دنیا کی نظر سی پیک پر              

سونیا کریم برچہ
جناح یونیورسٹی کراچی

گوادر پورٹ پاکستان اور دنیا کی مشہور بندرگاہ ہے. یہ بندر گاہ بحیرہ عرب کے کنارے پر صوبہ بلوچستان پاکستان میں  واقع ہے .گوادر پورٹ کو ١٩٥٤ میں پہلی مرتبہ بندرگاہ کے طور پر دیکھا گیا. مگر اس وقت اس پر کام  نہیں ہو سکا. ٢٠٠٧ میں اس کی تعمیر کے منصوبے کا کام شروع کروایا گیا . ٢٠١٥   میں  یہ اعلان کیا گیا  تھا  کے کہ شمالی پاکستان اور مغربی چین کو گوادر سے ملا دیا جائے گا. سی پیک منصوبے کے تحت ایک روڈ بنایا گیا جو گوادر پورٹ سے شروع ہوتا ہوا پنجاب  سے ہو کر فاٹا جائے گا  اور وہاں سے گلگت بلتستان  اور آزاد کشمیر سے ہوتا ہوا چین کے صوبے سینکیانگ (شینجیانگ) میں واقع کاشقر جا کر اختتام پذیر ہوگا . اس روٹ کو سی – پیک کا نام دیا گیا. یعنی پاکستان، چائنا اکنامک کوریڈور.

مڈل ایسٹ کا نقشہ دیکھے تو ان میں وہ ممالک،جن میں تیل بہت زیادہ پایا جاتا ھے اور وہ ساری دنیا کو تیل مہیا کرتے ہیں .جن میں ایران ،عراق اور سعودی عرب  ھے  . یہ ممالک  اوپیک، یعنی تیل نکالنے اور ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کے اتحاد کا حصہ یں۔ وہ  ممالک جن میں  تیل کے زیادہ ذخائر موجود ھے ان سے تیل بحری جہازوں کے ذریعے  پاکستان، بھارت ،چین ،جاپان  اور دیگرممالک کو سپلائی کیا جاتا ھے .یہ تیل گوادر پورٹ کے قریب سے ہوتا ہوا دنیا کے لاگ بھاگ ایک تہای تیل دنیا کے مختلف ممالک کو سپلائی کیا جاتا ھے .گوادر پورٹ  تکمیل کے بعد تیل کی اس سپلائی کو کنٹرول کر سکتا ھے . پاکستان میں تیل گوادر کے ہی راستے سے آ رہا ھے .گوادر پورٹ پاکستان کے لئے انتہائی اہم ھے.چین کل ٣ ملین ڈالرز کی لاگت سے گوادر پورٹ کو سی-پیک کے ذریعے  کاشغر سے کیوں ملانا چاہتا ھے؟

چین بھی تیل عرب ممالک سے خریدتا ھے . یہ تیل مختلف ممالک سے ہوتا ہوا عربین سی ،انڈین اوشن اور پھر یہاں سے گزرتا ہوا اسٹیٹ آف ملاکا، پھر جنوبی چین کو عبور کرتا ہوا ھونگ کونگ پہنچتا ھے  پھر شنگھائی اور  تیآنجن پورٹ  تک پہنچتا ھے .چین کی تیل کی سپلائی کو چائنا ساؤتھ سی، سے گزرنا پڑتا ھے .ساؤتھ چائنا سی پر بہت  سے ممالک اپنا حق جتاتے ہیں  جن میں چین، ویتنام ،انڈونیشیا، ملائیشا ، تائیوان اور فلپائن شامل ھے.ہر ملک اپنے طور پر قبضہ جمانا چاہتا ھے .کیوں کی یہ اہم ٹریک ھے. اس لئے کوئی بھی ملک اس کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا ،جب کی چین نے اعلان کر دیا ھے کہ یہ علاقہ ہمارا ھے  اور دوسرے ممالک اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے راضی ہی نہیں ہیں.مختصر یہ کہ جنوبی چین سی کے ساتھ  منسلک جزیروں پر مشتمل یہ تمام ممالک اپنی فوج کو تعینات کر رہے ہیں اور وہاں تعمیرات بھی کر رہے ہیں.

دوسری طرف امریکا ،چین کو دبانے کے لئے ویتنام،فلپائن،جاپان اور بھارت جیسے ممالک جو کی چین کے دشمن ھے ،ان کو ٹیکنالوجی اور دیگر ملیٹری ہارڈویئر فراہم کرتا ھے.جن سے یہ ممالک اپنی فوجی طاقت بڑھا رہے ہیں .یہ چین کے لئے پریشان کن بات ھے اور جلد ہی بڑی جنگ کی طرف اشارہ ھے. جس کا ایک اور مقصد بھی ھے وہ یہ کہ ساؤتھ چائنا سی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا کیوں کہ یہ جاپان کا اہم ترین روٹ بھی ھے جس پر چائنا اور جاپان دونوں قبضہ کرنا چاھتے ہیں. دونوں،چین اور جاپان ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہیں .اگر چین اس پر قبضہ کرتا ھے تو جاپان کی سپلائی کاٹ سکتا ھے اور اگر جاپان اس پر قبضہ کرتا ھے تو چین کی سپلائی کاٹ سکتا ھے .چین سی – پیک کے ذریعے اپنی سپلائی شروع کروا کے اپنے دشمن ممالک کو منہ توڈ جواب دینا چاہتا ھے اور چین سی- پیک کے ذریعے بہت ہی کم فاصلے سے دنیا کے دوسرے ممالک سے تجارت بھی کر سکتا ھے اور پھر اپنے ملک کی آبادی کی زیادتی بھی کم کر پا ے گا، کیوں کی کاشت کار ویسٹ پارٹ  میں ہیں اور جب یہاں تجارت  بڑے گی تو ایسٹ پارٹ سے ویسٹ پارٹ کی طرف رخ کریںگے کیوں کی ویسٹ پارٹ میں آبادی بہت کم ھے. چین گوادر پورٹ کے ذریعے اپنے دشمن ممالک کا ٹریک روٹ بھی قابو کر پایئے گا اور پاکستان کو سی – پیک سے ملک میں خوشحالی آیئے گی اور پاکستان چین کے علاوہ روس کا بھی ٹریک روٹ بنے گا، کیوں کہ روس سی پیک کا حصہ ھے .اس سے چین کے  صوبےزھجیانگ سے راستہ لے کر روس سے جوڈے گا . سی پیک  سے  پاکستان میں بےروزگاری کم ہوگی،محشیت مضبوط ہوگی اور دہشتگردی بھی کم ہوگی .اس وجہ سے بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ سی پیک منسوخ کروانا چاھتے ہیں اور اس منصوبے کے خلاف ہیں. اس منصوبے  کو روکنے کے لئے بہت سے حربے آزما رہے ہیں جو کی ناکام رہے ہیں.سی پیک کے سکورٹی کے لئے پاکستان آرمی اور چین کی آرمی مل کر کام  کرنگیں.انے اور جانے والے گاڈیوںاور کشتیوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کریںگےاور سی پیک میں بناے جانے والے راستے اور اس پورے  منصوبے میں پاکستان آرمی کا کردار انتہائی اہم رہا ھے. ابھی بھی بلوچستان کو ایک الگ ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ھے اور پروپگنڈے کیے جا رہے ہیں .سی پیک پایہ تکمیل کی طرف روا دواں ہیں،جس سے نہ صرف بلوچستان اور گلگت بلتستان ترقی کریں نگے بلکہ پورا پاکستان ترقی کرےگا.  (انشاالله). پاکستان زندہ باد.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments