اُلتر گلیشر میں برفباری کی وجہ سے امداد کاروائیاں متاثر، تلاش کا کام چوتھے روز بھی جاری رہے گا

ہنزہ ( اجلال حسین ) التر ریسکو آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے سرکاری مشینری کو استعمال میں لاتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھی جائے  چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیازی کی ہدایت۔

انہوں نے گزشتہ روز ہنزہ میں سانحہ التر کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ریسکو اداروں کے سربراہان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ لاپتہ نوجوانوں کی تلاش مین کوئی کسر نہیں چھوڑے گے ضرورت پڑنے پر افواج پاکستان سے بھی مدد لینگے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے ڈاکٹر کاظم نیازی نے مزید کہا کہ التر سانحہ ریسکو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے تاکہ اس میں ریسکو اداروں کو کامیابی مل سکے انہوں نے کہا کہ التر سانحہ ایک ایسے جگہ پر رونما ہو ئی ہے جہاں پر بھاری مشینری کو لے جانے کی گنجائش نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب موسم کی مسلسل خرابی کے وجہ سے ہیلی کا پٹر کا استعمال بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بارود اور گینٹی بلچے کا استعمال کیا جا رہا ہے انہوں نے ریسکو میں کام کرنے والے نوجوانوں کا مکمل طور پر خیال رکھا جائے تاکہ ریسکو کرنے والے افراد کوکسی قسم کی بھی مشکلات کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ اجلاس میں اسماعیلی ریجنل کونسل ہنزہ کے صدر شریف خان نے لاوحقین اور عوام ہنزہ کی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس دن سے سانحہ رونما ہوا ہے اسی دن سے گلگت بلتستان حکومت اور انتظامیہ ریسکو آپریشن میں صف اول میں رہے ہیں جس کے لئے ابتدائی دن سے ہی سکرٹری داخلہ ، کمشنر گلگت ڈویثرن ، ڈی سی ہنزہ ، ایس پی ہنزہ اور ان کے ماتحت ادارے محکمہ تعمیرات ، محکمہ صحت ، ریسکو1122، GBDMAپولیس ہنزہ اور دیگر ریسکو اور انتظامیہ ادارے دن رات اس ریسکو آپریشن مین دن رات کھڑے ہے ان سب کو خراج تحسین پیش کرتے ہے ۔ جبکہ دوسری جانب سانحہ التر کا اج تیسری روز بھی ریسکو آپریشن جاری ہوا جس میں مقامی رضاکاروں کے علاوہ فوکس، محکمہ پولیس ، محکمہ 1122محکمہ تعمیرات عامہ ضلع ہنزہ کے ایگریکٹو انجئینر اور ان کے درجنوں عملے نے بھر پور انداز میں حصہ لیا۔ ریسکو آپریشن گزشتہ روز دن بھر جاری رہی جس کی قیادت گلگت ڈویثرن عثمان آحمد نے کی۔التر میں برف بھاری ہونے کی وجہ سے امدادی کا روائی جلد بند کرنے پر مجبور ہو گئے اج صبح 5بجے کے بعد ریکسو آپر یشن ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرانی چیف سکرٹری کے احکامات کے روشنی میں دوبارہ جاری رہی گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments