بحیثیت چیف ایگزیکٹیو وزیر اعلی کو چاہیے کہ ہنزہ کے عوام کا خیال رکھے اور منصوبوں‌کی نگرانی کرے، گورنر میر غضنفر علیخان

ہنزہ (ا جلال حسین ) وزیر اعلی گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ بحیثیت چیف ایگزیکٹو گلگت بلتستان ضلع ہنزہ کے عوام کا خیال رکھتے ہوئے منصوبوں کی نگرانی کے، تاکہ بروقت ٹینڈر ہو۔  ہنزہ میں بڑھتی ہوئی بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کو مکمل ختم کرنے کے لئے میاں محمد نواز شریف کا تحفہ عطاآباد 32میگا واٹ منصوبے سے نہ صرف ہنزہ کو بجلی فراہم ہو گی بلکہ ضلع نگر اور گلگت تک بجلی کی فراہمی کی جاسکتی ہے۔ صحافی معاشرے کا آئینہ ہے جو بھی خبر لگے مصدقہ ہو بغیر تصدیق خبر  نہ صرف صحافی کو متنازعہ بناتا ہے بلکہ عوام بھی اُس اخبار سے دُ ور رہتے ہیں۔

ان خیالات کاا ظہار گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے ہنزہ میں پریس سے گفتگو کرتے ہوے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو گلگت بلتستان میں تین سال کا عرصہ عنقریب مکمل ہونے کو جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنزہ کے لئے دیے گئے منصوبے محکموں کی سطح پر رُکے ہوے ہیں۔ ان پر کام کا آغاز ہونا دور کی بات، ابھی ٹینڈرز بھی نہیں ہوے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو چاہیے کہ چونکہ حلقے کا منتخب نمائندہ مختلف مسائل کی وجہ سے موجود نہیں اس لئے علاقے میں جاری، یا تعطل کے شکار  ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے۔

گورنر گلگت بلتستان نے پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ ہم پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہنزہ میں بجلی کی بدترین بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے عطاآباد جھیل پر 32میگاواٹ بجلی کا میگا منصوبہ دیا تھا اور اس پر کام کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ انشااللہ صوبائی حکومت اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اس اہم منصوبے کو نہ صرف ٹینڈ رکریں گے بلکہ جو بھی کمپنی کامیاب ہو، ملکی ہو یا غیر ملکی۔ کو دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے، ے تاکہ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرے تاکہ اس سے فراہم ہونے والی بجلی گلگت ڈویثرن کے عوام کو مل سکے۔

گورنرگلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہو تا ہے اور علاقے میں ہونے والے نا انصافیوں کو اجاگر کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ مگر ایسا نہ ہو کہ کسی کی کردار کشی کرے ، اللہ تعالیٰ نے اس روح زمین پر انسان کو پید ا کیا ہے مگر ا س دنیا سے ہم سب نے جانا ہے ۔مقامی اخبار نے گزشتہ دنوں میری ذاتی زندگی پر جس طرح کی خبر شائع کی ہے اُس کی میں بھرپور الفاظ میں مذمت کر تا ہو ں۔ بیماریاں ہر ایک پر آتی ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ بیمار ہو جائے اور اس کے حوش حواس کھو جائیں ۔ صحافی علاقے کے مسائل کو اجرگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تو معاشرے میں نہ صرف عوام عزت کرئینگے بلکہ سیاست دان اور انتظامیہ بھی آپ کی عزت کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ آج میڈیا کے وساطت سے میں کہتا چلو گا کہ کسی بھی ذاتی زندگی پر بغیر مصدقہ خبر لگانا افسوس کی بات ہے صحافی کو چاہیے کہ کسی بھر خبر لگانے سے پہلے اس کی تصدیق کرے کہ بندہ زندہ ہے یا مردہ، بغیر کسی تحقیات خبر لگے تو عوام نہ صرف صحافی سے نفرت کرتے ہے بلکہ ان کی ادارے سے بھی نفرت کرتے ہیں چونکہ اُ س خبر میں کوئی صداقت نہیں ہیں۔ بحیثت گورنر گلگت بلتستان اس وقت چھٹیوں پر ہفتے کے روز اپنے گھر ہنزہ آیا ہوں اور انشااللہ پیر سے گورنر گلگت بلتستان کے دفتر میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہوں گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments