شگر کی سکینہ کسی مسیحا کی منتظر

تحریر: نثارعلی

زباں پر درد کی آواز، آنکھوں میں آنسواور دل میں جینے کی حسرت لئے شگر سے تعلق رکھنے والے بتیس سالہ سکینہ بی بی زندگی اور موت سے لڑتے ہوئے راولپنڈی میں کسی مسیحا کی منتظرہیں۔ ایک سال قبل گردے کی بیماری کی تشخیص ہوئی تو  شوہر شبیر حسین زندگی کی جمع پونجی ساتھ لیے بیوی کو لے کر گھر سے علاج کے لئے نکل پڑا۔ سکینہ کا علاج کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

گزشتہ آٹھ مہینوں سے کراچی، لاہور اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف ہسپتالوں میں علاج کرانے کی ہر ممکن کوششیں کی مگر غربت اور پیسے کی کمی کے باعث مکمل علاج نہ ہو سکا۔ اب صورتحال یوں ہے کہ سکینہ کے دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں اور وہ راولپنڈی اصغر مال کے قریب کسی مسجد کے کمرے میں ایسے مسیحاوں کی منتظر ہے جن کی مالی مدد سے علاج ممکن ہوسکے۔

ہفتے کی شام کو شگر سے تعلق رکھنے والے کسی نوجوان نے فون کر کے ہم سے اس خاتون کی اپیل میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے کہ درخواست کی۔ فون سننے کے بعد اپنے دوست کے ہمراہ ان سے ملنے گیا اور شوہر شببیر حسین سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔

شوہر نے روداد سناتے ہوئے بتا یا کہ “باربار ڈائیلیسز کر کے انہیں بچانے کی کوشش کی گئی، مگر اب یہ بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ سکردو سے تعلق رکھنے والے ایک فرشتہ صفت نوجوان نے اپنا گردہ عطیہ کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر آپرشن کے لئے تقریبا 15 لاکھ روپے درکار ہیں۔ میری صاحب استطاعت لوگوں سے اپیل ہے کہ خدارا ہماری مدد کر کے میری سات سالہ بچی کو یتیم ہونے سے بچالیں، جو ہر دفعہ فون کر کے ہم سے پوچھتی ہیں کہ بابا اب لوگ گھرواپس کب واپس آرہے ہیں۔”

قارئین کرام ، شگر کی سکینہ پہلی خاتون نہیں  جو  بار بارہم سے اپنی زندگی بچانے کے لئے امداد کی اپیل کر رہی ہے۔ ان سے پہلے بھی سینکڑوں لوگ اس طرح کی اپیلیں کرتے ہوئے موت کے سامنے جھک گئے ہیں، لیکن ان کی موت کے بعد ہم اپنے رویوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے صرف عوامی نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کرنے کی اداکاری کرتے ہیں۔

یہاں یہ سوال آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کیا کسی کی زندگی بچانے کی زمہ داری صرف عوامی نمائندوں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ کیا ہم بھی اپنی بساط کے مطابق ان کے لئے کچھ کر سکتے ہیں؟

جواب لازماً یہی ہو گا کہ جی ہم بھی ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

معزز قاریئن سکینہ بی بی کے علاج کے لئے صرف 15 لاکھ روپے درکار ہیں۔  آپ بھی اپنی جیب خرچ میں سے کچھ بچا کر ان کی مدد کریں تو یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔

اندازاً گلگت بلتستان کے تقریبا 20 ہزار سے زائد طلباء، فیملیز، کاروباری حضرات اور پروفیشنلز راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کے لوگ حقیقی معنوں میں سکینہ کی مدد کر کے ان کے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ لاسکتے ہیں یا صرف عوامی نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پوسٹس شئیر کرتے ہیں؟

سکردو سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان اپنا گردہ عطیہ کرنے کے لئے تیار ہوسکتا ہے تو کیا ہم ملکران کی علاج کے لئے کچھ پیسے جمع نہیں کر سکتے؟

زرا سو چیئے۔

جو بھی صاحب استطاعت اور مخیر حضرات اس کار خیر مین اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، وہ ان نمبروں پر رابطہ کرسکتےہیں۔

شبیر حسین 03129782049
شجاع شگری 03149792930
نثارعلی 03448832640

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments