فورس کمانڈر کا خطاب اور ففتھ جنریشن وار

تحریر۔فیض اللہ فراق

گزشتہ روز گلگت بلتستان کے صحافیوں کو دئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل ثاقب محمود ملک نے کہا کہ نوجوانوں کو ففتھ جنریشن وار سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے ۔فورس کمانڈر کے مدلل اور پرمغز خطاب سے اندازہ ہوا کہ موصوف ایک پڑھے لکھے حساس فوجی افسر ہیں۔ ان کے خطاب سے معلوم ہوا کہ جنرل صاحب تجربات کے تند و تیز مراحل سے گزر کر یہاں تک آئے ہیں۔ موصوف کی باتیں گہرائیوں کی پوشاک پہنے آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے رستہ فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا میں لڑائی نہیں جنگیں ہو رہی ہیں اور یہ بات معلوم ہونا ضروری ہے کہ لڑائی اور جنگ میں بہت فرق ہے ۔ لڑائی حربی آلات کے ذریعے لڑی جاتی ہے جبکہ جنگ اذہان کے ذریعے رونما ہوتی ہے ۔ دنیا میں سوچوں اور افکار کا جنگ ہے اور ففتھ جنریشن وار بھی اسی سے ملا جلا عمل ہے ۔ جنریشن وار بنیادی طور پر دشمن کی عوام کو اپنے حق میں کرنے کا نام ہے ۔ یعنی الفاظ اور افکار کی دنیا میں ایسا پراپگنڈے کو منظم طریقے سے دشمن کی رگوں میں ڈالا جائے کہ وہ اپنے حکمرانوں اور افواج کی تقلید کی بجائے کوئی اور بیانیہ پر عمل پیرا ہوں۔ اپنے دشمن کی عوام کی اپنے حق میں حمایت لینا نہ تو کوئی آسان کام ہے اور نہ ہی یہ عمل حربی آلات اور جدید ٹیکنالوجی سے ممکن ہے ۔آج کل کی جنگ بھی ففتھ جنریشن وار ہے جس میں حربی آلات کم اور پراپگنڈہ مہم زیادہ موثر ہے ۔ ہندوستان بھی اسی جنریشن وار کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کے اذہان کو منفی سمتوں پر استوار کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے جس کا زیادہ سے زیادہ نقصان ریاست کا ہے ۔ ففتھ وار جنریشن میں دشمن کی ایک حکمت عملی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی بات دشمن کی عوام کے منہ میں ڈال کر اظہار کی لباس پہنائی جاتی ہے جو خطرناک عمل ہے ۔ دشمن ملک کے اداروں کو آپس میں دست و گریباں دکھا کر یہ تاثر دینا کہ ملک کے تمام ادارے ایک صفحے پر نہیں ہیں اور یہ بات اس ملک کی عوام کرے یہ عمل بھی ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے آج ہندوستان بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں کے نوجوانوں کی زبان سے اپنے مطلب کا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے اور ہمارے نوجوان کہیں دانستہ کہیں غیر دانستہ ففتھ جنریشن وار کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ فاٹا ہو یا بلوچستان اور سندھ ہو یا گلگت بلتستان نوجوان نسل کی جانب سے اپنی زندگی کے اہداف اور مقاصد سے برعکس نعرے اور مطالبات کا سامنا آنا دراصل دشمن کی جانب سے مسلط کردہ ففتھ جنریشن وار کی مرہون منت ہے ۔جنریشن وار میں دشمن ممالک کی یہ کوشش بھی رہتی ہے کہ وہ اپنی ثقافت کو مثالی بنا کر دوسروں کو اپنی ثقافتی رویوں پر قائل کرتے ہوئے اس کے دل میں اپنے ملک کی ثقافت کے خلاف نفرت پیدا کیا جائے بدقسمتی سے اس سلسلے میں ہندوستان سب سے آگے ہے ۔ ہندوستان مختلف موویز اور ڈراموں کے ذریعے ہماری نوجوان نسل کی ذہنوں میں اپنی ثقافت اور ملک کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے ۔ مثال کے طور پر ہندوستان کی ایک مووی ہے “بجرنگی” اسے دیکھنے کے بعد اکثریتی پاکستانی اس بات پر متفق نظر آتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہونی چاہئے عوام کو بغیر کسی روک ٹوک کے سرحد پار آنا جانا چاہئے حالانکہ حقائق ایسے نہیں ہیں جس طرح کی مووی ہندوستان کی فلم انڈسٹری پیش کر رہی ہے وہ اپنی حکومت کے تمام لوازمات پورے کر کے پیش کرتی ہے اور جو فکر مووی کے ذریعے دینے کی کوشش کی جاتی ہے اس پر عمل پیرا ہندوستان خود نہیں ہوتا۔ یہ ایک مثالی سوچ ہے کہ دنیا میں کوئی سرحد نہیں ہو اور ہر انسان امن آشتی کے ساتھ زندگی بسر کرے لیکن اس دنیا میں یہ ممکن نہیں ہے ہر معاشرے کے اپنے اصول ،ضابطے اور حدود و قیود ہوتے ہیں جس کی اندر رہ کر اس معاشرے کی بقا ممکن ہے ۔بلوچستان سے لیکر گلگت بلتستان تک ففتھ جنریشن وار کے سایے نظر آ رہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل پراپگنڈہ کا شکار ہو کر سوچ سمجھ سے عاری مکالمے اور تحقیق کی بجائے سنی سنائی دنیا کا سفر کر رہی ہے جس کی وجہ سے ان کو زندگی کی سکرین پر صرف اندھیرا نظر آ رہا ہے اور روشن پہلو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ زندگی کے روشن پہلو سے تعلق انسان کی سوچ ہے جب انسان مثبت سوچنا شروع کردیتا ہے اسے زندگی میں اجالا بھی نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور جب انسان منفی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اس کی زندگی تاریکی کے سوا کچھ نہیں دیکھ پاتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر چیز اور ہر عمل کے دو پہلو ہوتے ہیں جس طرح سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ باشعور قوموں اور باوقار نوجوان نسل کا ہمشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ زندگی کے دونوں رخ دیکھتے ہیں اور جس رخ پر اجالا موجود ہے اس کی تشہیر بھی زیادہ کرتے ہیں۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ دشمن کی ففتھ جنریشن وار کو تقویت دینے میں حکمرانوں کا دہرا رویہ، ناانصافی ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، حقوق سے محرومی اور ظلم و جبر بھی برابر کے شریک ہیں۔گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے آگے بڑھیں کیونکہ روشن اور تابناک مستقبل آپ کی منتظر ہے دشمن کی جانب سے محرومی کا پروپیگنڈہ ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے اور اس جنریشن کی جنگ کو جیتنے کیلئے میڈیا کا بنیادی کردار ہے اگر میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ اپنا کام کرے اور پھرقوم و نسلوں کو زندگی کا روشن پہلو پیش کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور دشمن جنریشن وار میں ہم سے شکست کھائے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments