نئی زندگی

تحریر: اسلم  ناز شگری

عبداللہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا ایک ہنستا بستا نوجوان تھا، نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے چند سال بعد شادی ہوگئی، پہلی بار اس کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی تو خوشی کی انتہا نہ رہی، دوسال بعد ایک چاند سا بچہ بھی اس کی خوشی کے آنگن میں تارے کی طرح چمکنے لگا۔  عبداللہ کے والدین اور اس کے بھائیوں نے اس کو بچپن میں پڑھانا چاہا لیکن وہ خاطر خواہ نہ پڑھ سکا تھا، جسے شومئی قسمت سمجھ لیں یا پھر اُس کے علاقے میں تعلیمی ماحول کی عدم موجودگی……
بہر حال وہ ایک عام سا مزدور بن کر زندگی گزارنے لگا، ایک مزدور ہونے کے باوجود وہ اتنا کماتا تھا کہ اس کے بھال بچے ہنسی خوشی زندگی بسر کرسکتے تھے، لیکن اچانک اس کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آیا کہ سبھی خوشیاں اس کے خاندان سے روٹھ سی گئیں۔وہ بیمار پڑگئے ، بیماری بھی ایسی کہ  ذہنی معذوری کی شکل میں اس کے ساتھ ایسی چپک گئی کہ وہ کسی کام کاج کے لائق نہ رہے۔ اس کے گھر والوں نے اپنی بساط کے مطابق اس کا علاج  و معالجہ کرانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ اس کی بوڑھی ماں نے ہر قسم کی دعاؤں اور تعویزات کا سہارا لینے کی بھی سعی کی لیکن اس کی حالت روز بروزخراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔
اُدھر اس کی شدید ذہنی مفلوجی کے نتیجے میں اس کی شریکِ حیات زندگی کے اس بندھن کو قائم رکھنے میں ناکام ہوگئیں اور مجبوری کے آنسو بہاتی ہوئی میکے چلی گئیں، اس کے پھول جیسے دوبچے ماں باپ کے زندہ ہوتے ہوئے بھی یتیمی کی سی زندگی بسر کرنے لگے،  معمر والدہ مسلسل پریشانیوں کی وجہ سے  ہائپر ٹینشن کی مریضہ بن گئیں۔ آخر کار ایک ایسا دن بھی آیا کہ اس کی والدہ اپنے گھر کے برابر والی چھوٹی سی مسجد سے نماز پڑھ کے لوٹ رہی تھی کہ اچانک بے ہوش ہوکر گر پڑی، دیگر خواتین نے جلدی سے پکڑ کے اس کو ہوش میں لانے کی کاوشیں شروع کردیں۔ لیکن شاید تقدیر میں یہ فیصلہ اٹل تھا کہ اس نے واپس آنکھیں کھول کر دیکھنا ہی نہیں تھا، وہ کئی ماہ تک کومے میں رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی دوران عبداللہ کے علاقے کے چند نوجوانوں نے دیکھا کہ عبداللہ کی حالت روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے ، نوبت یہاں تک جاپہنچی کہ عبداللہ کے بھائیوں کے پاس اس کو ایک جیل نما خستہ حال کمرے میں بند کرنے کے علاوہ کچھ چارہ نہیں تھا، اس نے کمرے کے دروازوں اور کھڑکیوں کو بھی  بخشنا چھوڑ دیا، آخر کار اس کو زنجیروں میں جکڑکر رکھنے  کا فیصلہ کیا گیا، اس کی وجہ سے نہ صرف اس کے معصوم بچے اور گھر والے متاثر تھے بلکہ پورے گاؤں کے مکین چین کی نیند نہیں سوسکتے تھے، جنوری فروری کی خون جما دینے والی سردیوں میں بھی اپنے احوال سے بے خبر اسی کمرے میں اس کی زندگی کے لمحات سسک سسک کر گزر رہے تھے کہ جس حالت میں ایک عام انسان آدھ گھنٹہ بھی نہیں ٹھہر سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی یہ قابل رحم حالت دیکھ کر اُن نوجوانوں نے اس کو کسی اعلیٰ شہر میں اچھے سے ہسپتال میں علاج کی غرض سے بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ، جذبہ خدمتِ انسانیت سے سرشار بعض دوستوں نے مل کر اس کو گاؤں سے دور ایک ایسے مرکز میں داخل کرا دیا جس میں ذہنی طور پر معذور افراد کی دیکھ بھال اچھے بھلے طریقے سے کی جاتی تھی اور ان کی مکمل بحالی کی کوشش کی جاتی تھی، ہاں فیس بھی اچھی بھلی ہی لی جاتی تھیں۔ لیکن جذبہ ایک ایسا عنصر ہے کہ جس کے آگے تمام رکاوٹیں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں ۔ ان افراد نے تہیہ کرلیا تھا کہ عبد اللہ کے بچوں کو خوشی کے دن بھی دکھانے ہیں ، قدرت نے بھی ان کی کاوشوں کو ثمر بخشی، عبداللہ کی صحت پہلے دوماہ کے دوران ہی کافی حد تک بہتر ہوگئیں، اس کو روبہ صحت دیکھ کر دیگر دوستوں نے بھی بھرپور طریقے سے امداد کی……. یوں نو ماہ اس مہنگے ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد آخر ہسپتال والوں نے اس کی صحت تسلی بخش قراردیتے ہوئے ہسپتال سے فارغ کردی، جب واپس گھر پہنچے تو اس کی بیمار والدہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی صحت کیے داغ کو سینے سے لگائے داعی اجل کو لبیک کہہ چکی تھی، ہاں البتہ اس کے دونوں بچوں کے چہرے صحت یاب والد کو دیکھ کر  گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھے، جس گھر میں دکھوں نے ڈھیرے جمائے تھے اب وہ خوشیوں اور مسرتوں کے مکین بن چکے ہیں، عبداللہ کے گھر والے اور  دیگر تمام افراد خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کررہے ہیں کہ عبداللہ کو *نئی زندگی* مل گئی،  اب وہ ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے  کی سعی کررہا ہے، چند لوگوں کی معمولی سی کاوش سے ایک عظیم کام سرانجام پایا، اسی طرح اگر معاشرے میں بسنے والے تمام افراد عقل اور شعور کے ساتھ کام کرتے ہوئےمعاشرے میں موجود نادار اور مجبور لوگوں کی حوصلہ افزائی اور پرخلوص انداز میں مدد کی جائے تو نہایت ہی قلیل کاوش کے ساتھ ہم خداکی خوشنودی حاصل ہونے والے اچھے اچھے کام کرسکے ہیں۔ یہی دراصل انسان کو خدا کے قریب لانے میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ اس واقعے میں ہم سب کے لئے سبق ہے کہ عملی طور پر کسی کو خوشی دینے سے انسان کو جو خوشی اور قلبی اطمینان خدا عطا کرتا ہے اس کے حصول کے لئے ہر صاحبِ استطاعت کو کوشش کرنی چاہئے تاکہ معاشرہ گل و گلزار بن جائے۔۔۔۔۔۔۔
معاشروں میں نہ جانے کتنے ہی عبداللہ ایسے ہوں گے جو لوگوں کی معمولی سی توجہ کے طالب ہوں گے……  خدا تمام صاحب استطاعت مسلمانوں کو مستحقین کے امداد کی توفیق عطا فرمائے آمین….

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments