سی پیک کے خلاف بھارتی میڈیا کاجھوٹا پروپگنڈہ

ڈاکٹر اعزاز احسن

کہتے ہیں چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے ،بھارت کی بھی وہی مثال ہے ،بھارت جمہوریت اور سکو لیزم کے ہزار لبادے پہنے اس کی حقیقت چھپ نہیں سکتی ،بھارت کی حقیقت ہے ہے کہ سکولیزم کے لبادے میں ہندو انتہا پسندوں کی ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جس میں دنیا کے خطرناک دہشت گرد پنپ رہے ہیں ان دہشت گردوں کا محاسبہ اور ہندو انتہا پسندی کو نکیل نہیں ڈالی گئی تو دنیا کا امن تہہ و بالا ہوگا ،بھارت کے اندر تو بتیس سے زیادہ علیحدیگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ،انتہا پسندی کا یہ عالم ہے کہ اقلیتوں کے لئے زندگی کے راستے مسدود ہوتے جا رہے ہیں ،ابھی حال ہی میں جموں کی ننھی آصفہ کے ساتھ ہندو انتہا پسندوں نے اجتماعی زیادتی کی اس آصفہ کا کیس لڑنے والی وکیل کو ہندو انتہا پسندوں نے قتل کی دھمکیاں دی ہیں الغرض بھارت ہندو انتہا پسندوں کے لئے جنت اور دیگر اقلیتوں کے لئے جہنم بن چکا ہے ،ستم یہ کہ بھارت کے حکمران اور میڈیا کو بھارت کے مسائل سے زیادہ پاکستان اور چین کے خلاف سازشوں میں آرام محسوس ہوتا ہے. آئے دن بھارت کا میڈیا کسی نہ کسی بہانے پاک چین تعلقات میں دراڑ ڈالنے کیلئے ایسا جھوٹا پروپگنڈہ کرتا ہے کہ اللہ کی پناہ ،بھارتی میڈیا پاکستان اور چین کے اندرونی معاملات پر چیخنے کے بجائے بھارت کے ان کروڑوں باشندوں کی بات کرتا جو نام نہاد ،شائنگ انڈیا ،میں آج بھی چھت اور ایک وقت کی روٹی سے محروم ہیں لیکن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے کے مصداق دوسروں کے اندرونی معاملات میں جھوٹ بولنے پر شاید عافیت محسوس کرتا ہوگا ،ایک ایسا ہی جھوٹ ایشیا ٹائم میں بولا گیا کہ چین کے یوغر باشندے جن کی کثیر تعداد گلگت بلتستان میں بستی ہے سی پیک کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں ایشیا ٹائم کے صحافی دلیل دیتے ہیں کہ پاکستانی باشندوں نے چین میں رہنے والے یوغر باشندوں سے شادیاں کیں تھیں اب ان کی بیویاں چین میں ہیں اور شوہر پاکستان میں چین ان بیویوں سے شوہروں کو ملاقات کرنے نہیں دیتا ۔حقیقت سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ،پاکستان کے اپنے قوانین ہیں اور چین کے اپنے قوانین ،دونوں ممالک اپنے اپنے قوانین کے مطابق معاملات کا حل نکالتے ہیں اس حوالے سے بھی قانونی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں ،باقی رہی بات کہ یوغر باشندوں کے حوالے سے بھارت کا میڈیا سفید جھوٹ بول رہا ہے ،گلگت اور ملک کے دیگر شہروں میں بسنے والے یوغر باشندے پر امن ،کاروباری اور انتہائی صلح جو شہری ہیں یہی وجہ ہے کہ اور سیز چانئیز کے نام سے ان یوغر باشندوں کی ایک تنظیم بھی ہے جس کے تحت بہت سارے رفاعی کام کروائے جا رہے ہیں چین کی حکومت بھی ان کی ہر حوالے سے مدد کرتی ہے ،یوغر باشندے ہی ہیں جن کے کردار کی وجہ سے پاک چین دوستی کی بنیادیں مظبوط ہو رہی ہیں ،گلگت اور ملک کے دیگر شہروں میں بسنے والے یوغر باشندے چین اور پاکستان کے درمیان جہاں تجارت کے لئے مدد گار ثابت ہو رہے ہیں وہاں دونوں ممالک کے مابین ثقافتی رابطوں کو بھی بڑھانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ،جہاں تک سی پیک کی کامیابی کی بات ہے تو اس کی کامیابی کیلئے چین کے یوغر باشندے اور پاکستان کے یوغر ایک پیج پر ہیں دونوں طرف کے باشندے سی پیک کے محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں دوسری طرف چین کے اربوں باشندے اور پاکستان کے کروڑوں باشندے پاک چین اقتصادی راہداری کو نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی کا سفر بلکہ دنیا کی معاشی ترقی تصور کرتے ہیں اس کی بنیادیں مظبوط کر رہے ہیں بلکہ سی پیک کی کامیابی اور حفاظت کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ،سی پیک ایک سڑک کا نام نہیں سی پیک سے پاکستان اور چین کی معاشی تقدیر وابستہ ہے ،بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کے جھوٹے پروپگنڈے کرنے سے سے پیک میں رخنہ ڈالے گا تو یہ اس کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر ہے ہی نہیں ،بہتر ہے کہ بھارت ان خوابوں کی دنیا سے نکل کر سازشیں کر کے اپنے وقت کے ضیاع کرنے کے بجائے بھارت کے مسائل پر توجہ دے ،بھارت کے میڈیا اور حکمرانوں کی انہی سازشوں سے بھارت کے کروڑوں عوام آج بھی چھت سے محروم ہیں اور ان کی کئی نسلیں سڑک کنارے گزرتی ہیں ،بھوک افلاس اور محرومی میں جھکڑے بھارت کے عوام بھارت کے حکمرانوں اور میڈیا سے سراپا سوال ہیں کہ کب تک اس طرح ہمسایوں کے معاملات میں جھانک کر سازشیں کرتے رہو گے ،ہماری بھوک اور افلاس کو ختم کرنے کیلئے کچھ کرو گے بھی یا نہیں ،یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بھارت کا میڈیا اور حکمران دینے کے بجائے اپنی عوام کو بے قوف بنانے کیلئے پاکستان کے خلاف منفی پروپگنڈے کر رہے ہیں ۔دنیا کو بھارت کی حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے اب جھوٹے پروپگنڈون کی چھتری تلے بھارت اپنا اصل اور بھیانک چہرہ چھپا نہیں سکتا ہے ،پاک چین دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے گہری ہے بھارت کے جھوٹے پروپگنڈے نہ تو پاک چین دوستی کی بنیادوں میں دراڑ ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی سی پیک میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں اس لئے بھارت کی بہتری اسی میں ہے کہ اپنے اندرونی مسائل اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر توجہ دے نہیں تو انتہا پسندی کا جن بھارت کو ہڑپ کر جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments