کالمز

کھرمنگ ضلع بچاو تحریک

ڈاکٹر شجاعت حسین میثم

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا ضلع تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے. جس دن سے یہ بنا ہے اس دن سے آجتک عوام اور سائلین کے لئے سوائے مشکلات پیدا ہونے کے کوئی ریلیف کوئی ثمر نہیں ملا جسکی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اب ہمیں باضابطہ تحریک چلانے پر مجبور کیا جا رہا ہے؛

1)- جب سے یہ ضلع بنا ہے چند ہی سالوں میں یہ سب سے زیادہ سینئر آفیسرز کے ریٹائر ہونے والا ضلع ہے. یعنی پنشن کے قریب والے لوگوں کی آرام گاہ بنایا ہوا ہے. ہمارا نیا ضلع ہے ہمیں قابل اور جوان خون کی ضرورت ہے خصوصا اس سلسلے میں کسی سی ایس پی ڈی سی کو فوری طور پر کھرمنگ میں تعینات کیا جائے.

2)- ایڈمنیسٹریشن کے نا اہلی کی انتہا یہ ہے کہ ضلع بننے کے بعد کئی مسائل ابھرے جس میں سر فہرست ہیڈکوارٹر کا تعین، زمین کا حصول، میونسپلٹی کا تعین اور حالیہ کتیشو مہدی آباد کے چراگاہ کا تنازعہ وغیرہ شامل ہیں. ان میں کوئی بھی مسئلہ خوش اسلوبی سے حل نہیں کیا گیا. میونسپلٹی کا تعین تو شائد قیامت کے دن کے لئے چھوڑ ہی دیا ہے لیکن حالیہ کتیشو والے ناخوشگوار واقعے کا انتظامیہ کو معلوم بھی تھاانہوں نیپابند بھی کیا ہوا تھا اور جب کوئی اسکو پاؤں تلے روند رہا تھا تو کوئی عملی اقدام نہیں کیا. آپ امن و امان کوقائم رکھنے کے لئے مامور تھے نہ کہ لوگوں سے گزارشات کرنے کے لئے. بغیر وردی اکیلے ایک ایس ایچ او کو بھیج کر لوگوں سے گرزارش کروا رہے تھے کہ فساد نہ کریں. کوئی ہنگامی قدم نہیں اٹھایا بلکہ کتیشو والے برملا کھرمنگ انتظامیہ کو فریق نامزد کر چکے ہیں. یہ نوبت آنا انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اگر نظام نہیں چلا سکتے تو اخلاقا ضلعے کو چھوڑ دینا چاہئے. زخمیوں کو ہسپتال لانے کا بندوبست تک نہیں تھا یا جنکی خوشنودی مطلوب تھی انکے سامنے ہمت نہیں ہوئی. اور کچھ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل تک نہیں کرنے دیا کہ کہیں مظلوم مضبوط نہ ہو جائیں. اس قدر ظلم پر ہم لعنت بھیجتے ہیں. اور فورا انتظامیہ میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں.

3)- ضلعے میں کافی عرصے سے بہت ساری پوسٹیں خالی ہیں ان پر بار بار اشتہار کیبعد بھی بھرتیاں عمل میں نہیں لایا جارہا. آخر اس میں کیا راز چھپا ہے. یہی کہ کسی غریب کا چولھا نہ جلے. یا کچھ لوگوں کو اندرون خانہ ایڈجسٹ کر کے غریب بے رازگار جوانون کا حق مارنے کا منصوبہ ہے.

4)- ضلع کافی عرصے سے بہت سارے اعلی حکام سے خالی ہے. کئی محکموں میں ہمیں شگر کے ساتھ، کسی میں خپلو کے ساتھ ملایا ہوا ہے اور دفاتر ایک بھی کھرمنگ میں نہیں. ہمارا بھرپور مطالبہ ہے کہ کھرمنگ میں ان محکموں کا قیام عمل میں لایا جائے اگر یہ نہیں ممکن تو کسی اور ضلعے کی بجائے سکردو کے ساتھ منسلک رکھا جائے.

تعلیم اورصحت اولین بنیادی ضروریات ہیں لیکن کافی عرصہ ہم ڈی ڈی ایجوکیشن سے محروم رہے، ڈی ایچ او سے اب بھی محروم ہیں اور ستم بالائے ستم کھرمنگ ڈی ایچ او کا چارج سکردو ڈی ایچ او کو دیا گیا جبکہ اب خود سکردو کے ڈی ایچ او کو گلگت ٹرانسفر کر کے سکردو کا چارج گنگچھے ڈی ایچ او کو دیا گیا ہے جبکہ کھرمنگ کا کہیں ذکر نہیں ہے. آخر یہ کیا ماجرا ہے؟؟

5)- ہمارا ہیڈ کوارٹر کزبور تھنگ مہدی آباد سے لے کر طولتی تک پھیلا ہوا ہے، جو کہ 14-15 کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے. آفیسروں کے پاس سرکار کی گاڑی اور تیل ہوگا لیکن ایک غریب سائل کو چھوٹا سا بھی کام ہو تو در در کے دھکے کھانے پڑتے ہیں اور ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی مسئلہ حل نہیں ہو پاتا کیونکہ کوئی ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دستیاب نہیں. جسکو جہاں سہولت نظر آیا اس نے وہیں دفتر بسا لیا یعنی غریب عوام جائے بھاڑ میں..

ایسے میں ہمارا پر زور مطالبہ ہے کہ فورا تمام سرکاری دفاتر کو غاسنگ تا مادھوپور گاہوری کے علاقے میں منتقل کریا جائے جہاں مناسب کرائے پر بہت سی عمارتیں دستیاب ہیں.

اس سلسلے میں تمام اداروں کے سربراہاں سے ہنگامی بنیادوں پر کوئی راست اقدام اٹھانے کی اپیل ہے بصورت دیگر عوامی حقوق کی خاطر عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہونگے.. انشاء اللہ

جو بھی اس تحریر سے اتفاق کرتا ہو وہ اس تحریک میں شامل ہوں اور ہر جگہ اسکو شئیر کر کے شرعی اخلاقی اور قانونی فریضہ ادا کریں. ممنون رہوں گا اور غریب عوام کی دعا بھی ملے گی.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: