ہم فیس بکی لوگ

سمارٹ فون کے آنے سے زندگی میں انقلاب آگیا ہے ۔۔خلوت میں جلوت کے مزے ہیں مگر جلوت میں خلوت بے مزہ بلکہ بہت ہی بے مزہ ہے ۔۔ایک کمرے میں بہت سارے جگری دوست بیٹھے ہیں ۔۔مگر سب تنہا تنہا ہیں ۔۔خاموش ہیں اپنے من میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔۔اس کیفیت کو تہذیب کی زبان میں’’ روٹھنا ‘‘کہتے ہیں ۔۔گویا کہ سب ایک دوسرے سے روٹھے ہوئے ہیں ۔۔گھر میں ماں تنہا ،باپ تنہا ۔۔بہن بھائی تنہا تنہا ۔۔اپنے کمرے میں شوہر تنہا ۔۔چہیتی بیوی تنہا ۔۔آقا غلام تنہا ۔۔نوکر ماتحت تنہا ۔۔استاد شاگرد تنہا ۔۔ہاتھ میں سمارٹ فون۔۔سر جھکا ہوا ۔۔انگلیاں حرکت کر رہی ہیں ۔۔چہرے کے تاثرات دیدنی ہیں ۔۔بڑے چاؤ سے کسی سے کچھ پوچھو تو ’’ہوں ‘‘’’ہاں‘‘ کرے گا کیونکہ اس کی نگاہیں سمارٹ فون کی سکرین پہ ہیں ۔۔آپ بات کررہے ہیں وہ یک دم جیب سے فون نکالے گا کھولے گا اور فیس بک میں مصروف ہوگا ۔۔زندگی عضب کی تنہائی کا شکار ہوچکی ہے ۔۔رہ رہ کے یہ شعر یاد آتا ہے ۔۔

آئینے کے سو ٹکڑے کرکے ہم نے دیکھا ہے

ایک میں بھی اکیلے تھے سو میں بھی اکیلے ہیں ۔۔

اب فیس بک میں کیا ہے ۔۔بچے کی پیدائش ہوئی ۔۔نو مولود ۔۔اس کی اکھیاں ابھی بند ہیں مگر کمبل میں لپیٹے فیس بک میں ۔۔دنیا کی کوئی غیر مہذب قوم بھی ایسا نہیں کرتی ۔۔کیونکہ بچے کی پیدائش کھو تہذیب میں عورت کا پردہ ہے ۔۔بے شک اس گھر میں شہنائیاں بجیں گی لیکن یہ نومولود کسی کو دیکھایا نہیں جائے گا ۔۔عقیقے کے دن قریبی رشتہ دار اس کو دیکھیں گے ۔۔کتا ،بلی وغیرہ کی تصاویر ۔۔پھولوں کانٹوں کی تصاویر ۔۔بندہ بائک خریدی ۔۔گاڑی خریدی ۔۔گھر کی بنیاد رکھی ۔۔شادی بیاہ ،بارات ۔۔گاڈ میرٹ ۔۔۔یعنی میری منگنی ہوئی یا شادی ہوئی ۔۔انتقال پر ملال ۔۔خوفناک حادثہ ۔۔بغیر تحقیق کے کوئی خبر ۔۔بڑے بڑے لیڈروں اور وزیر امیر وزیر اعظم تک کی توہین امیز تصاویر ۔۔پھر ان پر تبصیرے ۔۔گالم گلوچ ۔۔تنقید ۔۔تضحیک ۔۔دھونس دھپے۔۔غیر شائستہ زبان ۔۔فضول دلائل ۔۔پھر مذہب ۔۔شخصیات ۔۔علماء ۔۔دینی اقدار تک پر بے لاگ تنقید ۔۔پھر غیر معیاری مزاح ۔۔ایک دوسرے پہ ایسی بھپتیاں گویا کہ کوئی سن نہیں رہا نہ دیکھ رہا ہے ۔۔غیر معیاری شاعری ۔۔دوسروں کے اشعار غلط پوسٹ ۔۔کسی کو یہ احسا س نہیں کہ یہ سوشل میڈیا ہے سیکنڈوں میں میری یہ بات یا حرکت ساری دنیاکے سامنے اشکار ہو جائے گی ۔۔خط غلط ۔۔ املا غلط ۔۔بڑے بڑے نام جو کچھ لکھ رہے ہیں پڑھ کر سر پکڑنا پڑتا ہے ۔۔یا تو یہ اس بندے کی نالائقی ہے یا اس کی لاپرواہی ۔۔ارودو کا جنازہ ۔۔کھوار کا جنازہ ۔۔انگریزی کا جنازہ ۔۔۔رسم الخط رومن میں ۔۔پڑھا نہ جا سکے ۔۔گروپس میں جھنجھٹ ۔۔انباکس اور وال کا عذاب ۔۔ہم فیس بکی لوگوں کی زندگیاں کیا خیال ہے ۔بنور میں پھنس نہیں گئیں ہیں؟ ۔۔ہم پاگل ہوگئے ہیں ۔۔ہم میں سے شاید ایک فیصد ایسے ہونگے جو کوئی سنجیدہ پوسٹ کر رہے ہونگے اور اس پوسٹ کو پڑھنے والا بھی ایک ہی فیصد ہو نگے ۔۔باقی تو ہم سب نیم پاگل ہو گئے ہیں ۔۔استاد کلاس روم میں فیس بک میں مصروف ہے گھنٹی بجتی ہے تو اس کو جگایا جاتا ہے ۔۔آفیسر اپنے دفتر میں فیس بک پہ ہے ۔۔کلرک کے پاس فائلیں پڑی ہیں وہ فیس بک میں مگن ہے ۔۔باورچی خانے میں عورت فیس بک میں ہے چاول پانی ختم ہونے سے جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔۔نمازی نماز میں کھڑا ہے جیب میں فون ہلتا ہے ۔۔اس کا دل بھی دھڑکتا ہے کہ کوئی تبصیرہ یا پوسٹ ہو گی ۔۔ٹریفک کا سپاہی چوراہے میں کھڑاہے ۔۔ٹریفک بے ہنگم ہے مگر جب خدانخوستہ حادثہ ہوجائے تو اس کو ہوش آتا ہے ۔۔ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پائلٹ جہاز اڑا رہا ہو مگر فیس بک میں مگن ہو اور جہاز زمین بو س ہو ۔۔ڈرائیور گاڑی چلا رہا ہو اور فیس بک میں ہو گاڑی کا اکسیڈنٹ ہو ۔۔ہم اپنے آپ کو بھولتے جا رہے ہیں ۔۔پھر ٹویٹ ہے ۔۔واٹس اپ ہے ۔۔مسینجر ہے ۔۔ویڈیو کال ہے ۔۔ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس کا زمانہ گذرتا جا رہا ہے ۔۔ہماری زندگیاں مفلوج ہوتی جارہی ہیں ۔۔نوجوان نسل ہسٹریا کا مریض بنتی جارہی ہے ۔۔اس کا قیمتی وقت برباد ہو رہا ہے کیونکہ اس میں ایسے ہیجان انگیز چیزیں بھی ہیں جو اس کے اخلاق ،کردار ،اور صحت پر بہت برے اثرات ڈالتے ہیں ان نوجوانوں کی تعداد بھی ایک فیصد ہوگی جو اس میں مفید چیزوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔۔جو سنجیدہ اور اہل علم لوگ اس میں اکٹیو ہیں وہ دوسروں کو بے شک فائدہ پہنچاتے ہیں اپنا علم اور اپنا تجربہ اس میں ڈالتے ہیں ۔۔اس کے علاوہ معلومات ،اطلاعات ،نئی خبر ،کسی جھوٹی خبر کی فوراً تردید،پیشنگوئیاں ،پھر اخبار وغیرہ سب مفید ہیں لیکن مجھ جیسے فیس بکی اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے سوائے وقت برباد کرنے کے ۔۔ہم فیس بکی دنیا و مافیہا سے بے خبر لگتے ہیں ۔۔ایک مفلوج اپاہچ جیسی مخلوق ۔۔گویا کہ بنانے والے نے ہمیں صرف فیس بک کے لئے بنایا ہے ۔۔ زندگی جہد مسلسل ہے اس جہد سے جی چرایا جائے تو یہی زندگی عذاب بن جاتی ہے ۔۔مجھے فیس بک پہ غصہ نہیں آتا اپنے آپ پہ بہت آتا ہے ۔۔او ر فیصلہ بھی نہیں کرسکتا ہوں کہ خلوت میں ہوں یا جلوت میں ۔۔اگر خلوت عذاب بن جائے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ انسان ٹوٹ نہیں جاتا؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments