ٹیکنالوجی سے استفادہ آخر کیسے۔۔۔؟ 

تحریر: ارشاد کاظمی

نابینا افراد کی روز مرہ نقل و حرکت کو آسان بنانے اور انہیں اپنے اطراف میں موجود اشیاء کے بارے میں معلومات لینے کے لیے ماہرین نے کئی مفید آن لائن موبائل ایپلیکیشنز متعارف کروائیں گئی ہیں جنکی بدولت نابینا افراد کی زندگیوں میں بہت زیادہ آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں، اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود آنکھوں کی بینائی سے محروم افراد ان مفید ایپلیکیشنز کے استعمال کے ذریعے بغیر کسی اور کی مدد کے اپنے روز مرہ امور انجام دے رہے ہیں۔۔ان ایپلیکیشنز میں ایک گوگل آئی ڈی Gogol id نامی ایپ موجود ہے جو نابینا فردکو نقل و حرکت کے دوران ان کو ان کی موجودگی والی جگہ کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے، یعنی جس جگہ، سڑک، چوراہا، مارکیٹ، بلڈنگ، وغیرہ جہاں وہ کھڑا ہے کا مکمل نام و پتہ، اس کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے موجود امارتوں دکانوں کے نام اور دیگر لینڈ مارکس کے بارے میں مکمل تفصیلات معلوم ہوتی ہیں

ایک اور موبائل ایپلیکیشن ہولو آئی Holo ey بھی پلے سٹور میں موجود ہے،یہ ایپلیکیشن پاکستان کے چند یونیورسٹی طلبہ نے پروجیکٹ کے طور پر بنایا تھا جس سے بعد ازاں مزید تبدیلیوں کے بعد نابینا افراد ک لئے اور زیادہ فائدہ مند بنایا گیا ہے، یہ ایپلیکیشن نابینا افراد کو کرنسی نوٹس کی شناخت میں مدد فراہم کرتی ہے اس کے علاوہ نابینا افراد اپنے ارد گرد موجود اشیاء کے بارے میں معلوم کرنا چاہے تو وہ اپنے اینڈرائیڈ موبائل کا کیمرہ اس جانب کر کے اندازے سے تصویر کھینچتا ہے اور محض چند سیکنڈ میں لی گئی تصویر کی تمام تفصیلات تحریری شکل میں سامنے آجاتی ہیں۔

ایک اور ایپلیکیشن بھی موجود ہے جس کے دنیا بھر میں ہزاروں ممبران ہیں، ان ممبران میں بہت بڑی تعداد ان رضاکاروں کی ہے جو صاحب بینا ہیں اور ہمہ وقت نابینا افراد کی مدد کے لئے آمادہ رہتے ہیں،

اس ایپلیکیشن کے ذریعے نابینا افراد اپنی مطلوبہ معلومات آن لائن لے سکتے ہیں مثلاً کپڑوں کا رنگ، دوائیوں کے لیبل، کتابوں کے نام، اپنی ڈریسنگ اور جس جگہ وہ موجود ہیں اس کے اطراف موجود چیزوں کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے آن لائن کسی بھی وقت مفت کال ملائی جاتی ہے اور ایپلیکیشن کے دستیاب رضاکار نابینا شخص کو اس کی مطلوبہ معلومات فراہم کرتے ہیں نابینا شخص کو بس اپنے موبائل کا کیمرہ آن کر کے مطلوبہ چیز کی طرف اس کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

تیز ترین انٹرنیٹ کی موجودگی میں نابینا افراد کے لئے اپنے اینڈرائیڈ فون میں ٹائپنگ کرنا بھی بہت آسان ہو گیا ہے اب انہیں موبائل سکرین پر ٹٹول ٹٹول کر حروف ڈھونڈنے اور الفاظ ترتیب دینے کی زحمت سے چھٹکارا مل گیا ہے کیونکہ وہ وائس ان پٹ in put کے ذریعے انگریزی یا اردو میں جو کچھ لکھنا چاہے وہ محض بولتے جاتے ہیں اور ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ خود بخود تحریر ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری ایپس اور فیچرز دستیاب ہیں جنہیں نابینا افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے اور نابینا افراد بھی ان سے بھر پور استفادہ کر رہے ہیں یہ تمام ایپس گوگل پلے سٹور میں موجود ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سوشل میڈیا کے ذرائع جن میں فیس بک ، وٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹیوٹر وغیرہ بھی نابینا افراد کے لئے قابل استعمال بنایا گیا ہے اور ان سوشل میڈیا سائیٹس کی ہر نئی آنے والی اب ڈیٹس میں نابینا افراد کے لئے مخصوص فیچرز میں مزید جدت لائی جارہی ہے جس کے باعث یہ تمام سائیٹس نابینا افراد آسانی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں، اس وقت دنیا بھر کے لاکھوں نابینا افراد ان سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے باہمی رابطے میں ہیں اور انہی ذرائع کو تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے حصول کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں۔ ان تمام سائنسی ایجادات اور ٹیکنالوجیز نے جہاں نابینا افراد کو معلومات کے حصول کے نئے راستوں سے آگاہ کیا ہے وہی ان کی عزت نفس کی تحفظ اور شخصی وقار میں اضافے کا بھی موجب بنے ہیں۔۔۔

تو صاحبان یہ تمام آسانیاں اور سہولیات اس وقت میسر آنا ممکن ہے جب تیز ترین یعنی 3 جی اور 4جی انٹرنیٹ ہر وقت موجود ہو، میں ایک گلگتی نابینا شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اینڈرائیڈ فون کے استعمال پر بہت حد تک دسترس رکھنے کے باوجود ان تمام سہولیات کے حصول سے محض اس لئے محروم ہوں کیونکہ میری تیز ترین انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے، لہذا مجھے اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی معمولی نوعیت کے معلومات کے حصول کے لئے دوسروں کا محتاج ہونا پڑ رہا ہے، تیز ترین انٹرنیٹ تک رسائی میرا بنیادی حق ہے جو محض ایک ادارہ ایس سی او کی نا اہلی کے باعث مجھے حاصل نہیں ہے۔ اس ادارے کو چاہیئے تھا کہ ملک میں موجود دیگر موبائل کمپنیوں سے بہتر ٹیلی مواصلاتی اور انٹرنیٹ کی تیز ترین سہولیات فراہم کرتا، لیکن یہ ادارہ اس میں بہت بری طرح نا کامی سے دوچار ہے، ادارے کی کاکردگی سے گلگت بلتستان کا کوئی فرد مطمعن نظر نہیں آ رہا، مالی وسائل سے مالا مال اور حکومتی سرپرستی ہونے کے باوجود ادارے کی اتنی ناقص کارکردگی یقیناً لمحہ فکریہ ہے اور ہرگز ناقابل قبول ہے اس ادارے کی انتہائی بد ترین اور ناقص کارکردگی کے باعث عوام اس ادارے سے نالاں نظر آتے ہیں، میرا تعلق گلگت کے علاقہ دنیور سے ہے یہاں پر ایس سی او کی کئی تنصیبات موجود ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ دنیور میں ہی ایس کام کا فور جی نیٹ ورک موجود نہیں ہوتا ہے، اب دنیور میں صورتحال یہ ہے تو دیگر علاقوں کی صورتحال کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں سیکورٹی کے نام پر پرائیویٹ موبائل کمپنیوں کو فور جی نیٹ ورک فراہم کرنے کی اجازت نہ دینا سنگین زیادتی ہے اور اس صورتحال کے خلاف علاقے کے ہر خاص و عام سراپا احتجاج ہیں۔#

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments