دیامر یوتھ آرگنائیزیشن  

تحریر شاہ نصیر رش

رات کی تاریکیاں بھی تھیں تو کہی دن کے أجالے بھی تڑپ کے ساتھ خلوص بھی، اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ بھی، شباب کا عا لم بھی تھا، تو فرصت زندگی بھی ,تعارف بھی تھا تو تعریف بھی ,مقام بھی تھا تو مسائل بھی ۔

ان سب چیزوں کی سوچ لئے دیامر سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان نے ایک نظریہ کے حصول کے لئے 30-12-2016 کو پنڈی میں دیامر یوتھ آرگنائیزیشن کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔

حق ہو ۔۔۔اللہ ہو

کو باقاعدہ طور پے تنظیم کا نعرہ رکھا گیا اور قومی زبان اردو کو آرگنائیزیشن کے آفشیل زبان کے طور پےمتعارف کروایا گیا۔اردو زبان کی وجہ یہ بنی کہ ایک تو یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی زبان ہے دوسری بات یہ ایک سٹوڈنٹ تنظیم کے ساتھ ساتھ ایک عام نوجوان کی بھی تنظیم ہے۔ جن کو اردو کے علاوہ اور زبانوں پر عبور حاصل نہی ہے۔ جس کی وجہ سے تنظیمی معملات کو احسن طریقے سے سمجھ نہیں پات،ے کیونکہ تنظیمی امور کو سمجھنے کے لئے زبان کا آنا لازمی ہے۔ چنانچہ ان مدعوں پے مد نظر رکھتے ہوئے آرگنائیزیشن کی آفیشل زبان اردو رکھی گئی۔ 

اغراض و مقاصد:

یقینا کوئی بھی تنظیم اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک اس کے راستے کاتعین نہیں کیا جاتا۔

دیامر یوتھ آرگنائیزیشن کی بنیاد مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول کیے لئے رکھی گئی ہے:

1-تعلیمی,سیاسی,سماجی اور ثقافتی شعور دینا:

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں ان چار چیزوں کا بہت ہی اہم مقام ہوا کرتا ہے لہذا وقت کی نوعیت کو دیکھ کے دیامر یوتھ آرگنائیزیشن نے اپنے یوتھ کے اندر ان چیزوں سے شعور بیداری پیدا کرنے کی سوچ لے کے میدان عمل میں نکل پڑے ہیں ۔ہمارا مقصد ہے کہ حقیقی معنوں میں یوتھ میں سیاسی اور سماج میں اپنا مقام برقرار کھنے کی کردار سازی کی جائے گئ۔ اور ساتھ ہی اصولی طور پے اپنی ثقافت سے بھی لوگوں کو پزیرائی حاصل کر وا سکے ۔

2- علاقائی ,لسانی اور فرقہ واریت کے طبقاتی نظم کا خاتمہ :

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مختلف طبقاتی نظام میں منقسم ہے جس کی نہ دین اسلام میں گنجائش ہے تو نہ کسی دنیاوی معاشرے میں اس کی آجازت ۔ دیامر یوتھ آرگنائیزیش بھی اس نظام کے خاتمہ کے لئے پر سر میدان میں ہے۔ اور اس کی خاتمہ کے لئے عملی جدوجہد کر رہی ہے۔

3-اتحاد وآتفاق, علاقائی مسائل اور ان کے حل۔

یہ ضروری ہے کہ جب تک ہمیں اپنے مسائل سے آشنائی نہ ہو اس وقت تک ہم اس کے لئے بہترین تدابیر نہی کرسکتے لہذا راستہ معین کرنا بہت ضروری ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ آج تک جس قوم نے بھی اپنے مسائل کے لئے مشترکہ جدوجہد کی تو لازمآ کامیابی سے وہ ہمکنار ہوئے ہیں۔دیامر یوتھ بھی اس مقصد کی سوچ لے کے آگے بڑھ رہی ہے۔

4- تمام علاقائی تنظیموں کے ساتھ ملکر مشترکہ جدوجہد:

علاقے کے مفاد میں جو بھی تنظیم نکلے گئی ضرورآ دیامر یوتھ آرگنائیزیشن کے نوجوان بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

آئے ملک و ملت کی طرقی کے لئے ان نوجوانوں کے دستہ بازوں بنے ۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر رہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments