تاریخ یاسین، کرنل شمبرگ کی نظر میں

کرنل شمبرگ نے تاریخ یاسین کے بارے میں لکھتے ہوے صرف یاسین کے چند حکمرانون بلکہ دو خاندانو ں یعنی چترال کے کٹور اور یاسین کے خوش وخت (خوشوقتیہ)  کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو کہ انگریزوں کی نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہے اس نے انتہائی ناشائستہ اور غیر مہذیب الفاظ کا استعمال  خاص کے خوشوختے کے بارے میں لکھا ہے اُس نے ان کو غاصب، وحشی، سازشی، قاتل، جابر معلوم نہیں کیا کیا الفاظ استعمال کیا ہے دوسری جانب لکھتا ہے ان لوگوں نے جن علاقوں پر حکومت کیا ہے، وہاں آج بھی ان کے نام کا ایک وزن ہے اور لوگ ان کی عزت کرتے ہیں، یہ ویسے بھی انگریزوں کا وطیرہ رہا ہے جن لوگوں نے انگریزوں کی مخالفت کی ان کو انھوں نے ایسی القابات سے نوازا ہے لیکن کیا کیا جاسکتا ہے جو لکھا  سو اُس نے لکھا اور یہ ایک تاریخ بن گیا تو آئے دیکھتے ہیں کہ وہ  کیا کہتا ہے۔

شمبرگ نے اپنی کتاب“BETWEEN THE OXUS AND INDUS “  کے صفحہ نمبر 255   سے  265 تک یاسین کی تاریخ کے عنوان سے  یسن یا ،یاسین  کی تاریخ کے بارے میں یو رقم طراز ہے۔ کہ چترال کے شاہی خاندان کٹور ہے اور یاسین کا  خوش وقتیہ، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی جد امجد سے تعلق رکھتے ہیں،  ایک کٹور نے  کہا کہ ہندوکش کے ایک  کافر سے کہا  جس نے جلال آباد سے گلگت تل حکومت کیا۔ جب اس خاندان چترال میں عنان حکومت  سنبھالی تو اُس کی بنیاد رکھنے ولا محترم شاہ تھا جس کو چترال کے لوگوں نے کٹور نام دیا، “ کہا یہ جاتا ہے کہ شا ہ کٹور ایک بہت بہادر، نڈر، جنگجو افغانی ہو گذرا تھا  اور محترم شاہ بھی بہت دلیر اور بہادر جنگجو تھا،  اس نسبت سے اس کا نام شا کٹور رکھا گیا“  وللہ عالم بالصواب

کٹور خاندان نے چترال پر تقریباََ دو صدی تک حکومت کیا  جب کہ خوش وخت خاندان کی تغیر پزیر قسمت والوں نے یاسین اور ملحقہ علاقوں کو سنبھالا یا حکومت کیا۔ ان دو خاندانوں نے ایک دوسرے سے غیر معمولی تعلق یا رشتہ داری  دکھایا   اور جب کہ ہمیشہ ایک دوسرے کوقتل کرنے کے لئے تیار اور مکمل بے حسی سے لوٹ مار کر نے کا رجحان اور ایک مشترکہ دشمن کے سامنے متحد ہونا، لیکن نمایاں اور جنگ کی  صورت میں کامیابی کٹور یا چترال کے حصے میں آئی۔

 کٹور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ قانونی یا آئنی طور پر طور پریاسین اور اس کے ملحقہ یا ہمسایہ ریاستوں کے مالک ہیں، چونکہ وہ رئیس کے قانونی وارث  ہیں جنھوں نے برزل سے چقن سرائے تک جو کہ وادی کونر  افغانستان کی سرحد تک حکومت کرتے رہے ہیں، چترال کے آخری ریئس  فرمان روا  نے اپنی ایک شہزادی کی شادی خراسان کے ایک شہزادے  سے کیا جو اس کے دربار میں پناہ گزین تھا، اور ان کے پشت سے کٹور اور خوشوختے خاندان وجود میں آیا۔

بعدمیں  خوشوختے نے مستوج (جو کہ اب چترال  میں ہے)  کے ساتھ غذر،  کوہ،  یاسین اور اشکومن  جو کہ گلگت کے اطراف میں ہندوؤں کی حکومت کے حدود میں تھے پر حکومت قائم کی۔ مہتر چترال حکومت برطانیہ کی منصب داری میں 1878-79  ء  میں آگیا اور بعد ازاں اُس نے اپنے خوشوختے رشتہ داروں کو اُنکی ملکیت سے نکال دیا، اُ س کا کہنا ہے کہ وہ خوشوختے کا جاگیردار (فیوڈل لارڈ) تھا تو اُن کی ملکیت بھی اُسی کی ہے۔ وہ یہاں تک کہ پونیال، گلگت اور خاص کر ہنزہ اور نگر  پر بھی اپنا  د عویٰ کرتا ہے جبکہ وہ سنجیدگی سے نہیں سوچا جا سکتا ہے،

 بہر حال یہ دیکھا گیاہے کہ چترال اپنی داعویٰ  پر ہمیشہ جارحیت پسند رہا ہے، اس لئے کٹور خاندان دوسرے موجودہ قائم مقا م سرداروں  میں غیر معروف ہیں یعنی نا پسندیدہ ہیں۔ اس لئے چترال کی رویے کی وجہ سے یاسین، غذر، اور  اشکومن کے حکمرانوں  یا گورنروں کو حکومت خود اپنی مرضی  سے زندگی بھر کے لئے مقرر اکرتی ہے، جو کہ ضروری نہیں کہ خو شوخت خاندان کے ہوں، اس لئے اشکومن کا راجہ میر بائض خان  (میر باز خان)  جو کہ پونیال کے بروش خاندان سے ہے اور غذر کا راجہ  مراد خان مرحوم کا تعلق استور کے سرداروں سے تھا۔ اس غیر خوشوقت تقرری کو چترال میں برا مناتے ہیں  جو کہ  ان کی دشمن کی نظر میں ان کی خاندان کی مثال ہے، جبکہ اس بات کے پس پردہ مہتر چترال ان تینوں ریاستوں کو اپنی عملداری میں شامل کر نے کی خواہش رکھتا ہے۔

 یہ بات توجہ طلب ہے کہ باوجود کہ خوشوختوں کی خراب ریکارڈ کے کہ انھوں نے جس طرح جارحانہ یا ناپسندیدہ طریقے سے جن علاقوں پر حکومت کیا ہے وہاں اب بھی ان کانام ایک وزن رکھتا ہے اور لوگ ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ چترال کے حکمرانوں نے کہا تھا جب 1880 ء  میں خوشوختے سرداوں نے گلگت پر حملہ کیا  جب کہ اس وقت یہ  علاقہ  انگریزوں کی زیر نگرانی کشمیر کے ساتھ تھا تو اس وقت کٹور خاندان نے پہلوان بہادر کو نکال باہر کر کے ان تینون ریاستوں کو بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن واپس تاریخ یاسن کی طرف آتے ہوے کہ شا خوشوخت کے بڑے بیٹے کا نام شافرامراز تھا جس نے یاسین  اور دوسرے ریاستوں پر قبضہ حاصل کیا لیکن اس کے خاندان والے مر گئے اور ان کا سب سے چھوٹا بیٹا شا عالم  جو کہ خوش وختے اور بروشے  دونوں اس کے نسل سے ہیں، اس کا بیٹا شا بادشاہ کے چھ بیٹے تھے، ملک امان  یاسین کا حکمران بن گیا جبکہ سلیمان شاہ کو مستوج کا حکمران مقرر کیا گیا۔ سلیمان شاہ کے بعد گوہر امان نے اس پورے علاقے پر حکومت کی۔

یہاں شمبرگ ایک بار پھر اپنی اصلیت دکھانے میں پیچھے نہیں رہا اور اس نے خوشوخت خاندان اور بالخصوص گوہر امان کو لعن تعن سے کام لیا ہے اور اس خاندان اور گوہر امان کو بہت سفاک دکھانے کی کوشش کی ہے چونکہ گوہر امان و ہ واحد شخص ہے جس نے اپنے جیتے جی انگریزوں اور ڈوگروں کا جینا حرام کیا تھا  بل کہ گلگت سے نکال کر بونجی پار کیا تھا اس لئے شمبرگ نے ایک بار پھر اپنی دشمنی کا مکمل اظہار کیا ہے،

شمبرگ لکھتا ہے کہ خوشوخت خاندان نے ہندو کش یا قرقرم میں کسی دوسری نسل کو لالچ،ظلم وبربریت، ساز باز یا بے سکونی میں آگے نہیںجانے دیا چنانچہ ان کی طاقت کا غلط استعمال اور مکمل بد دیانتی کی ایک شر انگیز شہرت تھی،

کرنل شمبر گ گوہر امان دشمنی کو نہیں بھولا کیوں کہ گوہر آمان کے جیتے جی نہ ڈوگر اور نہ ہی گورا گلگت پر قابض ہو سکا تھا اور پھر کچھ  مقامی لوگوں نے بھی جو ہمیشہ گوہر آمان سے خائف رہتے تھے کا بھی اس میں بڑا ہاتھ ہے اور مقامی لوگوں نے ہی ان گوروں یعنی غیر ملکیوں کو گوہر آمان بارے میں بڑھا چڑھا کر  سفاک اور قاتل اور ظالم سنگدل کے طور پر پیش کیا تھا اور کچھ ان کی اپنی بغض اور عناد تھی جس کی وجہ سے شمبر گ رقم طراز ہے کہ اس قبیلے کے تمام بے انصافوں میں گوہر آمان سے زیادہ کوئی بھی قابل نفرت نہیں تھا، جو کہ ایک بدمعاش قاتل نسل کا چشم وچراغ تھا۔ اب بھی اگر چہ اس کے بُرے کارتوت لوگوں کو یاد ہیں اور اس سے نفرت کیا جاتا ہے اور گلگت ایجنسی کے دوسرے  وحشیوں کے سینوں میں اب بھی  اس شدید وحشی ظلم کو ایک دل خو ش کُن خلط ملط کر کے پیش کیا جاتاہے۔

وہ  1809  ء  میں یاسین کے راجہ ملک امان کے ہاں پیداء ہوا،  اس نے مہتر چترال کے پھوپھی اور ہمشیرہ سے  1825 ء میں شادی کیا اور  پنیال کے آذاد خان کی دختر کے ساتھ تیسری شادی کی، آذاد خان 1827  ء میں گلگت کاحکمران تھا اور بعد میں گوہر امان کے چچا سلیمان شاہ کو قتل کیا اور خود بھی نکالا گیا اور 1833 ء میں قتل ہوا۔ 1829  ء میں گوہر امان نے سلیمان شاہ کے خلاف مارچ کیا  وہ اسوقت یاسین کے قلعہ میں تھا وہ حیران ہوا  اور گرفتار ہوا  اس کا دوسرا کارنامہ پونیال پر قبضہ تھا لیکن اپنے بھائی ملک امان کے ہاتھوں شکست کھایا جو مستوج کا حکمران تھا اور وخان کی طرف بھاگ گیا، وخان سے وہ تانگیر کی طرف  بھاگ گیا جو بھگوڑوں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تھا  اور اپنے بہت سے حمائیتیوں کے ساتھ محض ایک پناہ گذین تھا اُس نے اس ملک کو زیر کیا جو عرصہ دراز سے کم و بیش یاسین کی ملکیت تصور کی جاتی تھی،میر امان نے  1839 ء  تک یاسین پر حکومت کیا جب گوہر امان واپس آگیا  یاسین کو فتح  کیا اور پنے بھائی کو نکال باہر کیا لیکن خود بھی نکالا گیا

1840  ء  اور 1841 ء  میں گوہر امان نے  لگاتار  اٹھارہ مہینوں میں اپنے حدود کو چترال کے بارڈر سے وادی انڈس تک پھیلایا، اگر چہ جب کریم خان نے ایک سیکھ جنرل  لیکن گجرانوالہ کے ایک سید کے ساتھ حملہ کیا تو گوہر امان نے ان کو شکست دیا لیکن بعد میں سیکھوں نے گلگت پر قبضہ کیا  گوہر امان نے اس کو ایک اچھا پالیسی تصور کیا  اور اپنی فتح کے بعد واپس شیر قلعہ آیا۔وہ اس بارے میں ہوشیار  یا  ہو ش مند تھا، وہ جانتا تھا کہ  گلگت کا کام فی لحال اس کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے، سیکھوں کے ساتھ وقتی طور پر  جھگڑے کو نمٹائے بغیر  سکھوں کو دہشتنا ک طریقے سے مارے بغیر اس جگہ کو  قبضہ کرنا ایک مشکل کام ہوگا، کریم خان کو ایک مرتبہ پھر گلگت کا راجہ مقرر کیا گیا لیکن وہ او ر  نتھو شا  1848 ء  میں ہنزہ پر حملے کے دوران مارے گئے۔

جب امان الملک  1847ء  میں  چترال کاحکمران تھا تو اُس نے اپنے بہنوی گوہر امان سے اتحاد کیا  اور 1848  ء  میں ان دونوں نے گلگت پر حملہ کیا اور گلگت کو دوبارہ حاصل کیا، لیکن کشمیر کے ساتھ وقتی طور پر ایک معاہدہ یا وقتی طور پر جھگڑا نمٹایا گیا۔ 1853-4 ء  میںگوہر امان نے دوبارہ گلگت پر چڑھائی کیا  اور 1858 ء  میں اپنی موت تک  (جو کہ غلط ہے گوہر امان 1860 ء میں فوت ہوے ہیں)  گلگت پر قابض رہے۔ جب یہ وقوع پذیر ہو ا تو وہ شندور سے دریائے سندھ کے دہانے بونجی تک تمام علاقے کا حکمران تھا

 گوہر امان نے اپنی زندگی کے آخری سال میں ہنزہ پر حملہ کیا  اور چھلت اور چھپروٹ پر  قبضہ کیا اور واپس گلگت آتے ہوے جب وہ دیور یا دنیور کے مشہور  مزار کے نزدیک  سے گذرا جو کہ گلگت کے راستے میں دریائے  ہنزہ کے بائیں جانب واقع ہے۔ لیکن دوسر ی جانب سے گلگت جانے والی راستہ سے نظر آتی ہے، اُس مزار نے بھی طیش میں آنے والے حکمران کو طیش دلایا وہ غصے میں آیا، طیش  میں آیا جب  اُس نے اس مزار کو دیکھا اور اور اُس نے اس مزار کو گرانے یا تباہ کرنے کا حکم جاری کیا اور جب وہ گلگت پہنچا تو وہ بیمار پڑ گیا وہ پانی بھی نہیں پی سکتا تھا، اس نے جلدی سے کسی کوبھیجا کہ اس مزار کو نہ گریا جائے لیکن تب تک وہ آدھا مسمار ہو چکا تھا، لیکن راجہ ٹھیک نہ ہو سکا، یہ اس کا دستور تھا کہ جب وہ بیمار  ہوتا  تھا  یا درد میں مبتلا ہوتا تھا تو وہ انسانوں کی قربانی دیتا تھا، اس کو  اُن بارہ  قیدیوں کی یاد آئی جو وہ چھلت سے لایا  تھا،  اُس نے درایائے گلگت کے دھانے قلعے کے نیچے اپنا بستر لگویا تھا جہاں سے اُسے وہ بارہ قیدی نظر آتے تھے ان سب کو قتل کیا گیا۔ اس کی صحت بہر حال بہتر نہیں ہوئی، اسے ایک ڈولی میں یاسین کی طرف لے جایا گیا لیکن دو دن بعد وہ گاہکوچ کے مقام پر وفات پا گئے اور اسے یاسین میں دفنایا گیا۔

”گو جو بات گوہر امان کی موت کے بارے میں اور لوگوں کو مارنے کے بارے میں کرنل شمبر گ نے لکھا ہے، ان روایات کو مقامی لوگوں سے بھی سنا  گیا ہے۔ لیکن خدا بہتر جانتا ہے کہ کہاں تک یہ بات درست ہے یا یہ کہ اس کے دشمنوں کی طرف سے اس کے خلاف  اُس کو سفاک اور درندہ صفت ظاہر کر نے کے لئے گڑھا گیا ہے، چونکہ تاریخ میں جو کچھ کہا گیا ہے زیا دہ تر گوہر امان کے مخالفوں نے لکھا ہے اور لکھوایا گیا ہے  اور آ ج بھی ایسے لوگ ہیں جو گوہر امان کے خلاف لکھنے اور غصہ نکالنے میں مصروف ہیں یہ بات انسانی عقل ماننے کو تیار نہیں کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان کو قتل کر کے خود سکون محسوس کرے، البتہ یہ بات درست ہے کہ گوہر امان نے غیر ملکی تسلط یعنی ڈوگروں اور کشمیریوں اور محاراجہ کشمیر کے خلاف برسر پیکار رہا ہے ، اس کی تیئس سالہ دور حکومت میں کشمیری ڈوگرہ  اور سکھ گلگت کے علا قوں پر مستقل حکومت نہ کر سکے اور ان کا جینا حرام ہو گیا تھا یہاں تک کہ بوب سنگھ ایک جنرل کو بھی گوہر امان کے فوج نے شکست فاش دیا  بلکہ نیست و نابود کردیا۔ ایک روایت میں ایک بوڑھی عورت جان بچاکر ایک گائے کی مدد سے دریائے سند ھ کو بونجی کے مقام پر عبور کر کے مہاراجہ کو یہ خبر دی کہ غازی گوہر امان نے قہر الٰہی بن کر جنرل بھوب سنگ اور اس کی تمام فوج کو تباہ کیا، دوسری روایت میں دو سپاہی جان بچاکر بھاگنے میں کامیاب ہوے اور یہ دردناک خبر مہارجہ کو پہنچایا۔ لیکن گوہر امان کے مرنے کے بعد بہت سی باتیں ان کے خلاف لکھے گئے اور ان غیر ملکیوںنے صرف وہ باتیں لکھی جو مقامی لوگوں جو خاص کر گوہر امان کے مخالفوں سے سنی۔  میں ذاتی طور پر کسی ظلم و ستم کی حامی نہیں لیکن گوہر امانکی اس کار نامے پر کہ اس نے کشمیری ڈوگروں، سکھوں اور ان کے مدد گار انگریزوں کو گلگت کی سرزمین پر قدم جمانے نہیں دیا، گوہر امان کو ہیرو سمجھتا ہوں اور غازی گور امان کہتا ہوں۔ کرنل شمبر گ نے اپنے فرنگی پن کا مکمل مظاہرہ کرتے ہوے گوہر امان کے خلاف ذہر اگلنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے اور گوہر امان کو شیعہ دشمن قرار دینے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی، اور ایک سفاک قاتل لکھا ہے، یہ انگریزوں کا وطیرہ تھا کہ لڑو، اور لڑاؤ اور حکومت کرو،

وہ مزید لکھتا ہے  کہ گوہر امان روزانہ کسی نہ کسی کو قتل کئے بغیر کبھی بھی خوش نہیں ہو تا تھا، وہ سنی تھا اور کہا کرتا تھا کہ جب کبھی وہ تھکتا ہے یا مایوس ہو تا ہے تو اس کو کوئی دوسری چیز ایسی خوشی نہیں دے سکتی جتنا کہ وہ کسی شیعہ کو مار کر حاصل کر سکتا ہے، اگر وہ دو بندوں کو  باتیں کرتے دیکھتا  تھا تو وہ ان کو بلاتا تھا اور ان میں سے کم از کم ایک کو جان سے مارتا تھا،

یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا گوہر امان کے زمانے میں گلگت میں ایک بھی شیعہ نہیں تھا اور اگر تھا تو کیا  تیئس سالہ حکومت میں روزانہ ایک  ایک بندہ قتل کر کے ان کی بیخ کنی کیا۔ اگر ایس ہو تا تو آج ایک بھی شیعہ گلگت میں نہیں بچتا یہ سب گوہر امان کے دشمنون کی اُڑائی ہو ئی باتیں ہیں۔ اسی طرح کیا گوہر امان  کے دور میں شندور سے بونجی تک لوگ آپس میں باتیں نہیں کر تے تھے، جب کہ شمبر گ  کے مطابق دو بندوں کو باتیں کرتے ہوے دیکھتا تھا تو گوہر امان اُن میں سے کم از کم ایک کو قتل کرتا تھا یا قتل کراتا تھا، یہ سب انسانی عقل سے بالا تر باتیں ہیں عقل ایسی چیزوں کو نہیں مانتی کہ ایک انسان وہ بھی ایک پکا مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کو قتل کر کے سکون محسوس کرے“

شمبر آگے لکھتا ہے کہ گوہر امان نے ایک دفعہ ایک بچے کو ہوا میں اُچھال کر اپنی تلوار سے اس کے دو ٹکرے کیا اور یہ بات “ڈریو  کی حوالے سے لکھتا ہے (ڈریو صفحہ 437)“   میر ے خیال میں یہ ایک من گڑت بات ہے، “وہ بڈلف کی کتاب)صفحہ نمبر 138)“ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ گوہرامان نے بدخشان کے ایک سید کو  ایک سو آدمی بطور غلام فروخت کیا ، حقیقت میں ان خوش وقتوں کو مرد، عورت اوبچے فروخت کر نے کا جنون تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے رشتہ داروں کو بھی نہیں بخشا، وہ لکھتا ہے کہ پونیال کے موجودہ گشپوروں میں سے بہت ساروں کے باپ کو کو بطور غلام فروخت کیا گیا تھا، اور جن کو وہ فروخت نہیں کرتا تھا ان کے ٹکڑے کرتا تھا، یعنی ان کو قتل کرتا تھا۔ پہلے والوں میں سے جعفرعلی خان اور اس کا بیٹا مراد خان تھا جو 1932  ء  تک کوہ  غذر کے حکمران تھے اب گلگت کے نزدیک بارگو میں قیام پزیر ہیں۔ ان دو کو گوہر امان نے بطور تحفہ چترال بھیجا تھا جہاں  و ہ نوجوان ایک ڈانسر  یا  رقاص بن گیا  یعنی ڈانس یا رقص کیا کرتا تھا۔ بعد میں جب قسمت  کی یاوری ہوئی تو ایک موقع پر پولٹیکل ایجنٹ اور مراد خان دونوں شندور میں چترال کے کچھ  معتبرین سے ملے تو مرد خان ان چترالیوں کی وفد کی آمد پر استقبال کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔ بعد ازاں جب سب ایک رقص کی محفل کو دیکھ رہے تھے  تو مراد خان نے جب کہا کہ یہ اچھا ڈانس تھا تو چترالی مہتر جو دستگیر نے کہا کہ ہاں آپ ہی رقص کے ایک اچھے جج ہو سکتے ہیں۔ شمبر گے نے صرف یہ ایک بات تسلیم کیا ہے اور لکھتا ہے کہ جہاں تک فاتح ہو نے کی بات ہے تو گوہر امان بھی سلیمان شاہ کی طرح یا اذاد خان  برش کی  طرح ایک بڑا آدمی تھااب تک ہمیشہ کے لئے اُس کا نام ہے۔

 اس کے بعد اُس کا بیٹا ملک امان اس کا جانشین ہوا جو غذر سے گلگت تک کا حکمران تھا ۔ دربار کشمیر ہمیشہ اس داؤ میں رہتا تھا کہ وہ انڈس سے پار کا علاقہ دوبارہ حاصل کر سکے اور 1860 ء  میں جنرل دیوی سنگھ نرائنا  کی قیادت میں کشمیر ی فوج نے گلگت کو فتح کرنے کے بعد یاسین پر حملہ آور ہو ا  اور مڈوری کا قلعہ یا قلعہ یاسین پر قبضہ کیا اور یاسین کو تاراج کیا ملک امان جان بچا کر بھاگ گیا تھا لیکن بعد میں دوبارہ  اسکو  غذر، کوہ، یسن(یاسین) اور اشکومن (اشھقمن)جو کہ خوشوختیہ کے علاقے تھے کا حکمران بنایا گیا،

کشمیر کے حکمران بوجوہ گوہر امان سے اور اس کے جانشینوں سے نفرت کیا کرتے تھے وہ یہ جانتے تھے کہ ملک امان ان کا دوست نہیں ہوسکتا اس لئے جنرل ہوشیارہ سنگھ کی  1863 ء  میں گلگت آمد پر انھوں نے ایک مہم یسن (یاسین) کے مہتر کے خلاف بھیجا جس نے اپنے تمام لوگوں سمیت ڈٹ کر بہادری سے مڈوری کوٹ میں مقابلہ کیا جو شہر سے آگے ہے، یسن (یاسین) والوں کو شکست ہوئی بے شمار جانی نقصان ہوا اور اتنے مرعوب ہو گئے کہ کئی سال تک کشمیر کو تحفے تحائف دیتے رہے۔ ملک امان تانگیر چلا گیا وہی مہمان نواز پناہ گا  اور اُس کے بھائی میر ولی نے ایک  لشکر جمع کیا  اس کو تسلی دی کہ میں غذر نہیں جارہا ہوں اور یاسین پہنچ کر اپنے بھائی کی جاگیر کا مالک بن گیا پونیال کے ساتھ ایک معاہدہ  وقتی طور پر کیا کشمیر کے ساتھ خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔   اگلے مرحلہ  میں پونیال  کے شجاع خان کی طرف سے مہتر امان الملک کو گلگت پر حملے کی تجویز تھی وہ  ان کی بیگمات کی طرف سے آپس میں رشتہ دار تھے، میر ولی نے بھی اس میں حصہ لینے کا وعدہ کیا لیکن ان سے غداری کی اور اُن کا راز فاش کیا اگر چہ خوش وختے  تھا اور ان کا ہم مذہب بھی تھا رشتہ، عہد و پیما  کا حامی، اس نے وہ خبر گلگت میں ایک کمانڈر تک پہنچایا ، اُن کا حملہ ناکام ہوا، گاہکوچ کو تباہ کیا گیا، مہتر اپنے ملک  واپس جاکر خوشوختے کی جاگیر کو حاصل کرنے کی سازشیں کرنے لگا۔  کشمیریوں نے حملہ  آوروں سے یوں انتقام لیا کہ جو بھاگ گئے تھے ایک مہم داریل کو بیھجا، ایک فضول، بے نتیجہ فوجی چال چلی اور یہ کشمیروں کا ایک  سرد مہرانہ رویہ تھا جو خوش وختے کی مزید لوٹ مار اور غارت گیری کی حو صلہ افزائی کرتاتھا ،

مہتر چترال نے میر ولی کا پیچھا کیا کہ وہ اپنے بھائی ملک امان کے ساتھ کچھ معاہدہ کرے جو اب تک تانگیر میں پناہ گزین تھا تاکہ وہ بھی پونیال کے عسٰے بہادر کے خلاف مدد کرے جو کہ پونیال میں ڈوگروں کا حمایتی تھا تاکہ پونیال کو خوش وختے ریاست میں شامل کیا جائے یہ مہم ایک مضحکہ خیز نا کامی تھی۔ پونیالی لشکر زیادہ تر ڈوگرہ تھے یاسین والے دل شکستہ ہو کر یاسین چلے گئے، میر ولی کی  بڑی نفرت کی وجہ سے ملک امان اپنے باری کا انتطار کر رہاتھا اور، ملک امان نے یاسین (یسن) کو گیرا اور اپنے بھائی سے ہتھیار ڈلوایا اور اُن کی جان بخشی کرکے  غذر روانہ کیا اور ایک دفعہ پھر سے اپنے پرانے تخت پر تخت نشین ہوا۔

فطرت کی ایسی واقعات ایک یورپی دماغ کے لئے ایک معما سا ہے کہ دو بھائی ایک دوسرے کو قتل کر نے کے لئے تیار  ہیں اور اکثر اوقات قتل کیا گیا ہے، اب بھی وہ سنگدلی سے طاقت  کے مقابلے میں یا حکومت کے لئے کسی کو بھی نکالتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو بچاتے ہیں، وہیہ جانتے ہیں کہ یہ پوزیشن کہیں نہیں جاتی بس ایک فوجی چال ہے حاصل کرنے کے لئے جو کہ قسمت نے میر ولی کو دیا۔  مقامی  لوگوں کے مطابق ملک امان ایک بے وقوف،آدمی ہے اس نے اپنے بھائی کو اس سے قبل قتل نہیں یہاں پر یہ قابل تحقیق ہے کہ یہ دونوں بھائی ایک ہی ماں کی اولاد ہے اگر ماں الگ ہو تو خونی رشتہ اس جرم کے آڑے نہیں آتا۔ میر ولی چترال گیا ایک لشکر تیار کیا اور یاسین کی طرف پیش قدمی کیا جونہی ملک امان نے یہ یہ خبر سنی وہ انتہائی پچھتاتے ہوے کہ اُس نے اپنے بھائی کی زندگی کو کیوں بچایا  اور اپنے پرانے پناہ گاہ تانگیر کی طرف چلا گیا، میر ولی ایک دفعہ پھر یاسین (یسن) کا حکمران بن گیا۔

کرنل شمبرگ مہتر چترال امان الملک کی سازشوں اور سفاکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے خو ش وختے رشتہ دروں کو آپس میں لڑاتے ہیں اور ان کی ریاست کو بھی اپنی ملکیت میں شامل کر نا چاہتے ہیں اور اس معاملے میں وہ اپنے سگے بھانجہ اور داماد کو بھی نہیں بخشتے اور پھر اس کو بے دخل کر کے دن بھر روتے بھی ہیں

کرنل شمبرگ لکھتے ہیں کہ   اب یاسین (یسن) کے معاملات میں ایک تیزی کے ساتھ تبدیلی یہ آگئی کہ محی الدین عرف پہلوان بہادر (شاہی ہیرو) جو کہ ملک امان اور میر ولی دونوں کا بھائی تھا اور مہتر چترال کا بھانجہ تھا، کو مستوج کا گورنر بنایاگیا ، جارج ہیورڈ کے قتل کے بعد اگست  1870  ء  مین بیس سالہ پہلوان بہادر چھوٹاسا لشکر لے کر  یاسین (یسن) پہنچ گیا اسے مہتر چترال  امان الملک کی اشیر باد حاصل تھی اور کہا یہ بھی جاتا ہے کہ میر ولی کے وزیر رحمت کے اکسانے اور ترغیب دینے پر کہ وہ شاید ہیورڈ کی قتل کو روکوا سکتا تھا، جیسا بھی ہوا میر ولی بدخشان چلاگیا وہاں سے چترال آیا جہاں اُس نے مہتر چترال سے تعلقات بنائے، حقیقت میں اُس نے اپنے ماموں کی چابلوسی کیا اور  یاسین جانے کی اجاذت مل گئی، لیکن اُس نے اپنا انعام حاصل کر ناتھا، میر ولی نے سید علی شاہ کی قتل اپنے ذمہ لیا جس نے مہتر چترال کے  بڑے بھائی محترم شاہ کو قتل کیا تھا، اس کام کو انجام دے کر اس کے بدلے مہتر سے یاسین (یسن) کا تخت حاصل کیا جس نے اپنے اس خوش وخت رشتہ دار کی قسمت کی سرسری رواج کو ختم کرکے بڑا لطف اندوز ہوا، پہلوان بہادر کو دو ٹوک الفاظ میں کہلا بھیجا کی یاسین (یسن) کو خالی کردو۔

امان الملک نے یاسین (یسن) کے حکمرانوں کو تخت پر بٹھانے اور اتارنے کے عمل کو جاری رکھا، اور  ایک دو سال بعد میر ولی کے ساتھ کسی جائداد کی تنازع  کے معاملے پر جھگڑا کیا اور  یاسین (یسن) کاحکمران دوبارہ بدخشان چلا گیا دو سال بعد جب وہ واپس آیا تو گورنر مستوج کی حکم سے اس کو قتل کیا گیا۔ یہ صاف ظاہر ہے نہ ہی امان الملک کا عمل تھا اور نہ ہی میر ولی کی قسمت کا کسی بھی طرح ہیورڈ کی قتل سے کوئی تعلق تھا، پہلوان بہادر دوبارہ یاسین کا حکمران بنا، جو کہ ان شہزادوں کی بدلتی ہوئی قسمت پر بہت بے تاب تھا، اگر چہ گوہر امان کا تیسرا بیٹا جو اپنے باپ کے تخت پر بیٹھا تھا لیکن وہ بھی اپنے بھائیوں سے زیادہ خوش نہیں تھا۔

  1878  ء  میں بڈلف نے یاسین (یسن) کا دورہ کیا جو کہ گلگت کا پہلا پولٹیکل ایجنٹ تھا۔ جس کی فقید لمثال  استقبال کیا گیا، مہتر چترالاس استقبال سے نا خوش ہوا، اس کی حاسد اور مشکوک دماغ نے اندازہ لگایا کہ اس کا بھانجہ  اسے تخت سے اتارنا چاہتاہے اور ایک انگریزسرکار کے ملازم کے آنے پر کوئی نہ کوئی خوفیہ چال ہوگی۔ اس کی پر تشدد  ذہن نے ساز باز شروع کیا کہ کیسے اپنے دشمن کو ہٹایا جائے، چنانچہ  اس نے اُسے گلگت پر حملہ کر پر اکسایا کہ وہ بھی اس کی مدد کر ے گا، یہ ایک سوچی سمجھی مہم تھی اور حقیقت میں جس نے یہ منصوبہ بنایا تھا  وہ ایک بد معاش ویلن، اور صحیح دور اندیش تھا جو اس بات کا مسحق تھا۔

 اگر یہ مہم کامیاب ہو تا تو مہتر چترال آخر کار گلگت کی ملکیت حاصل کرتا اور نا کامی کی صور ت میں وہ اپنے تکلیف دہ بھانجھے سے چھٹکارہ پاتا نتیجہ جو بھی ہو تا وہ ہی اس سے فائدہ اُٹھا تا۔ مہتر چترال کے کہنے پر پہلوان بہادر نے گلگت پر چڑھائی کی غرض سے 1880 ء  میں شیر قلعہ پر حملہ کیا لیکن ا س کے ماموں نے اس کی مدد نہیں کی، وہ ناکام ہوا، جس کی وجہ سے ایک نا گزیر اختتام پر وہ بطور احتجاج  چترال چلا گیا، مہتر نے کچھ نہیں کیا یہ نا قابل یقین تھا کہ اُس نے اپنے بھانجے کی مدد اُس وقت نہیں کی جب کہ وہ حملہ کر رہا  تھا، چہ جائیکہ کہ وہ شکست خوردہ کی مدد کرتا، پہلوان بہادر یہاں تک کہ بشکار(بشقر) کوہستان چلا گیا کہ وہاں وہ کچھ لشکر شاید اکٹھا کر سکے تاکہ وہ کشمیر آرمی کا مقابلہ کر سکے، لیکن کامیاب نہ ہوسکا،  نہ صرف مہتر چترال نے پہلوان بہادر کی مدد نہیں کی بلکہ الٹا اُس نے فوج  یاسین پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا، چنانچہ اُس بد نصیب حکمران  نے اپنے بددیانت ماموں کے ہاتھوں سب کچھ کھو دیا،

یہ کہا گیا ہے کہ امان الملک ایک غاصب حکمران، سنگدل قاتل لیکن ایک محبت کرنے والے باپ، ایک پورا دن روتا رہا کہ اُس نے اپنے ہی بہن کے لڑکے اور اپنے سگے داماد کو اُس کی ریاست سے بے دخل کر دیا ہے لیکن اس نے علان کیا کہ ملک حاصل کرنے کی لالچ بھی بہت بڑی شے ہے، اُس نے اپنے بیٹے نظام الملک کو یاسین (یسن) کا اور افضل الملک کو مستوج کا گورنر مقرر کیا، حکومت کا صحیح حقدار پہلوان بہادر اور نظام الملک کی تقرری کے درمیانی لمبی مدت کے لئے کہا جاتا ہے کہ میر امان برادر گوہر امان جو کہ پہلوان بہادر کا چچا تھا یاسین کا حکمران رہا۔ 1880   ء  میں پہلوان اور  ملک امان نے یاسین پر حملہ کیا اور اسے شکست دی لیکن میر امان پھربھی قابض رہا، ان دونون بھائیوں نے غذر پر حملہ کیا لیکن شکست کھائی اور تانگیر چلے گئے، افضل الملک نے میر امان کو نکال باہر کیا، وہ بھی اپنی باری میں تانگیر میں پناہ گزین ہوا، لیکن نظام الملک یاسین کا گورنر ہوا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ 1881 ء  میں پہلوان بہادر نے اپنے پرانے سلطنت محروسہ پر  حملہ کیا لیکن وہ  اپنے ماموں سے اتنا خائف تھا کہ اپنے بھائی ملک امان کے ساتھ دوبارہ اپنے جلا وطنی کے مقام تانگیر چلا گیا۔ ایک دن دونوں بھائی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل رہے تھے جیسے ان کی برادرانہ عادت تھی کہ اس کا بھتیجا  جو ملک امان کا بیٹا تھا  نے اس کے پیٹھ میں گولی ماری،نظام الملک نے  1892 ء تک یاسین پر حکومت کی جب افضل الملک نے اُس کو نکالا تو وہ اشکومن (اشقمن) چلا گیا، افضل الملک کواس کے چچا شیر افضل نے قتل کیا وہ نظام الملک کے آنے پر وہاں سے نکل گیا۔ یکم  جنوری 1895 ء  کو نظام الملک کو اُس کے بھائی امیر الملک کے ایک نوکر نے شجاع الملک کی ایما پر قتل کیا  جو اس وقت چترال کا مہتر ہے۔ ا س کے مسلسل قتل و غارت گیری پر حکومت ہندوستان نےچترال کو تسخیر کیا اور موجودہ مہتر کے ریاست سے خو ش وختیہ خاندان کے موروثی ریاست کو علحدہ کیا، مستوج کو بھی ایک الگ ملک بنایا لیکن بعد ازاں    1914  ء  میں مہتر چترال کے حوالے کیا گیا۔  1895 ء  میں یاسین اور کوہ کو ایک گورنر کے زیر انتظام رکھا گیا اور غذر کو الگ کیا گیا اور  1896 ء  میں اشکومن (اشقمن) کو یاسین سے الگ کیا گیا  اور 1911  ء  میں کوہ کو  غذر سے ملایا گیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments