پانی کا عالمی دن اور ہمارے حکمران

تحریر :۔دردانہ شیر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 22مارچ کو پانی کا عالمی دن منایا گیا اس دن کو منانے کا مقصد پینے کے صاف پانی کی اہمیت کے بارے میں عوام کو شعور دینا تھا عالمی طور پر اس دن کو منانے کا آغاز 1992میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں اقوام متحدہ کی ماحول اور ترقی کے عنوان سے منعقد کانفرنس کی سفارش پر ہوا تھا اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں اس وقت سات ارب سے زائد افراد کو روزانہ پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جن کی تعدا د2050میں بڑہ کر نوارب ہونے کی توقع ہے رپورٹ کے مطابق ہر انسان روانہ دو سے چار لیٹر پانی پیتا ہے جس میں خوراک میں موجود پانی بھی شامل ہے جو پانی کی قلت کا شکار ہے خوراک کا درومدار بھی پانی پر ہی ہوتا ہے اس لئے پانی کے مزید ذخائر بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں1976کے بعد پانی کا کوئی ذخیرہ تعمیر نہیں ہو ااگر ہمارے ملک پاکستان میں پانی کو ذخیرہ نہ کیا گیا تو بہت جلد پینے کا پانی کا حصول بھی مشکل ہوجائے گا پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت ہر شہری کے لئے پانچ ہزار چھ سو کیوسک میٹر پانی تھا جوکہ اب کم ہوکر ایک ہزار کیوسک میٹر پانی رہ گیا ہے جس کی اصل وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کو ذخیرہ نہ کرنا بتایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی بھی اس کی ایک وجہ ہے گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں کے گلشیرز اور جھیلوں کے پانی کو نہ صرف پینے کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے بلکہ اس پانی سے ملک کی زمینوں کو بھی سیراب کیا جاتا ہے اس وقت گلگت بلتستان میں پانچ ہزار سے زائد گلیشرز ہیں اور دو ہزار جھییل ہیں مگر اب اہستہ اہستہ ان گلشیرز کے پھگنے کا عمل شروع ہوگیا ہے ماہرین کے مطابق ان گلیشرز کے پھگلنے کی وجہ بلیک کاربن بتا یا جاتا ہے گلگت بلتستان کی نو فی صد آبادی میں ایندھن کے طور پر لکڑیاں استعمال کی جاتی ہے جس کے دھواں سے خطے میں موجود گلشیرز پھگلنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان کے ندی نالوں اور جھیلوں میں بھی پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے اور جس جگہ سے صدیوں سے پانی گزر رہا تھا اب وہی زمین خود پانی کی پیاسی ہوگئی ہے اگر حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے پانی کے بچاو کے لئے اقدامات نہ اٹھائے تو ملک میں پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے جو کسی بھی طرح ملک کے لئے نیک شگون نہیں اگر حکومت نے پانی ذخیرہ کرنے فوری کارروائی عمل میں نہیں لائی تو عوام کو پینے کے پانی کے حصول میں مشکلات آسکتی ہے ماہرین کے مطابق 2025تک پاکستان کے ایک شہری کو ایک ہزار کیوسک میٹر پانی کم ہوکر چھ سو کیوسک میڑ پانی رہ جائیگا جو کسی طرح بھی ملک کے لئے نیک شگون نہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں 22مارچ کو پانی کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات منعقد ہوئی مگر گلگت بلتستان کے حکمرانوں کو اس دن کی خبر تک نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments