بھونکتا ادیب اور جشن قاقلشٹ

ہماری ایک مقامی ادیب سے دوستی ہے کچھ دن پہلے ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کے چھ سال کے بیٹے سے پوچھا۔ بیٹا ادیب کیسے ہوتے ہیں۔ فوراً جواب آیا کہ ’’جن کے جوتوں کے تلوے پھٹے ہوئے ہوں وہ ادیب ہوتے ہیں‘‘۔ جواب حیرت انگیز تھاگومگو کی کیفیت میں دوسرا سوال کرنے سے پہلے ہی بچے نے تفصیل بھی بتادی کہ ’’ میرے ابو ادیب ہیں ان کے جتنے دوست آتے ہیں سب کے جوتوں کے تلوے پھٹے ہوتے ہیں۔ آج آپ آئے ہیں آپ کے جوتوں کے تلوے بھی پھٹے ہوئے ہیں، یقیناًآپ بھی ادیب ہوں گے‘‘۔ ہم نے عرض کیا کہ بیٹا اللہ نہ کرے یہ بیماری ہمیں بھی لگ جائے۔ بس جوتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔یہ بچگانہ تجزیہ ہمارے لئے بالکل نیا تھا ہم ’’چاک گریبان ‘‘ ادیبوں سے آگاہ تھے۔ ’’پھٹے تلوے‘‘ والے ادیب ہمارے لئے بھی نئے ہی تھے۔ بچے کے اس تجزیے سے ہم اتنے زیادہ متاثر ہوئے کہ واپسی پر سیدھے بازار گئے، ادھار پر نئے جوتے لئے تاکہ کوئی ہمیں ادیب نہ سمجھے۔کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عام افراد اور عوام کے حقوق کے لئے بات کرنے والا ادیب اور دانشور طبقہ ’’بھونکتا‘‘ ہے جبکہ ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جھوٹ بولنے والا شخص ’’فرماتا‘‘ ہے۔ہم کم از کم ہوش و حواس میں رہتے ہوئے بھونکنے والوں میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
غالباًاس معاشرتی رویے کا اثر تھا کہ امسال ہونے والے ’’جشن قاق لشٹ‘‘ کے موقع پر ادیبوں کو اس خالصتاً عام لوگوں کی محفل سے دور رکھا گیاتاکہ ان کے غیر انسانی فعل سے عام عوام کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ حالانکہ اس جشن کو شروع کرنے کا سہرا ان ہی پاگل لوگوں کے سر جاتا ہے۔انتہائیبے سروسامانی کے عالم میں یہ جشن شروع کیا گیا تھا ۔ ذاتی خرچے پر قاق لشٹ کے ہر کونے میں جشن برپا کرنا ایسے ہی پاگل لوگوں کا جنون ہوسکتا ہے۔ ہوش مند لوگ ایسے جشن برپا کرنے لگیں تو دنیا گلزار نہ بن جائے۔ یہ پاگل لوگ کتنے سالوں کی محنت اور ذاتی وسائل سے آخر کار چترال کے لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ ہر علاقے کی ایک ثقافت ہوتی ہے اور ثقافت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ ایک وقفے کے بعد ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ تاکہ معدوم ہوتی ثقافت کو بحال رکھا جاسکے۔ بچوں کو بتایا جاسکے کہ ان کے اباؤ اجداد کس طرح زندگی گزارتے تھے۔ ان کا سفر کہاں سے شروع ہوا تھااب وہ کہاں پر ہیں ۔یہ پاگل لوگ اس جشن کے وارث ہیں آپ وارثوں کو زبردستی ان کے گھر سے باہر کیوں نکال رہے ہیں۔ ان پاگلوں کو ’’بی بی شیرین‘‘ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ ’’خوش بیگم‘‘ کے ساتھ خوش ہیں۔ یہ لوگ جو قاق لشٹ کے لق دق بیابان میں جمع ہوتے ہیں ۔ ان کو ذاکر زخمیؔ اچھے لگتے ہیں، افضل اللہ افضلؔ کی دھن سے ان کو دلچسپی ہے۔ امین الرحمن چغتائی ان کا غالبؔ ہے، مولا نگاہ نگاہؔ کو سن کر مہینوں ہنسنا چاہتے ہیں،سعادت حسین مخفی ان کو سعادت حسن منٹو سے زیادہ پیارے ہیں،ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ان کے لئے کیا ہیں اس کا آپ کو اندازہ نہیں۔ ان کے علاوہ چترال کے ہزاروں ایسے فرزند وہ بھی صلاحیتوں سے مالامال فرزندموجود ہیں جوچترال کے لوگوں کے لئے قاق لشٹ کو گل و گلزار بنادیتے ہیں۔ پھر بھی آپ بضد ہیں کہ آپ ہمیں ’’بی بی شیرین‘‘ ہی سنائیں گے اور ہم آ پ کے دھن پر ناچ سکتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے وزیرستان میں امن تو قائم ہوگیا ہے کیونکہ نہ وہاں ’’بی بی شیرین‘‘ والی کسی ثقافتی شو کا انعقاد کریں اور کسی چترالی کو میزبان بنائیں۔ کتنی عزت افزائی ہوگی۔

کہتے ہیں کہ ادیب لوگ معاشرے کے نبض شناس ہوا کرتے ہیں۔ اتنے تلخ تجربات کے بعد بھی ایسا کہنا جہالت کی نشانی ہے یہاں گردن سے ذبح کرنے کا رواج ہے نبض کون دیکھتا ہے۔ ویسے ہمیں اس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔چترالی ثقافت کے نام پر منعقد ہونے والے جشن قاق لشٹ میں گیت اردو، پنجابی ،پشتو اور سرائیکی ساتھ میں خٹک ڈانس ہوتو ہمیں دو چار سال بعدکسی خٹک، کسی چوہدری یا پھر کسی مالک یا میاں کے اس دعوے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ اصل میں قاق لشٹ کی زمین ان کے اباؤ اجداد کی میراث ہے۔ یہ جو میں بھونک رہا ہوں میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ نہ تو میں ادیب ہوں اور نہ ہی دانشور۔ نہ ہی مجھے قاق لشٹ یا گرین لشٹ سے کوئی دلچسپی ہے۔ وہ ایک زمانے میں شندور میں بھی چترالی ثقافت کا بول بالا تھا جب وہاں پر چترال کی ثقافت کو سائیڈ لائن لگانے کا کام شروع ہوا۔ تو ادیب لوگ اس وقت بھی بھونکتے رہے کسی نے نہیں سنی ۔اب شندور میں چترال کا صرف ڈھول رہ گیا ہے ۔ امسال قوی امکان ہے کہ وہاں پر نرگس کی اسٹیج پرفارمنس دکھائی جائے گی۔چونکہ چترالی ادیب نرگس کو نچانے کے قابل گانے تخلیق کرنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہیں اس لئے بروقت ان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ جشن شندور سے اپنے آپ کو دور ہی رکھیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments