گلگت تا سکردو روڈ پر پھر سے لوہے کا پُل: کہیں‌عوام کو “ماموں”‌تو نہیں‌بنایا جارہا؟‌

تحریر: سیدہ جبین

موجودہ حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ان کو سراہنا چاہئے اور سراہتی بھی ہوں. خاص کر بلتستان میں تو آر سی سی پلوں کی جال بچھائی ہے…

لیکن یہ کیا بلتستان کو گلگت سے ملانے والی واحد پل “عالم پل” کی ان تصویروں کو دیکھ کر یقین نہیں آ رہی کہ لوگوں کو ایسے بھی بے وقوف بنایا جاتا ہے آر سی سی پل کا کہہ کر پھر سے لوہے کی پل بنا رہے ہیں آخر ایسا کیوں…؟؟؟

اگر “عالم پل” اور “ایوب پل” آر سی سی کا نہیں بنیں گے تو پھر چھومک پل، شگر پل، ہمایوں پل اور سرمو پل وغیرہ کا آر سی سی کے بننے کا کیا فائدہ خوامخواہ گورنمنٹ کے خزانے کو نقصان ہے کیونکہ “عالم پل” اور “ایوب پل” اگر آر سی سی کے نہیں بنیں گے تو بڑے گاڑیوں کا بلتستان میں داخل ہونا ممکن نہیں اس صورت میں پھر وہی پہلے والا معاملہ ہو گا، پہلے مال کو پاکستان کے مختلف حصوں سے بڑے گاڑیوں کے ذریعے گلگت جگلوٹ میں لا کر اتار دیں وہاں گودام میں سٹاک کریں گودام کا کرایہ دیں، پھر وہاں سے چھوٹے گاڑیوں کے ذریعے بلتستان بھیج دیں.

 اس پر مستزاد پل پر سے بھی ایک محدود وزن سے زیادہ لوڈ اٹھا کر ٹرک کو گزرنے نہیں دیتے جس کی وجہ سے ٹریکٹر کے ذریعے زائد وزن کو دوسری طرف لانا پڑتا ہے اس کا بھی کرایہ دیں، اس سے تاجروں کو تو نقصان نہیں وہ اپنے کرایہ غریب عوام سے لیں گے اگر پسیں گے تو غریب عوام ہی پیسیں گے

اس لئے وزیراعلیٰ صاحب، سنئیر وزیر اکبر تابان صاحب، سپیکر فدا محمد ناشاد صاحب اور دیگر ممبرانِ اسمبلی سمیت عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کو بھی نوٹس لینے کی ضرورت ہے اس بارے سوچنے کی ضرورت ہے اور متعلقہ دو پل ( عالم پل اور ایوب پل) کو آر سی سی کا ہی بنایا جائے.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments