چین کے ماڈل سے داتا دربار کے ماڈل تک 

پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں بار بار چین اور ریاست مدینہ کے ماڈلوں کا ذکر سن کر دل اکثر باغ باغ ہوتا ہے۔ چین نے ساٹھ کروڑ لوگوں کو خطہ غربت سے اوپر اٹھا یا۔ ریاست مدینہ میں اقلیتوں کے تمام حقوق محفوظ تھے، کوئی شہری بھوکا نہیں سوتا تھا۔عوام کی کم علمی کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے،آپ کو کیا معلوم ریاست مدینہ کا ماڈل کیا ہوتاہے؟ جلد یونیورسٹیوں میں ہم آپ کو پڑھائیں گے۔ان ماڈلوں پر گہری تحقیق ہوا کرے گی۔ دل کرتا ہے پوچھا جائے کہ یونیورسٹیوں میں سیاسیات کے مضمون میں تو پہلے ہی کافی اچھے ماڈل پڑھائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے نصف پر بھی عمل ہو جائے تو کافی افاقہ ہوسکتا ہے۔ پھر سوچنا پڑتا ہے، ہوسکتا ہے کوئی خاص چیز ہے جو رہ گئی ہے جس سے مغرب کی یونیورسٹیاں بھی آ ج تک لا علم ہیں۔ خیر اقتدار تو ایسی بلا چیز ہے ہاتھ آتے ہی دانشوری خود بخو د در آتی ہے۔ہمارے ہاں اقتدار کے ایوانوں سے علم کے موتی بکھیرنے کا عمل کافی پرانا ہے۔ روشن خیالی والا منجھن جب بیچا جارہا تھا تو ابھی ہم جوان تھے اور خود کو انسانی تاریخ کی خوش قسمت نسل سمجھتے تھے۔اقتدار کے ایوانوں میں عملی شکل میں نظر آنے والی روشن خیالی دیکھ آنکھوں کو ٹھنڈک بھی ملتی تھی۔ جب گھر سے چند کلومیڑدور تک صفر کا کرایہ اور مہنے کے آخر میں حجام کی دکان کی یاترا کے لئے رقم کا اہتمام بھی بڑے جتن کے بعد ممکن ہوجائے، ایسے میں اقتدار کے ایوانوں سے میرے عزیز ہم وطنو! والا مخصوص روشن خیالی کا سبق ملتا رہے تو تمام تھکن دور ہوجایاکرتی تھی۔

بزرگوں کا کہنا ہے پچھلے ادوار میں اور بھی نایاب اسباق پڑھائے جاتے تھے۔ سبز انقلاب کے سبق سے اس وقت کے لوگ ایسے ہی مستفید ہوئے تھے جیسے آج ہم چین اور مدینہ کے ماڈل سے ہورہے ہیں۔ہم بدقسمت اُس زمانے میں پیدا نہیں ہوئے تھے ورنہ سبز انقلاب کا نظارہ اپنی ان گہنگا ر آنکھوں کرتے۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سبز انقلاب کے پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کے ساتھ مختصر وقفے کے بعد جو سبق آیا اس کے اثرات آج تک قائم و دائم ہیں۔ اس سبق کے بنیادی مقاصد میں فحاشی اور بے پردگی کا خاتمہ تھا جس کے لئے سر عام سزائیں بھی دی جاتی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ سے بازار حسن تک والی کتاب میں اس سبق کا نچوڈ بھی پیش کیا گیا تھا۔

آج ریا ست مدینہ اورچین کے ماڈلوں کا سن کر لگتا ہے عنقریب ملک سے غربت اور بھوک کا خاتمہ ہوگا۔ بارہا کوشش کی کہ چین اور ریاست مدینہ کے آپس کا کوئی تعلق ناطہ جوڑا جائے مگر ناکام رہا۔ لگتا ہے اگلی دفعہ پڑھائی اُس تعلق کو ثابت کرنے کے بارے میں ہو گی۔ اگلی نسلیں خوش قسمت ہونگی جو اس پڑھائی سے مستفید ہونگی۔ امید قوی ہے چین اور مدینہ کے درمیان کوئی نہ کوئی تعلق واسطہ ضرور نکلے گا ورنہ ان دونوں ماڈلوں کا نام ایک ساتھ تواتر سے کیوں لیا جارہا ہے؟ خیر یہ سب اس دانش اور عقل کا ثمر ہے جو صرف اور صرف اقتدار سنھبالنے کے بعد ودیعت ہوتی ہے۔خیال کیے جانے میں حرج نہیں ہے کہ ایسے نایاب نصابی نسخے شیخ رشید جیسی نابغہ روزگار شخصیات ہی بناتی ہونگی۔ جن کے طفیل ملک کا لاعلم طبقہ علم و دانش کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے۔

گذشتہ روز ادھر ہم چین کے ماڈل پر غور کے لئے کتابوں کی مدد لے رہے تھے۔ فیلیکس گرینی کی کتا ب دی وال ہیز ٹو سائیڈز کا مطالعہ جاری تھا۔چین میں انقلاب کے بعد کمیون کے ڈائننگ حال میں کھیتوں اور صنعتوں میں کام کرنے والوں کو کھاناکیسے دیا جاتا تھا۔ تمام لوگوں کا روزگار میں کیسے لگایا گیا تھا۔ ملک صنعت اور زرعت میں کیا اصلاحات لارہا تھا۔ جیلوں کو کیسے ریفارم سینٹرز بنانے کا اہتمام کیا جارہا تھا اور قیدیوں کی تربیت کا کیا نظام لاگوکیا جارہا تھا۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت کیسے بہتر کی جارہی تھی۔ لوگوں کو ہنر کیسے دیا جارہا تھا۔ سڑکوں کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے اور ہوائی اڈوں کے نظام کو کیسے درست کیا جارہا تھا۔ لوگوں کے معیار زندگی میں کیا فوری اور مثبت تبدیلیاں آرہی تھیں۔ چین سے متعلق یہ تمام باتیں پڑھ کر چینی ماڈل کافی دلفریب لگ رہا تھا۔ ایسے میں ایک دم نظر ٹی وی سکرین پر پڑی جس میں ماڈل لنگر خانہ کی افتتاہی تقریب جارہی تھی۔وقت کے حکمران کی طرف سے علم کے موتی بدستور بکھیرے جارہے تھے۔ غریبوں کو کیمروں سے نظریں چراتے ہوئے کھانا کھاتے دیکھایا جارہا تھا۔ کیا روح پرور مناظر تھے، غریب پروری کے ان مناظر کو دیکھ کر رونے کو دل کررہاتھا۔ جیسے تیسے وہ دن گزر گیا اگلے دن اخبارات نے تو کما ل ہی کردیا۔ ایک بڑے اخبار کی ٹائٹل تصویر میں ملک کے وزیر اعظم اپنے دست مبارک سے ایک غریب کے ہاتھ میں لنگر کا کھانا تھاما رہے تھے۔ منہ سے بے ساختہ زندہ باد کا نعرہ مستانہ بلند ہوا۔ ہنسنے اور رونے کی درمیانی کیفیت طاری ہوگی۔ پوچھنے کو دل کر رہا تھا کہ جناب یہ چین کا ماڈل ہے یا داتا دربار کا ماڈل ہے؟ مگر کس سے پوچھا جاتا؟ آسان حل یہ تھا کہ کتاب اور اخبار بند کر کے ریموٹ کا بٹن دباد یا جائے۔ جوں ہی ریموٹ کا بٹن دبایا سکرین پر ڈرامہ بلبلے چل رہا تھا جس میں مومو، محمود صاحب سے کسی بات پر ناراض ہوکر رو رہی تھیں۔مومو کی بہترین اداکاری دیکھ کر ہنس ہنس کر آنسوں نکلنے لگے اور کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہوا۔ //

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments