بے قصور کون ؟؟

تحریر: سیدنذیرحسین شاہ نذیر

3مارچ 2018کے سینیٹ الیکشن کے بعدچیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے صوبائی اسمبلی کے 20ممبروں پرالزمات عائد کرتے ہوئے18اپریل 2018کواسلام آبادمیں پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ سینیٹ ملک کا اہم ترین ادارہ ہے اور ملک میں 30، 40 سال سے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بک رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے جو کہا اس پر افسوس ہوا، کیا انہیں نہیں پتہ تھا کہ 30 سال سے سینیٹ الیکشن میں ووٹ خریدا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہمارے 60 اراکین ہیں اور پارٹی تحقیقات کے مطابق ہمارے 20 اراکین نے اپنے ووٹ بیچے اور وہ وہ لوگ سینیٹ الیکشن میں کامیاب ہوئے جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز کو 4، 4 کروڑ روپے کی پیش کش ہوئی اور جن لوگوں نے ووٹ بیچے انہیں شوکاز نوٹسز جاری کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان اراکین نے شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا تو انہیں نا صرف پارٹی سے نکالا جائے گا بلکہ نیب کو بھی ان کے نام بھجوائیں گے۔خان صاحب کاپریس کانفرنس تمام ٹی وی چینلزاورپریڈاخبارات میں شائع ہونے کے بعد ممبران اپنے اپنے صفائی پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اورخان صاحب سے گلہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بات سنے بغیر الزامات لگائے عدالت بھی پہلے سنتے ہیں اوربعدمیں فیصلہ کرتے ہیں ۔

19اپریل 2018کوچترال سے رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوافوزیہ بی بی نے پشاور میں اپنے خلاف سینیٹ الیکشن میں یسے لینے کے الزمات کے خلاف قرآن پاک پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھاکر کہا کہ 3مارچ کے سینیٹ الیکشن کے بعد ایک لابی میرے خلاف سازشوں میں مصروف تھی۔اور مجھ پر سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیجنے کے الزامات عائد کئے گئے اس کے ساتھ ہی بعض سوشل میڈیا سائڈز نے بھی میری کردار کشی کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ جن کے خلاف میں 3اپریل کولیگل نوٹس بھیجی ہوں اور ایک درخواست الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کیا کہ وہ میرے ووٹ کی تصدیق کرکے میری بے گناہی ثابت کردیں۔انہوں نے کہا کہ جب میرے اوپر الزام لگی تو میں نے اپنے لیڈرشپ کو صفائی پیش کی تو مجھے یقین دہانی کی گئی کہ پارٹی کی جانب سے کسی پر بھی ووٹ بیجنے کا الزام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی توسط سے مجھے علم ہوا کہ میرانام بھی ووٹ بیجنے والے اراکین میں شامل ہے۔ ایم پی اے فوزیہ بی بی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنے گروپ کے بعض وزراء اور ممبران کو بچانے کے لئے مجھے پھنسا رہے ہیں۔ اس گمراہ کن الزام کے بعد میرا سیاسی کیرئیر اور میرے خاندان کی عزت دونوں داو پہ لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوب افریدی کے پینل میں تھی اس پینل میں ہم چودہ اراکین تھے جبکہ ایوب افریدی کو 10 ووٹ ملے جبکہ پارٹی کی جانب سے دس آٹھ اراکین پر ووٹ بیجنے کا الزام ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔ فوزیہ بی بی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ووٹ بیجنے والے اپنے لابی کے اراکین کو بچانے کے لئے عمران خان کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کے خلاف میں کورٹ سے رجوع کرنے جارہی ہوں۔

رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا وجیہ الزمان خان نے عمران خان کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے بات سنے بغیر الزامات لگائے اور 20 ارکان صوبائی اسمبلی کو شو کاز نوٹس د ئیے، 20 افراد کی عزت اچھال کر پھر نوٹس کا کیا فائدہ، شوکاز نوٹس کا جواب سپریم کورٹ میں دوں گا، چیف جسٹس آف پاکستان الزامات کی خود تحقیقات کرائیں۔زیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وزراء اپنے ایم پی ایز کو بچانا چاہتے ہیں، مجھ پر الزام لگانے سے پہلے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس دینا چاہیے تھا۔ وزیر اعلیٰ کو پتہ ہے کہ مکروہ دھندے میں کون کون شریک ہے، عمران خان سے اپیل ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کیس کو جلد نیب بھجوائیں۔

رکن خیبر پی کے اسمبلی معراج ہمایوں خان نے عمران خان کی جانب سے سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی فروخت کے الزام پر وضاحت دی ہے کہ سینیٹ الیکشن کے وقت وہ قومی وطن پارٹی کا حصہ تھی پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معراج ہمایوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے کس بنیاد پر میرا نام اپنے پینل میں ڈالاہے۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھ سکتا تھا تو وہ قومی وطن پارٹی تھی۔عمران خان کے الزام پر میری، میرے خاندان اور ورکرز کی دل آزاری ہوئی۔

ایم پی اے فیصل زمان نے ہری پور پریس کلب میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ووٹ نہیں بیچا ہے۔ پارٹی پالیسی کے مطابق ایوب آفریدی کو ووٹ دیا ہے مگر ایک سازشی ٹولہ نے میرے خلاف سازش کی ہے جس کو جلد بے نقاب کروں گا۔ انصاف کے لیے ہر پلیٹ فارم پر جاوں گا۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے خانہ کعبہ میں جا کر حلف دینے کو تیار ہوں۔ شو کاز نوٹس کا جواب دوں گا۔

ایبٹ آباد سے رکن صوبائی اسمبلی سردار ادریس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سوشل میڈیا کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ پر ہم سے پوچھنے کے بجائے سوشل میڈیا میں ٹوئٹر اور فیس بک کی خبروں پر بھروسہ کیا۔ سردار ادریس کا کہنا تھا کہ ایسا پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث بھی ہوا ہے۔ سینیٹ انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے مجھ سے کہا تھا کہ سردار صاحب آپ کا ووٹ مل گیا ہے اور میں نے پارٹی سے کوئی بے وفائی نہیں کی لیکن پارٹی کے اندر موجود عناصر اور سوشل میڈیا پر آنے والی افواہوں کی وجہ سے ان کے خلاف ایسی کاروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شوکاز نوٹس کے جواب میں اپنی بھرپور وضاحت دیں گے۔

رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا نرگس علی کا ویڈیو پیغام ‘‘خان صاحب نے اچھا فیصلہ کیا ہے ، میں پارٹی کے ساتھ رہوں گی چاہے پارٹی میرے ساتھ کوئی بھی سلوک کرے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان مجھے سنے بغیرچارشیٹ تھمادی عدالت میں بھی پہلے سنتے ہیں بعدمیں فیصلہ کرتے ہیں ۔ہمیشہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ رہوں گی۔

رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا دینا نازنے کہاکہ بہت پہلے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیاتھا۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ان کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے مجھ سے پوچھے بغیرمیرے نام شوکازنوٹس جاری کرناغیرقانونی ہے۔

ممبرصوبائی اسمبلی خیبرپختونخوابابرسلیم نے کہاہے کہ 4فروری 2018 کوپاکستان تحریک انصاف کوخیرآبادکہہ کرپاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اخیتارکیاتھاعمران خان کوہم پرالزم لگانے کاکوئی حق نہیں ہے۔

مسلم لیگ ق کے رہنمااور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری جاوید نسیم نے پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ان کادامن صاف ہے جبکہ ان کا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں پشاور میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ساتھ تین سال قبل ہی تعلق ختم کردیاتھا۔پی ٹی آئی قیادت نے مجھے ڈی سیٹ کیاتھا مگر عدالت نے مجھے بحال کردیاتھا اس لیے عمران خان اور دیگر کو میرانام پی ٹی آئی کی فہرست میں ڈالنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیناچاہئے تھا انہوں نے کہاکہ سینٹ الیکشن میں پیسے لینے کاالزام غلط ہے اور اس سلسلہ میں عمران خان کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرونگا پی ٹی آئی سربراہ اپنے بکنے والے اراکین کی فکر کریں دوسری جماعتوں کے ایم پی ایز کو اپنی جماعت کی فہرست میں شامل کرنے کی بددیانتی نہ کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کے کئی دوسرے ارکان نے بھی، جن پر ووٹ بیچنے کا الزام لگا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے سامنے لائیں۔

21اپریل کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سینٹ 2018 ء کے الیکشن میں خیبر پی کے اسمبلی میں ہماری پانچ خواتین ایم پی اے سمیت ہمارے 20 ارکان صوبائی اسمبلی نے اپنے ووٹ بیچے جنہیں شوکاز جاری کر دئیے ہیں اگر ہمیں مطمئن نہ کر سکے تو انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا اور ان سب کے نام نیب کو بھجوا دئے جائیں گے باقی جن پارٹیوں کے ارکان نے ووٹ بیچے وہ بھی ان کے نام بتائیں ورنہ میں بتا دوں گا ہم نے اپنے ارکان کو ووٹ بیچنے پر ووٹنگ پیٹرن سے پکڑا ہے جس کیلئے ہماری پارٹی کی کمیٹی نے بڑی محنت کی عام انتخابات میں کوئی کسی سے پی ٹی آئی کا الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ نہ خریدے کیونکہ پچھلے الیکشن میں ایسا ہوا تھا اس بار میں خود مطمئن ہوں گا تو اسے ٹکٹ دوں گا اگر کسی سے کوئی ٹکٹ دلوانے کیلئے پیسے مانگے تو میں اس پر اطلاع کیلئے وٹس ایپ جاری کروں گا جس پر مجھے براہ راست بتائیں میں کارروائی کروں گا۔ ہمارے جن ارکان کے پی کے اسمبلی پر ووٹ بیچنے کا الزام لگایا گیا ہے ان میں نرگس علی ، دینا ناز ، نگینہ خان ،فوزیہ بی بی ،نسیم حیات ،سردار ادریس ، عبید مایار ، زاہد درانی ، عبدالحق ، قربان خان ، امجد آفریدی ، عارف یوسف ، جاوید نسیم ، یٰسین خلیل ، فیصل زمان ، سمیع علی زئی ، معراج ہمایوں ، خاتون بی بی ، بابر سلیم ، وجیہ الزمان شامل ہیں۔

عمران خان نے مزیدکہاہے کہ سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے والے 20 ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرتمام اراکین نے شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا تو انہیں نا صرف پارٹی سے نکالا جائے گا بلکہ نیب کو بھی ان کے نام بھجوائیں گے، تمام ارکان کو اپنی صفائی میں ایک موقع ضرور فراہم کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments