بالائی کوہستان کے بیشتر علاقوں‌میں لڑکیوں‌کے سکول بند ہیں، سب ڈویژن سیو میں‌ لڑکیوں‌کے لئے کوئی مڈل سکول موجود نہیں‌

کوہستان(نامہ نگار)کوہستان کے مرکزی مقام کمیلہ میں حلقہ پی کے پچیس کے لئے کوہستان ویلی نے تعلیمی جرگے کا اہتمام کیا ،جس میں مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سمیت محکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی ۔ پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم ’’کوہستان ویلی ‘‘کے چیف ایگزیکٹیو حفیظ الرحمن نے ’’میثاق علم ‘‘ پیش کی جسے مختلف پی ٹی سی ممبران ،اساتذہ کرام اور سیاسی و سماجی کارکنان کی مشاورت سے مرتب کی جاچکی تھی ۔جس کا مقصدحلقہ پی کے پچیس کے مسائل مطالبات کی شکل میں حکام بالاکے سامنے رکھنا مقصود تھا۔میثاق علم میں زلزلہ اور سیلاب میں متاثرہ سکولوں کی تعمیر نو ،لڑکیوں کے بند سکولوں کو کھولنے سمیت دیگر مطالبات شامل تھے۔

حفیظ الرحمن نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ بچیوں کے بیشتر سکول بند ہیں جنہیں کھولنے کیلئے عوام نے ہر سیشن میں مطالبہ کیا ہے ۔لو گ اپنی بچیوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن حکام بالا اُن کے مطالبات اب تک نظر انداز کرتی ہے ۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے رہنما عبدالجبار نے کہا کہ ہم اپنے بچیوں کو پڑھانا چاہتے ہیں مگر سکولوں کے تالے کھولنے والا کوئی نہیں ۔سابق نائب صدر پیپلز پارٹی کوہستان افسر خان نے کہا کہ سیلاب میں سکول تباہ ہوئے جن کا نشان تک باقی نہیں ،حکومت سے اپیل ہے کہ فوری طور سکول تعمیر کئے جائیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنماملک گلاب نے کہا کہ پورے سب ڈویژن سیو میں صرف ایک ہائی سکول اور دو مڈل سکول ہیں جبکہ لڑکیوں کا کوئی مڈل ہائی سکول نہیں ہے جو علاقے کی تعلیمی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما عبدالحکیم ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2013کے بعد تبدیلی واضح دکھائی دیتی ہے ،لیکن کوہستان میں مذید کام کی ضرورت ہے ۔ بھاشا سٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر عبدالحفیظ مما نے کہا کہ شناکی کے زیادہ تر سکول نان لوکل اساتذہ کی وجہ سے بند ہیں جب تک لوکل اساتذہ نہیں بھرتی کریں گے تب تک علاقے کی تعلیمی محرومی ختم نہیں ہوسکتی ۔

جمعیت علما اسلام کے جنرل سکرٹری محبو ب الرحمن نے کہا کہ کوہستان میں تبدیلی کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے ہزاروں بچے اب بھی کھلے آسمان تلے علم کی پیاس بجھارہے ہیں ۔سماجی کارکن محمود خان نے کہا کہ علاقے میں سکول کم ہیں جس سے تعلیمی ترقی میں رکاوٹ پیش آرہی ہے لہٰذا فیزیبلٹی دیکھ کر سکول تعمیر کئے جائیں ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے ڈی ای پی اینڈ ڈی نورمحمو د نے کہا کہ بہت سے سکول ایرا نے بنانے ہیں جب کہ ان کے علاوہ جو سکول ہیں وہ واپڈا کے ڈویلپمنٹل سٹریٹجی میں ہیں اور عنقریب اُن پہ کام شروع ہوجائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ای او راج محمد خان نے کہا کہ جو بھی بند سکول رپورٹ ہوئے ہیں میں ابھی سے اپنے ایس ڈی اوز کو حکم دیتاہوں کہ وہ فیلڈ میں جاکر تصدیق کرکے سخت سے سخت کاروائی کریں ،ہم چاہتے ہیں کہ کوہستان تعلیمی میدان میں آگے جائے ،جس کیلئے ہر ایک نے اپنا رول ادا کرنا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments