بروشسکی شاعری اور بشارت شفیع

تحریر علی احمد جان

آج بروشسکی کے منفرد لب و لہجے کے معتبر شاعر بشارت شفیع مرحوم کی سالگرہ ہے۔ یہ بروشسکی زبان کی خوش بختی کہ اسے بشارت شفیع مل گئے۔

بشارت شفیع گزشتہ سال سکھر سے کراچی جاتے ہوئے ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کا تعلق یاسین ہندور سے تھا۔ وہ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل تھے۔ زمانہ طالب علمی میں طلبہ سیاست سے بھی وابستہ رہے اور ایک شعلہ بیاں مقرر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جیمس گرانڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ ڈھاکہ ماسٹرز آف پبلک ہیلتھ کی ڈگری حاصل کرچکے تھے۔

ان کا نمایاں کام بروشسکی زبان و ادب کے حوالے سے ہے۔ یہ بروشسکی زبان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو بشارت شفیع مل گئے۔ یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی شاعری کو انگلی پکڑ کر چلنا انھوں نے سیکھایا۔

کسی معاشرے میں سماجی اور تہذیبی تبدیلی تخلیقِ اظہار میں تبدیلی سے عبارت ہے۔ فرد کا انفرادی شعور ،سماج کے اجتماعی شعور پر اثر اندا ز ہوتا ہے ۔مگر اس تبدیلی کی بنیاد فراہم کرنے کے لیے تخلیق کار کا طاقت ور علمی اور دانش ورانہ پسِ منظر سے ہونے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے عوامل کے ادراک اور اس کے مابعد اثر پزیری کو سمجھنے والی بالغ نظری کا حامل ہونا ضروری ہے۔

چند برس پہلے قبل تک یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی زبان میں شاعری کے نام پر تُک بندی ہوتی تھی۔ جس میں رتی برابر بھی شعریت نہیں ہوتی تھی۔ اور اکثر غزلیں لب و رخسار کے گرد ہی گھومتی تھی۔ اس وجہ سے عوام الناس میں کبھی بھی کسی شاعر مقبولیت حاصل نہیں کر پایا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی ان گانوں اور غزلوں کو کوئی بھی فرد اپنے خاندان خصوصا خواتین اور بچوں کو ساتھ بٹھاکر سننا پسند نہیں کرتا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ لوگ ان شعراء کو بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے تھے۔

اس کی کئی وجوہات ہیں۔

اول یہ کہ خصوصاً یاسین میں غز ل گو یا شاعری کو لفنگا،لوفراور ناکام شخص تصور کیاجاتا ہے اور لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔ دوم کچھ زندگی سے بیزار لوگ جو عملی زندگی میں ناکام ہیں، آوارہ گردی کرتے ہیں ،ردیف قافیہ ملا کر البم تیار کرتے ہیں اور شاعر بن جاتے ہیں ۔ یہاں یہ بھی بتا تا چلوں کہ زیادہ تر لوگ گلو کار کو ہی شاعر سمجھتے ہیں۔

سوم پڑھے لکھے حضرات اس میدان میں آنے سے کتراتے ہیں کہ لو گ انھیں بھی لفنگا، لوفر سمجھیں گے ۔دوسری الفاظ میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایک مافیانے قبضہ جمایا ہواہے ۔ مگر پچھلے چند برسوں سے خوش قسمتی سے پڑھے لکھے نوجوانوں نے شاعری کے میدان میں قدم رکھنا شروع کیا ہے ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں میں سماجی ،سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں اور مسائل کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اسکی مثال بروشکی غزل کے ماضی میں کہیں نظرنہیں آتی۔

نوجوانوں اور پڑھے لکھے افراد کو اس طرف لانے میں بنیادی کردار بشارت شفیع نے ادا کیا۔ غالبا 2014 میں ان کا پہلا البم “ہیشے تسقن” منظر عام پر آیا تھا۔ اس کے بعد کئی پڑھے لکھے افراد نے طبع آزمائی کی اور خوب لکھا۔ بشارت شفیع نے پہلی مرتبہ معاشرتی مسائل کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ وہ لکھتے ہیں

غونڈلے جی نِیانے چھیونی میما

گِری دُو تھاریس نیتے چھیو نی میما

سے گا می گیچامان بے اِسقایامان

چھینے فالو نوکووا دا دِیا کا

(فاختے کو مار گرا کر ہم خوش ہوتے ہیں، ہرن کو اس کے چھوٹے بچوں سے جدا کر کے خوشیاں مناتے ہیں۔ حتیٰ کہ چڑیا کی ننھی جان کو بھی نہیں بخشتے۔ )

حال ہی میں ان کے آخری البم ہیشنگ اکھیس والیم 5 منظر عام پر آچکا تھا۔ جس میں وہ لکھتے ہیں

لین ایتے قون یاٹے گورین اوسے

ہیشے سورقون یاٹے گورین اوسے

مہرے غونو بوکامبا جا مالنگ آ

مالے ہر پھُن یاٹے گورن اوسے

اسی غزل میں انھوں نے بھیک مانگنے اور اس عمل پر مجور ہونے والوں کے بارے میں لکھا ہے

دُومرچا کھو تھاریسین ایری چومان

اِن بو غوشانا نی دیل ایری چومان

ہالے بم شون دیچومان دومر نوخا

دوماراس شون یاٹے

انھوں نے رومانوی غزلیں بھی اتنی ہی خوبصورتی سے لکھی ہیں اور ایک نیا رنگ دیا ہے۔ ایک طرف انھوں نے معاشرتی مسائل کو جوش ملیح آبادی کی طرح پیش کیا تو دوسری طرف ناصر کاظمی کی طرح رومانوی شاعری بھی بروشسکی ادب کو دیا۔ مثلا وہ لکھتے ہیں

باشا چوم الچینا متھن گومانا

ہیراشو الچیمو ملتن گومانا

ہیکن ہالانز ماکوچی غاناکا اُن

جا آس چاقار مانی التن گومانا

ماں کی عظمت کو اپنے ایک کلام میں اس طرح بیان کرتے ہیں

جا بو اپام جہ گو گورین دو نانی
داووسا گونز چوم گونز دارین دو نانی

گو نت اوکھات دولومے ایتن سلام

جہ بوتی باش اپم یارین دو نانی

اُن ہین شفیع گندی چی موقوم اپا
اُن تو بتھانے با اورن دو نانی

زندگی اور موت کے بارے میں انھوں نے کیا خوب لکھا ہے

مینا کا والاس اپی چھیک می یورچن گونز دی یا کا
غانی نا ہیرچھے شیمے ٹے ٹے نی یا دس دامینی

بروشسکی زبان کی احیاء اور ترقی کےلیے مرحوم بشارت شفیع کی خدمات اور مرحوم کی شاعری کی خصوصیات کو ایک مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ مختصر اتنا ہی عرض کروں گا بروشسکی شاعری کو انگلی پکڑ کر چلنا مرحوم بشارت شفیع نے ہی سیکھایا۔ بروشسکی شاعری کا معیار آج اتنا بہتر ہوا ہے کہ کسی بھی ادبی محفل میں فخر سے بروشسکی غزل سنا سکتے ہیں اور اس کا سہرا بھی مرحوم بشارت کے سر سجتا ہے۔ بروشو قوم کے لیے بشارت ایک فرد کا یا شاعر کا نام نہیں یہ ایک تحریک کا نام ہے۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق بروشسکی سمیت کئی زبانوں کی بقاء کو خطرہ لاحق ہے یعنی endangered languages کی فہرست میں بدقسمتی سے بروشسکی بھی شامل ہے۔ اگر بروشسکی زبان و ادب کو بشارت شفیع جیسے چند شاعر اور نثرنگار مل جائیں تو جلد اس فہرست سے خارج ہوگی۔

مرحوم بشارت شفیع کی دور اندیشی اور فنی مہارت کا اندازہ اس مرثیے کے اشعار سے لگا سکتے ہیں جو انھوں نے اپنے بارے میں لکھے ہیں۔

ہیسے شفیع میناہنگ چھائے نوخاتین اوسکی گوچوم
ہائے می شفیع دا انے بائے بوخاتین اوسکی گوچوم

تے وے غا لول کا دوا ان اوکاٹ اپا نوخاتین
ان تو اپامولے کا بائے نوخاتین اوسکی گوچوم

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments