر حکومت بھی دیامر استور کے ہیڈ کوارٹر کیلئے متبادل جگہ حاصل کرنے پر مجبور ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ معزز ججز بھی سرکاری اراضی اور ترقیاتی منصوبوں پر سٹے آرڈرز جاری نہ کریں تاکہ ترقیاتی عمل جاری رہے ۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا سی بی ایم کے ترقیاتی منصوبوں کو جی بی آر ایس پی کے ذریعے تعمیر کرایا جائے ۔ واپڈا نے کڑی شرائط عائد کر کے مقامی ٹھیکیداروں کو شارٹ لسٹ نہیں کیا اور دیگر پاکستان کے دیگر شہروں سے کنٹریکٹرز کو ٹھیکے دیئے جنہوں نے مقامی لوگوں کو اپنا کمیشن لیکر کام دیئے یہی وجہ ہے کہ واپڈا کا کوئی منصوبہ معیاری تعمیر نہیں ہوا ۔ حکومت واپڈا تعمیراتی کاموں کا پیسہ جی بی آر ایس پی کو دے جو جہاں ضرورت ہو وہاں پراجیکٹس دے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کمشنر دیامر اور ڈپٹی کمشنر کی بھر پور محنت سے دیامر میں ترقی کا پہیہ چل پڑا ہے ۔۔۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments