گلگت بلتستان پاکستان کی کرنسی میں۔

تحریر سبخان سہیل
بول کہ تیرے لب آزاد ہیں
شکریہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کہ گلگت بلتستان کو آپ نے پچاس روپے کے نوٹ کے اندر جگہ دے دی۔
اب حکمران بھی پاکستان کے آئین اور قانون کے اندر گلگت بلتستان کو تحفظ دیں۔
یوں تو گلگت بلتستان پوری دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کے حکمرانوں نے مسیاحت ،ٹرافی ہنٹنگ ، مائننگ سمیت دیگر  شکلوں میں اربوں روپے صرف گلگت بلتستان کے لیبل پر کمایا ہے گلگت بلتستان موجودہ وقت عالمی طاقتوں کی نظروں میں ایک ڈالر تیار کرنے والی مشین کے طور پر پہچانا اور جانا جاتا ہے ۔۔۔مگر بد قسمتی سے اس خطے کی مظلوم عوام آج بھی بنیادی حقوق اور آئینی حقوق سے محروم ہے گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جس نے اپنی آزادی کی جنگ خود لڑی اور ایک آزاد خطے کی قوم نے پاکستان کے ساتھ صر ف ایک کلمے کی بنیاد پر الحاق کیا بغیر کسی معائدے کے ۔۔۔۔۔
اس خطے کی عوام کو آج تک آئینی حقوق سے محروم رکھنے کے پیچھے ایک بہت بڑی سازیش ہے اس خطے کی عوام نے ہمشہ سے وطن عزیز کی بقاء اور سلامتی کے لیے ایک محب وطن پاکستانی کی حثیت سے ہزاروں جانوں کے نظرانے پیش کیے خطہ شمال گلگت بلتستان کے جوانوں نے معرکہ کارگل ہو یا ضرب عضب اپنی جانوں کے نظرنے دینے میں کبھی دریغ نہیں کیا تاریخ گواہ ہے گلگت بلتستان کی قوم نے وطن عزیز کے لیے جو قربانیاں دی ہے گلگت بلتستان کی سر زمین شہیدوں کی قبروں سے بھری پڑی ہے گلگت بلتستان کی قوم بغیر ماوضے کی سرحدوں پر کھڑی فوج ہے انھوں نے ہمیشہ وطن عزیز کی سرحدوں پر بغیر معاوضوں سپاہی کی طرح کھڑے ہیں  ۔گلگت بلتستان موجود وقت میں وفاقی حکومت کے آفیسروں کی چرگاہ بن چکی ہے وفاق سے آیے روزہ عوام دشمن پالیساں کے ساتھ ساتھ ایسے آفیسروں کو گلگت بلتستان میں تعینات کرتے ہیں جو بنا سوچے سمجھے یہاں کی مجاھد قوم کی تذلیل کرنا اپنی ڈویوٹی سمجتھے ہیں گلگت بلتستان کی وہ غیور قوم جس نے اپنی آزادی کی جھنگ خود لڑی ہے اور دشمنوں کے ساتھ ڈنڈوں اور کلہڈیوں سے جھنگ لڑی ہے آج اس غیور قوم کا کوئی سپوت اپنے خطےکا محافظ یعنی ایک چیف سیکرٹری نہیں بن سکتا ہے، گلگت بلتستان کا کوئی بھی شہری کیا ایک سپریم کورٹ کا معزز جج بن سکتاہے گلگت بلتستان کا کیا کوئی شہری پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم بن سکتا ہے ۔۔۔نہیں ناں!  ۔۔
گلگت بلتستان کا کوئی شہری جب ان اہم عہدوں پر کام نہیں کرسکتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے کیا گلگت بلتستان کے شہری پاکستان سے محبت رکھنے والے نہیں ہیں یا آج بھی اس محب وطن پاکستانی گلگت بلتستان کے شہری کوشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان عہدوں پر فرایض سر انجام نہیں دے سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعظم پاکستان نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر حقوق دیے گیے ہیں تو میرا سوال ہے کیا دیگر صوبوں کے بھی شہری بھی صد ر پاکستان وزیر اعظم پاکستان اور ایک صوبے کا چیف سیکرٹری اور دیگر اہم عہدوں پر کام نہیں کرسکتے ہیں کیا ۔۔۔پاکستان کے دیگر چاروں صوبوں کو بھی کیا وفاق سے چیف سیکرٹریز بیجتے ہو۔۔۔نہیں نا تو گلگت بلتستان کی قوم کے ساتھ یہ زیادتی کیوں ۔۔۔گلگت بلتستان کو جب حقوق دینے کی بات آتی ہے تو اس کو متنازہ خطہ بنا کے کیوں پیش کیا جاتا ہے جب بات آتی ہے مفادت کی تو یہ پاکستان کا حصہ کہلاتا ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے متنازعہ ہے تو پاکستان اپنے آپ کو چاینا کا ہمسایہ ملک کیسے کہتا ہے سی پیک جیسے میگاہ اربوں ڈالر کا  منصوبے کا عالمی روٹ گلگت بلتستان کی سر زمین کے سینے کو چیرتے ہوتے ہوئے نکلتا ہے اس سی پیک کے اندر تو گلگت بلتستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے کہتا ہے ۔۔۔۔۔
سرتاج عزیز صاحب  جب حقوق کی بات آتی ہے تو یہ متنازعہ علاقہ کہلاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خطے کی عوام کے جذبات کے ساتھ مزید نہیں کھلیں گلگت بلتستان آگر متنازعہ ہے تو پاکستان اسٹیٹ بنک سے جاری پچاس روپے کے نوٹ کے اندر جو تصویر لگائی ہے وہ بھی تو گلگت بلتستان کے K2 پہاڑ کی ہے ۔۔۔گلگت بلتستان پاکستان کے نوٹوں کے اندر لانے میں کوئی روکاوٹ کوئی دقت  نہیں ہے تو پھر صرف پاکستان کے قومی اسمبلی اور سینٹ میں کس بات کی رکاوٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرح پاکستان کے اسٹیٹ بنک نے گلگت بلتستان کو اپنے پچاس روپے کے اندر جگہ دی ہے اسی طرح گلگت بلتستان کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی جگہ دیں تو یہاں کے شہری کبھی سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے نہیں  آئیں گے گلگت بلتستان کا ہر شہری محب وطن پاکستانی ہے اور آئیندہ بھی رہے گا۔ خدار اس قوم کے اوپر آمرانہ فیصلوں کے بجائے عوام خواہشات کے مطابق مناسب سیٹ اپ دیا جائے اور جس طرح اسٹیٹ بنک نے گلگت بلتستان کو اپنے پچاس روپے کے نوٹ کے سنٹر میں جگہ دی ہے اسی طرح پاکستان کے حکمران بھی گلگت بلتستان کو آئین اور قانون کے اندر لاکر یہاں کی عوام کی دریرنہ خوائیش کو پوری کریں۔۔۔۔۔
میری گزاش ہے  وزیر اعظم پاکستان پاکستان چیف آف آرمی سٹاف   وزیر اعلی گلگت بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے کی اسٹیٹ بنک کی اس کاوش کو مزید عملی جامہ پہناتے ہوئے گلگت بلتستان کےموجودہ حالت کے مطابق  پاکستان کے آئین اور قانون میں تحفظ فراہم کریں ۔۔۔
میں اس شعر کے ساتھ اپنے الفاظ سمیٹنا چاہوں گا۔
خدا کرے کی میرے ارض پاک پے اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زول نا ہو۔
خدا کرئے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نا ہو زندگی وبال نہ ہو۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments