گلگت شہر سے چند کلو میٹر دور کارگاہ نالہ میں‌بچیوں‌کے لئے سکول کا نہ ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے

گلگت (اقبال بجاڑ) شہرسے چند کلو میٹر دور وادی کا رگاہ میں بچیوں کا سکول نہ ہونا محکمہ ایجوکیشن کی مجرمانہ غفلت ہے وزیر اعلی نوٹس لیں اگر ہماری بچیوں کو پڑھنے کا حق نہیں تو ہمیں بتایا جائے الیکشن کے دوران منتیں کرنے والے جیت کر ہمیں بھول جاتے ہیں اگر ہمارے یہاں بچیوں کا سکول نہ کھولا گیا تو ہم وزیر اعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دینئگے۔وزیر اعلی بتائے کارگاہ نالے سے پیدا ہونے والی بجلی سے آپنے گھروں کو روشن تو کرتے ہیں لیکن ہمارے یہاں جہالت کا اندھیرا کیوں کیا جا رہا ہے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کی بچیوں کو پڑھنے کا حق نہیں تو سرکاری طور پر پابندی لگائے ان خیلات کا اظہار عمائدین کارگاہ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہزار گھرانوں پر مشتمل آبادی والے گاوءں میں تعلیم اور صحت کے سہولیات نہ ہونا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ہمارے سا تھ یہ سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہمارا حق ہے اور ہمارا حق ہم کو دیا جائے کارگاہ میں آج بھی۵۔ ۹۹ فیصد لوگ ان پڑھ ہے۔یہ محکمہ ایجوکیشن کی منہ پہ تماچہ ہے این جی اوز بھی اس طرف توجہ دیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments