حکومت ہمارے حقوق پامال کر رہی ہے، عارضی ملازمین کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو گلگت کی طرف تمام اضلاع سے مارچ کریں گے، پریس کانفرنس

سکردو(ایس ایس ناصری) بنیادی حقوق دینے کی  دعویدارحکومت گلگت بلتستان میں بنیادی حقوق پامال کر رہی ہے  عارضی طور پر کئی سالوں سے مختلف اداروں میں کام کرنے والے ملازمیں کے ساتھ زیادتی اور ناروا سلوک سے ملازمیں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔حکومت اگر ہماری مطالبات منظور نہ کرے تو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے گگت کی طرف لانگ مارچ کریں گے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گلگت بلتستان آل کنٹریکٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن کے کور کمیٹی ممبران ،محمد عقیل، امجد، غلام محمد اور دیگر نے کہا انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے تمام محکموں میں کام کرنے والے وہ ملازمیں جو تمام بنیادی قانونی تقاضے جن میں ڈی پی سی، مشتہر کرنا ٹسٹ انٹر ویو وغیرہ شامل ہیں پورے کرکے تعینات ہوئے ہیں ان کے مستقلی کیلے اقدامت کرنے کے بجاٰے ان کے حقوق غصب کئیے جارہیں جوکہ سراسر زیادتی ہے انہوں نے کہا موجودہ حکومت نے گلگت بلتستان سروس ریگلائزیشن ایکٹ 2014کے زریعے اپنے عزیز و اقارب کےملازمتوں کو مستقل کر دیا ہے لیکن میرٹ پر تعینات ہونے والے ملازمیں کو ایکٹ میں شامل نہیں کیا جارہا ہے جوکہ ان ملازمیں کے ساتھ کھلواڑ ہے انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمیں گزشتہ کئی مہینوں سے تنخواہ سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت   آچکی ہے اور ساتھ ہی رمضان المبارک کا مہینہ بھی بہت قریب ہے ایسے میں تنخوائیں نہ دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے مختلف اداروں میں گزشتہ کئی سالوں سے کام کرنے والے عارضی ملازمیں میں سے اکثر کی عمر اب سرکاری ملازمت کیلے مخصوص عمر سے تجاؤز کر گیئے ہیں ایسے میں حکومت کی طرف سے ملازمیں کے خلاف سازش انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزی ہے  جبکہ ان میں سے بعض ملازمیں کو حکومت نے ایسے جھگوں پر تعینات کر رکھے ہیں جہا  ملازمت انتہائی مشکل ہوتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان ایکٹ 2014 میں توسیع کر کے تمام محکموں کے عارضی ملازمیں کو فورً مستقل کیا جائے تاکہ ان میں پائے جانے والے تشویش کا خاتمہ ہو سکے انہوں نے کہا ہے کی مطالبات منظور نہ ہوئے تو دمادم مست قلندر کریں گے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments