پولیس چیک پوسٹ پر ڈاکٹر کی تلاشی کےخلاف احتجاج، چلاس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں‌ ڈاکٹروں‌نے او پی ڈی بند کردی، مریضوں‌کا احتجاجی مظاہرہ

چلاس(بیورورپورٹ) تھور چیک پوسٹ پر پولیس کی طرف سے ڈاکٹروں کی تلاشی کیوں لی گئی ،چلاس ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹروں کا احتجاج، ہسپتال کے تمام ڈاکٹروں نے کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دیااور اوپی ڈیز بند کرکے مریضوں کاچیک اپ کرنے سے انکار کر دیا ۔ڈاکٹروں کے احتجاج سے ضلع دیامر کے دور دراز علاقوں داریل تانگیر،نیاٹ،گوہرآباد ،تھک اور کھنرسے علاج معالجے کیلئے چلاس ہسپتال آنے والے درجنوں مریض رُل گئے اور ڈاکٹروں کی تلاش میں چلاس ہسپتال کا چکر کاٹنے لگے اور اپنے مریضوں کو چیک کروانے کیلئے ڈاکٹروں کو منتیں کرنے لگے ،لیکن دکھی انسانیت کے علمبرداروں کسی بھی مریض کی ایک نہ سنی اور ہسپتال کے احاطے میں تمام ڈاکٹر خوش گپیوں میں مصروف رہے ۔اورتھور چیک پوسٹ کے عملہ کیخلاف کارروائی کرنے تک احتجاج کو جاری رکھنے پر ڈٹ گئے۔۵ گھنٹے تک ڈاکٹروں کا احتجاج جاری رہا اور مریض ہسپتال کے اندر رُلتے رہے اسی دوران ایس پی دیامر رائے محمد اجمل نے ڈاکٹروں سے مذکرات کیلئے ہسپتال پہنچ گئے اور مذکرات کئے۔مذکرات کے دوران چلاس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے سٹی ہسپتال گلگت کے ڈاکٹر نوید کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی بدتمیزی پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ایس پی دیامررائے محمد اجمل نے ڈاکٹروں کے تحفظات سننے کے بعد کہا کہ پولیس کا کام لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے ،اگر تھور چیک پوسٹ پر پولیس نے کسی کے ساتھ بلاجواز غیر اخلاقی یا غیر قانونی حرکت کی ہے تو اُن پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ایس پی دیامر نے مزید کہا کہ ہر شہری کو قانون کا احترام کرنا چاہے ،کوئی بھی شخص قانون سے بلاتر نہیں ہے۔ایس پی دیامر رائے اجمل نے متاثرہ ڈاکٹر نوید کا بیان سننے کے بعد تمام ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کریں گے جس کے بعد قصور وار کو قانون کے مطابق سزا دی جائیگی ۔ایس پی رائے اجمل کی یقین دہانی پرڈاکٹروں نے احتجاج ختم کرکے گھروں کو چل دیئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments