گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون قرار دینے تک پاک چین سرحد تجارت کے لئے بند کردیں گے، جوہر علی راکی، صدر چیمبر آف کامرس

گلگت( سٹاف رپورٹر) چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری گلگت بلتستان اور ایکسپورٹرز امپوٹرز ایسوسی ایشن نے گلگت بلتستان کو  ٹیکس فری زون قرار دینے تک پاک چین بارڈر کو ہر قسم کی تجارت کے لئے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

منگل کے روز صدر چمبر آف کامرس اینڈ اینڈسٹری گلگت ناصر حسین راکی نے پامیر ٹائمزسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الااقوامی قانون کے مطابق جب کوئی علاقہ متنازعہ ہو تو اُس علاقے میں ٹیکس کا نظام لا گو نہیں ہو تا۔ گلگت بلتستان بھی پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں ہے اس لئے یہاں پاک چین بارڈر سوست ڈرائی پورٹ اور کسٹم میں گلگت بلتستان کے تاجروں سے ٹیکس وصول کرنا غیر قانونی ہے۔

اس سلسلے میں گلگت بلتستان کے تمام چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تمام سیٹک ہو لڈز سے مل کر آل پارٹی کانفرنس بلائے گی جس میں اس اہم ایشو پر خصوصی گفت شیند کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ جب گوادر میں ٹیکس فری زون کی منظوری دی جاسکتی ہے تو گلگت بلتستان میں اس زون کا قیام کیوں ممکن نہیں ہے؟گلگت بلتستان اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ایک اہم گزرگاہ ہے یہاں پر پانچ بڑے ممالک کی سرحدیں ملتی ہے ۔ہمارے آباو اجداد نے اس خطے کو پاکستان سے الحاق کیا تھا لیکن ہمارے حکمران اس علاقے کو مسلہ کشمیر سے جوڑ کر اس علاقے کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق متنازعہ عالقے میں ٹیکس کا نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس سلسلے میں اس کے خلاف مہم بھی چلائی گئی ۔ اب سوست ڈرائی پورٹ اور کسٹم میں تاجروں سے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ چیف کلیکٹریہ نیا نظام webokرائج کرنا چاہتا ہے جو کہ یہاں کامیاب نہیں ہے چیف کلیکٹر اس بارڈر کو بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں چونکہ گلگت بلتستان کے تاجروں کا اس بارڈر سے روزی وابستہ ہے اگر تاجروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو غیر معینہ مدت تک بارڈر کو بند کر ینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments