گلگت بلتستان میں کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح 

ایثار حسین کھرکوی
جناح کالج آف نرسنگ کراچی

کینسر ایک ہولناک لفظ ہے جس کا سننا ہی مریض اور اہل خانہ کو دہشت زدہ کردیتا ہے۔ اور موت کا تصور ذہن میں آتا ہے کینسر یقیناً ایک جان لیوا بیماری ہے اس میں مریض کی صحت یابی ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہے۔ کینسر کا آغاز کیسے ہوتے ہیں۔ ہمارے جسم میں سینکڑوں سیل بن رہے ہوتے ہیں جو ایک خود کار نظام کے ذریعے ایک خاص پروگرام کے تحت بنتے اور ختم ہوتے ہیں۔ کینسر کا آغاز سیل کے تقسیم ہونے اور خاتمے ہونے کے نظام میں خرابی سے پیدا ہوتا ہے اور سیل غیر ضروری اور غیر مناسب اپنے ایک خاص پروگرام سے ہٹ کے پے درپے تقسیم ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور یہ سیل صحت مند سیل سے زیادہ تیز تقسیم ہوتے ہیں۔ پرانے دور میں گلگت بلتستان میں کینسر کی بیماری نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اب کینسر کی شرح گلگت بلتستان میں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 2017ء میں گلگت بلتستان میں ایک ہزار پانچ سو آٹھ کیسس رجسٹر ہوئے۔ اور اس سے کئی گنا زیادہ رجسٹرڈ ہوئے بغیر لقمہ اجل بن گیا ہوگا۔ آخر گلگت بلتستان جیسا صاف ستھرا ماحول میں کینسر کی شرح بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ ہم سب کے لئے سوچنے اور احتیاطی تدابیر پر غور کرنے کا مقام ہے۔

کینسر کی وجوہات :

1۔ سب سے پہلے کینسر کی وجہ کو میڈیکل زبان میں Idopethic کہتے ہیں۔ یعنی جس کا کوئی خاص وجہ اب تک معلوم نہ ہونا۔

2۔ تمباکو نوشی، نسوار وغیرہ کا استعمال

3۔ پلاسٹک میں پیکینگ کئے ہوئے چیزیں جیسے کئی قسم کے کھانے کی چیزیں ، مثلاً ڈالڈا وغیرہ

4۔ سوڈا کا استعمال جو ہر گھر میں ہوتا ہے۔

5۔ بچوں کے کھانے والے طرح طرح کے اشیاء مثلاً پاپڑ وغیرہ

6۔ اپنے قدرتی چیزوں کو چھوڑ کر باہر کے کیمیکل کھانے

7۔ طرح طرح کے غیر ضروری دوائیاں

8۔ بچوں کو ماں کی دودھ نہ دینا اور پوڈر دودھ کا استعمال

9۔ مختلف قسم کے ریڈیشن مثلاً ایکسرے، موبائل فون کی ریڈیشن وغیرہ

10۔ موٹاپا ، ورزش وغیرہ نہ کرنا

11۔ طرح طرح کی مشروبات ، شراب، سورج کی تیز روشنی میں زیادہ کام کرنا۔

12۔ خوراک میں پھل اور سبزی کا استعمال نہ کرنا وغیرہ

علامات :

1۔ کینسر کی ابتدائی علامات یعنی فرسٹ سٹیج میں عام طور علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔

2۔ وزن میں کمی، بار بار بخار ہونا اور وجہ معلوم نہ ہونا

3۔ جسم میں تھکاوٹ، نگلنے میں دشواری اور کسی کام میں دل نہ لگنا

4۔ پاخانہ کی شکل میں تبدیلی، قے اور متلی بار بار آنا

اس کے علاوہ جسم کے جس حصے پر کینسر ہوتا ہے اس کی کچھ خاص علامات ہوتے ہیں۔

مثلاً معدہ کی کینسر میں بھوک میں کمی ، پیٹھ میں درد، بے چینی، متلی یا قے جو عام دوائیوں سے ٹھیک نہیں ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

1۔ زیادہ سے زیادہ اپنے مقامی چیزوں کا استعمال مثلاً خوبانی، بلے وغیرہ

2۔ بازاری چیزیں نہ کھانا اور غیر ضروری کیمیکل کھانے سے پرہیز

3۔ بچوں کو ماں کا دودھ دینا

4۔ کھیل کود اور ورزش وغیرہ کرنا

خواتین میں چھاتی کی کینسر عام طور پر پائی جاتی ہے۔

سرطان کا جلد پتہ کرنے والا امریکی ادارہ صحت کے مطابق خواتین کو مہینے میں کم از کم ضرور اپنے چھاتی کا خود معائنہ کرنا چاہئے۔ جس کو سلف ایگزامینشن کہتے ہیں۔ جس میں ہاتھ لگاکر شیشے کے سامنے کھڑا ہوکر دیکھنا چاہئے کہ کوئی کہیں دانا یا گٹلی تو نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسی علامت نظر آئے تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ اور خاص طور پر وہ عورتیں جن خاندان میں کسی کو یہ بیماری ہوا ہو ۔ کیونکہ گلگت بلتستان میں جدید مشینوں سے سکریننگ یعنی میموگرام (چھاتی کے ایکسرے) وغیرہ کا نظام نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق عورتوں کو سال میں ایک دفعہ ضرور میموگرامی کرنا چاہئے۔ خاص طور وہ عورتیں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی ان میں کینسر ہونے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

گلگت بلتستان میں اس طرح کی مریضوں کے لئے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ ہمارے لوگ معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ کہ وہ شہروں میں علاج کے لئے آسکے کیونکہ شہروں میں علاج مہنگے ہوتے ہیں۔

لہٰذا صاحب اختیار لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اور شعور وآگاہی کے مہم چلائے اور لوگوں کو بھی چاہئے کہ اپنی اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments