سانحہ التر اور ریسکیو آپریشن

تحریر : اکرام نجمی

وادی ہنزہ کے مشہور چراہ گاہ التر نالے میں9 اپریل کے سہ پہر5بجے کے قریب ایک قدرتی آفت نے نہ صرف خوبصورت چراہ گاہ کو تباہ و برباد کیا بلکہ تین قیمتی انسانی جانوں کو بھی نگل لیا ۔

حادثے کے روز اچانک التر نالے سے گردغبار کا ایک طوفان امنڈ آیا جس کی وجہ سے وادی ہنزہ اور نگر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرنے لگیں۔ تمام خطرات اور غیر واضح صورت حال کے باوجود فوکس پاکستان کے تربیت یافتہ رضاکار اور چند مقامی نوجوان فوکس ہنزہ کے زمہ دار  سوشل ورکر ہدایت شاہ کی قیادت میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر حادثے کے مقام تک پہنچے اور دو زخمی افراد کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔

ان رضاکاروں کی حادثے کے مقام تک رسائی کے بعد ہی اصل صورت حال بھی واضح ہونے لگی۔ زندہ بچ جانے والے دونوں مقامی لڑکوں نے مزید تین افراد کی موجودگی کا انکشاف کیا، جس کے بعدلاپتہ افراد کو بچانے کیلئے حکومت گلگت بلتستان ،مقامی انتظامیہ ،اسماعیلی بوائز سکاوٹس ،پاک آرمی کے جوان ،مقامی نوجوان رضاکاروں اور دیگر حکومتی و نجی اداروں نے سرچ آپریشن کا آغاز کیا ۔

تین دنوں تک انتہائی خطرناک اور دور دراز پہاڑی علاقے میں صرف اور صرف ہاتھوں سے استعمال ہونے والے ہلکے اوزاروں کی مدد سے انسانی جذبے کی لازوال داستان رقم کرتے ہوئے اس آپریشن میں شامل انسانیت دوست لوگوں نے کئی سو فٹ گہری کھدائی کے بعد تینوں لاپتہ افراد کی لاشوں تک پہنچنے اور ان کو نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔

اس حادثے کا شکار ہونے والے 5بچوں میں سے 4کا تعلق ہنزہ کے گاؤں التت سے ہیں اور ایک کا تعلق لاہور سے جبکہ ان 5میں سے دو افراد کو حادثے کے روز بچایا گیا تھا اور تین افراد لاپتہ تھے ۔

واضع رہے کہ الترچراہ گاہ مشہور بلتت فورٹ کے عقب میں موجود ہے جہاں پر دنیا کی مشہور چوٹیاں التر پیک ون، التر پیک ٹو اور لیڈی فنگر موجود ہیں۔ ان چوٹیوں کے نشیبی علاقے میں چراہ گاہ موجود ہے جہاں پر لوگ گرمیوں میں اپنے میں اپنے مال مویشی اور سیاح پہاڑی چوٹیوں کو دیکھنے اورسیر کیلئے جاتے ہیں۔ جاپان کے مشہور کوہ پیماء ہاسی گاوا اور ا سکے ساتھی کی قبر بھی اسی چراہ گاہ میں موجود ہے۔ یہ دونوں کوہ پیما برفانی تودہ گرنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس چراہ گاہ تک پہنچنے کیلئے انتہائی دشوار گزار اور خطرناک پہاڑی راستے پر پیدل چلنا پڑتا ہے ۔

حادثے کے دن سے لیکرآپریشن مکمل ہونے تک جن افراد نے وہاں پر انسانی ہمدردی کے عظیم جذبے کے ساتھ کام کیا ہے وہ انتہائی قابل تعریف ہے اور اہلیان ہنزہ انکو سلام پیش کرتے ہیں۔ خاص کر گلگت بلتستان حکومت اور انتظامیہ کے نمائندے اور افسران جنھوں نے علاقے کا دورہ کیا اور آپریشن کی نگرانی کی  اور پاک فوج کے تربیت یافتہ جوان، ضلعی انتظامیہ کے افسران ، غرض ہر ادارے اور ہر شخص نے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔

میں یہاں پر ڈپٹی کمشنر ہنزہ اور ایس پی ہنز ہ کاخصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہونگا۔ ڈپٹی کمشنر ہنزہ نے نہ صر ف موقعے پر موجود رہ کر آپریشن کی نگرانی کی بلکہ مقامی رضاکاروں کے ساتھ عملی طور پر خود آپریشن میں حصہ بھی لیا۔ اسی طرح ہنزہ کی خاتون ایس پی میڈم طاہرہ بھی انتہائی مشکل راستے پر چل کر حادثے کے مقام تک پہنچی اوروہاں پر کام کرنے والے رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ کمشنر گلگت ریجن اور سیکریٹری داخلہ صاحبان نے تمام آپریشن کی تکمیل تک نگرانی کی جس کی وجہ سے نامسائد حالات میں ان افراد کے لاشوں کو نکالنا ممکن ہوا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک ایسے خطے میں آباد ہے جہاں پر قدرتی آفات کا سامنا کرنا معمول ہے آسمانی بجلی ،برفانی تودے ،پہاڑی تودے ،زلزلہ اور اس قسم کے کئی قدرتی آفات کا سامنا ہوتا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایسے کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اپنے آپکو تیا رکرنا ہوگا ہمیں اپنے رضاکاروں کو مزید بہتر تربیت دینے کی ضرورت ہے اور ایسے حادثات کے موقعوں پر بے لوث خدمت کرنے والے رضاکاروں کی حکومتی اور عوامی سطح پر ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انکی حوصلہ افرائی کی ضرورت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments