دل خون کے آنسو روتا ہے

تحریر: اشتیاق احمد یاد

اے اشرف المخلوقات ! اے سینے میں دل رکھنے والے انسانو! اے چمن کے نگہبانو! بین کرتی ماؤں کی آہ و بکا ، باپ کی آنکھوں میں کرب کا طوفان اور بہن بھائیوں کی سینہ کوبی کو اُن کا دل اوراُن کا احساس بن کے سُنیں، دیکھیں ، محسوس کریں اور ایسی تدابیر اختیار کریں کہ آئندہ ایسے کرب ناک لمحات کسی کو نصیب نہ ہوں۔ بیس سالہ احمداللہ اپنی ہنستی کھیلتی زندگی کے چراغ کو گل کر گیا ۔ جی ہاں ایک غنچہ جو ابھی کِھل ہی رہا تھاجس نے اپنے ماں باپ اور بہن بھاؤں کو اپنی خوشبو سے مُعطّر کرنا شروع ہی کیا تھاکہ آناََ فاناََ منوں مٹی تلے اپنی خوشبو لئے دفن ہوگیا۔ یہ نہ سمجھئے کہ یہ صرف احمد اللہ کی المناک داستان ہے یہ داستان گلگت بلتستان کے ہر چوتھے پانچویں گھر کی داستان ہے۔ پچھلے پانچ چھے سالوں میں ستّر اسّی کے قریب احمد اللہ عین شباب میں موت کو گلے لگا چکے ہیں اور پیچھے خون کے آنسو چھوڑ گیے ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال جاری رہی تو ’خاکم بدہن‘ اگلا احمداللہ آپ کا بھی ۔۔ میرا بھی ہو سکتا ہے اور غُنچوں کے گل ہونے کی تعداد ستّر اسّی سے بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ سکتی ہے۔

احمد اللہ ہمارے کالج میں عارضی ملازمت پر فائز تھا۔ بہترین خدمت گار اور تابعدار ملازمین میں اُس کا شمار ہوتا تھا۔ اپنے دوست کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گلگت سے ملحقہ گاؤں مناور سے جوٹیال کی طرف آرہا تھا کہ سکوار میں کے۔ کے۔ ایچ پر بنے چوک جو دنیور کی طرف مڑتا ہے پر حادثے کا شکار ہوا۔ اُس کے سر پر شدید اور دوست کو معمولی چوٹیں آئیں۔ احمد اللہ کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں سے اُسے بائی روڈ ایبٹ آباد کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔ چونکہ ہٹ انجری شدید تھی اس لئے اُس کی سرجری کی گئی۔ لیکن وہ جاں بر نہیں ہو سکا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ جواں سال احمد اللہ کی لاش وہاں سے اگلے روز مناور پہنچائی گئی اور آہوں اور سسکیوں کے ساتھ دفنائی گئی۔

یہ حادثہ اور واقعہ آپ سب کے سامنے رکھنے کے پیچھے انتہائی اہم محرکات کارِ فرما ہیں ۔ ۔۔ ان میں (۱)۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا انتہائی بے احتیاطی سے موٹر سائیکل چلانا (۲)۔ رفتار ضرورت سے انتہائی زیادہ رکھنا (۳)۔ بغیر ہیلمٹ کے سفر کرنا (۴)۔ ریس لگانا (۵)۔ رانگ سائیڈ پر موٹر سائیکل چلانا (۶)۔ اُور ٹیک کرنا (۷)۔ غیر قانونی طور پر موٹر سائیکل چلانا (۸)۔ والدین کی لاپرواہی (۹)۔ بغیر تربیّت کے چلانا (۱۰)۔ خطرناک چوراہوں اور جگہوں پر سپیڈ بریکرز اور ٹریفک عملے کا نہ ہونا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔

کیا ہم سب اس بات کے شاہد نہیں ہیں کہ بالخصوص کے۔کے۔ایچ اور بالعموم تمام شاہراہوں اور سڑکوں پر کئی سالوں سے اِن محرکات کے باعث موت کا کھیل جاری و ساری ہے؟

جس چوک پر احمد اللہ حادثے کا شکار ہوا اور موت کے منہ میں چلا گیا وہ ’’خونی چوک‘‘ بنتا جارہا ہے۔ پچھلے تین سالوں میں اُس چوک پر متعدد حادثات کے نتیجے میں چھے سات قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ اس جگے پر انسانوں کو نگلنے کا افسوسناک سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گلگت بلتستان میں حادثات کے نتیجے میں اموات کے ہونے کا ایک بیانک محرک گلگت بلتستان میں ’’ نیو رو سرجن ‘‘کا سرے سے نہ ہونا بھی ہے۔ نیورو سرجن کا نہ ہونا انتہائی دُکھ اور نہایت افسوس کی بات ہے ۔ اس کالم کے توسط سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب سے میری دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اس تناظر میں فوری اور عملی اقدامات کریں بالخصوص اُس چوک پر مذید حادثات کو روکنے کے لیے متعلقہ اداروں اور حکام کو احکامات جاری کریں اور گلگت بلتستان میں نیورو سرجن کی دستیابی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments