سانپ کس قسم کے جاندار ہیں؟

سانپ عام طور پر لمبے ہوتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں نہیں ہوتیں۔ ان کا تعلق رینگنے والے جانوروں(Reptiles) کے خاندان سے ہے۔ اسی خاندان میں مگرمچھ، چھپکلیاں اور کچھوے شامل ہیں۔ لاکھوں سال پہلے زمین پر ڈائنوسار رہا کرتے تھے۔ وہ بھی اس خاندان سے تھے۔

انسانوں کی طرح رینگنے والے جانوروں کی بھی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ رینگنے والے جانور اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ انسانوں کے برعکس ان کی جلد خشک اور کھپریلی ہوتی ہے۔ ان کا خون سرد(Cold Blooded)ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی طرح ان کے جسم کا درجۂ حرارت یکساں نہیں ہوتا۔ اردگرد کے ما حول کے مطابق ان کے جسم کا درجہ حرارت تبدیل ہوجاتا ہے۔ سانپ، دھوپ میں آکر گرمی حاصل کرتے ہیں اور اس طرح ان کے جسم کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وہ سایے میں چلے آتے ہیں۔ اگر ماحول سرد ہو تو ان کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے اور اگر گرم ہو جائے تو ، گرم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سردیوں میں کوئی سرگرمی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایک جگہ پر پڑے رہتے ہیں۔

جھنجنے والا سانپ ( Rattle Snake)، اپنا جھنجنے کیوں بجاتا ہے؟

اس سانپ کی دم کے آخر میں خشک اور موٹے چانوں کے چھلے لگے ہوتے ہیں۔ جب یہ اپنی دم کو ہلاتا ہے توجھنجنے جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔ سانپ کچھ دیر کے بعد اپنی کھال اتار دیتا ہے۔ جب بھی یہ سانپ اپنی کھال اتارتا ہے تو اس کی دم پر چانوں کا ایک چھلا بن جاتا ہے۔ اس طرح ایک سال میں دو سے چار نئے چھلے دم پر بن جاتے ہیں۔ اسی طرح پہلے سے بننے والے چھلے آہستہ آہستہ گر جاتے ہیں۔جھنجنے والے سانپ، کھلے گھاس کے میدانوں، پانی کے جوہڑوں اور جنگلات وغیرہ میں رہتے ہیں۔ یہ زیادہ تر شمالی اور جنوبی امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی 30اقسام ہیں۔انکی لمبائی دو فٹ(61سینٹی میٹر) سے 7فٹ(2.2میٹر) تک ہو سکتی ہے۔ جھنجنے والے سانپ کے بچے پیدا ہونے کے فوراً بعد یہ بچے اپنی ماں سے الگ ہو کر اپنا خیال خود رکھتے ہیں۔ وہ اپنی خوراک خود تلاش کرتے ہیں اور بڑے سانپوں کی طرح ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ان میں زہر پیدائش سے ہی موجود ہوتا ہے۔ البتہ انھیں پرندوں، جانوروں اور دوسرے سانپوں سے بچ کر رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ انھیں کھا جاتے ہیں۔

دنیا میں سانپ کہاں کہاں رہتے ہیں؟

سانپ قریباً ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ صحرا، پہاڑ، جنگل یہاں تک کہ سمندر ، جھیل یا دریا میں بھی سانپ تیرتے نظر آجاتے ہیں۔سانپ صرف ان علاقوں میں نہیں رہتے جہاں سارا سال برف رہتی ہو۔ انٹارکٹکا میں سخت سردی ہوتی ہے اور یہ سارا سال منجمد رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے تقریباً تمام علاقوں میں سانپ رہتے ہیں۔ البتہ آئر لینڈ، آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ میں سانپ نہیں ہوتے۔کچھ سانپ زمین کے اوپر، کچھ زمین کے نیچے سوراخوں میں، کچھ درختوں پر اور کچھ پانی میں رہتے ہیں۔

کیا سانپ خطر ناک ہوتے ہیں یا بے ضرر؟

اگر آپ کہیں کہ سانپ خطر ناک ہوتے ہیں اوران کے کاٹنے سے آدمی مر سکتا ہے تو یہ با ت ٹھیک ہے ۔ اگر آپ کہیں کہ ایسا نہیں، سانپ بے ضرر ہوتے ہیں تو بھی با ت ٹھیک ہے۔ سانپوں کی 450اقسام بہت زہریلی ہوتی ہیں۔ سانپوں کی 85فیصد اقسام بالکل خطر ناک نہیں ہیں۔زہریلے سانپوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم کے سانپوں کے دانت(Fangs)بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ جب اس قسم کے سانپ کاٹتے ہیں تو وہ کچھ دیر کے لیے اپنے شکار کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زہر شکار ہونے والے جاندار کے جسم میں داخل ہو جائے۔ زہریلے سانپوں کی دوسری قسم کے سانپوں کے دانت لمبے ہوتے ہیں۔ ان لمبے دانتوں کی وجہ سے زہر، شکارہونے والے جاندارکے جسم میں بہت جلدی گہرائی تک داخل ہو جاتا ہے۔ ایسے سانپوں میں سے ایک جھنجنے والا سانپ ہے۔

سانپ کا جسم کس قسم کا ہوتا ہے؟

ہم انسانوں کی کمر میں33مہرے ہوتے ہیں جبکہ سانپوں میں ان کی تعداد150 سے450ہو سکتی ہے۔ سانپوں کے ہر مہرے کے ساتھ ایک پسلی جڑی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ 24چھوٹے پٹھے ہوتے ہیں۔ ان ہڈیوں اور پٹھوں کی وجہ سے سانپ بہت آسانی سے دائرے میں گھوم سکتا ہے۔سانپوں کے منہ میں غیر معمولی قسم کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ جبڑے کی ہڈیاں ڈھیلی سی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ ان کی باقی جبڑے کے ساتھ گرفت بھی ڈھیلی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے سانپ اپنے منہ کو الگ سے ہلا سکتا ہے اور اپنے منہ سے کہیں بڑے شکار کو منہ میں ڈال سکتا ہے۔ سانپ کے جسم کے دیگر اعضا بھی لچکدار ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر یہ اپنے اصل سائز سے بڑے ہو جاتے ہیں۔تما م سانپوں کی جلد کی دو پرتیں ہوتی ہیں۔ اوپر والی پرت مردہ ہوتی ہے اور سانپ اس کو اتار دیتے ہیں۔

سانپوں کو اپنے شکار کا کیسے پتہ چلتا ہے؟

سانپوں کو اپنی زبان کے ذریعے اپنے شکار کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔ زبان، ہوا میں موجود شکار کی بُو کو اٹھا لیتی ہے۔ سانپ کے منہ کے اندر، تالومیں ایک عضو ہوتا ہے جو زبان کے ذریعے سے ملنے والی اطلاع کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ عضو، سانپ کے ناک سے بھی مدد لیتا ہے۔ اس طرح ان دونوں کی مدد سے سانپ اپنے شکار کا پیچھا کر کے اسے پکڑ لیتا ہے۔ کچھ سانپوں میں اپنے شکار کی نشاندہی کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ ایسے سانپوں کے سر کے دونوں طرف گرمائش کا پتہ لگانے والے عضو ہوتے ہیں۔ گرم خون والے تمام جانداروں کے جسم سے حرارت نکلتی ہے۔ یہ عضو، اسی حرارت کا پتہ لگا لیتے ہیں اور سانپ کو اپنے شکار کا پیچھا کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

سانپ کے دانت، ٹیکے کی سوئی کی طرح ہوتے ہیں۔ سانپ کے اوپر والے جبڑے میں زہر کی تھیلیاں ہوتی ہیں۔ جب سانپ کسی جاندار کو کاٹتا ہے تو اس کے دانتوں کے ذریعے تھیلیوں میں موجود زہر، اس جاندار کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔کچھ سانپوں کے دانت آگے پیچھے حرکت بھی کر سکتے ہیں۔ حملہ کرتے وقت ان کے دانت آگے کی طرف نکل آتے ہیں۔ عام حالات میں وہ تہہ ہوکر تالو کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ اکثر زہریلے سانپوں کے دانت چھوٹے ہوتے ہیں اور وہ حرکت نہیں کرتے۔سانپ جانوروں کو مارنے کے لیے ان کو کاٹتا ہے۔ سانپ کے زہر سے شکار ہونے والے جانور کے اعصاب، دل، سانس لینے کی طاقت،خون کی نالیوں اور جسم کی بافتوں(Tissues)کو نقصان پہنچتا ہے۔ زہر میں ایسے کیمیاوی مادے بھی ہوتے ہیں جو سانپ کو اپنا شکار کو ہضم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سانپوں کی بہت سی اقسام انڈے دیتی ہیں۔ مختلف اقسام کے سانپ 6 سے100 انڈے دے سکتے ہیں۔ سانپ کے انڈوں کا خول چمڑے جیسا ہوتا ہے۔ ان کے اندر جب سانپ کا بچہ بڑھنا شروع ہوتا ہے تو انڈے پھیل جاتے ہیں۔ بہت سے ہفتوں کے بعد سانپ کا بچہ انڈے سے باہر آنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس بچے کے دودھ کے دانت ہوتے ہیں اور وہ ان دانتوں کی مدد سے انڈے کے خول کو کاٹ کر باہر آ جاتا ہے۔ باہر آنے کے فوراً بعد اس کے دودھ کے دانت جھڑ جاتے ہیں۔اکثر سانپ انڈے دینے کے بعد انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ انڈوں سے خود بخود بچے نکل آتے ہیں۔ البتہ اژدھا اپنے انڈوں کو گرمی دینے کے لیے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

سانپ کیا کچھ کھاتے ہیں؟

مختلف اقسام کے سانپ مختلف جانوروں اور چیزوں کو کھاتے ہیں۔ وہ عام طور پر ہر وہ جانور کھا لیتے ہیں جو ان کے منہ میں آجاتے ہیں۔ مثلاً مچھلی،مینڈک،چھپکلی اور یہاں تک کہ کوئی اور سانپ بھی۔ کچھ سانپ مختلف جانوروں اور پرندوں کے انڈوں پر ہی گزارا کرتے ہیں۔ ان کے منہ انڈوں کو کھانے کے لیے بہت مدد گار ہوتے ہیں۔ سانپوں کو بہت سی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی۔سانپوں کا بادشاہ(King Snake)زہریلا نہیں ہوتا البتہ دوسرے سانپوں کو کھا جاتا ہے۔ اس پر ان سانپوں کے زہر کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ اپنا شکار بننے والے سانپ کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان کو زور سے دبا کر مار دیتا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سانپوں کے جسموں کے طرح طرح کے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کے جسم پر بنے ڈیزائن بھی بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔سانپ مختلف لمبائی کے ہو سکتے ہیں۔ نابینا سانپ صرف 6انچ(15سینٹی میٹر) کا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اینا کونڈا(Anaconda) کی لمبائی30فٹ(9میٹر)تک ہو سکتی ہے۔ کچھ سانپ اڑ بھی سکتے ہیں۔کچھ سانپوں کے رنگ بہت بھڑکیلے ہوتے ہیں۔ سانپوں کو کھانے والے جانوروں کو ان بھڑکیلے رنگوں سے یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ سانپ بہت زہریلا ہے اور اس سے دور ہی رہا جائے تو اچھا ہے۔ اپنی جلد پر رنگوں کی وجہ سے کچھ سانپ اپنے ماحو ل میں اپنے آپ کو چھپا لیتے ہیں۔

دھوکہ دینے والا سانپ، دشمن سے کیسے بچتا ہے؟

ایک سانپ کی شکل بالکل سؤر کے ناک جیسی ہوتی ہے۔ جب اس کو خطرہ محسوس ہو تو وہ اپنا سر اور جسم اوپر اٹھا کر پھنکارتا ہے۔ وہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے حملہ کرنے والا ہے۔ مگر وہ اپنا منہ بند رکھتا ہے۔ اگر ایسا کرنے سے اس کے دشمن پر کوئی اثر نہ ہو تو پھر یہ سانپ ایسے ظاہر کرتا ہے کہ جیسے وہ مر گیا ہے۔ یہ الٹا ہو کر لیٹ جاتا ہے اور اپنا منہ پیچھے کی طرف کر کے اسے کھول لیتا ہے۔ شکار کرنے والے اکثر جانور مردہ جانور نہیں کھاتے اور اس طرح اس سانپ کی جان بچ جاتی ہے۔ جب دشمن چلا جاتا ہے تو یہ سانپ پھر سے سیدھا ہو کر اپنی راہ لیتا ہے۔ کچھ سانپ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ایک گیند کی طرح گول ہو جاتے ہیں اور گیند کی طرح لڑھکنا شروع کر دیتے ہیں۔

کوبرا سانپ اتنے ڈراؤنے کیوں لگتے ہیں؟

کوبراسانپ خطرہ محسوس کریں تو وہ اپنے جسم کو اٹھا کر پھنکارتے ہیں۔ وہ گردن کی ہڈی کو پھیلاتے ہیں اور ان کے منہ کے گرد پھن بن جاتا ہے۔ یہ سب کرتے ہوئے وہ آگے کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ اس وقت واقعی وہ بہت ڈراؤنے لگتے ہیں۔کوبرا سانپ صرف کاٹتے ہی نہیں بلکہ ان میں سے کچھ اپنے دشمن کی آنکھوں میں اپنے زہر کی پچکاری بھی پھینکتے ہیں۔ یہ پچکاری8فٹ(2.4میٹر) تک پہنچ جاتی ہے۔ کوبرا سانپ افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں رہتا ہے۔ اس کی لمبائی عام طور پر 6فٹ(1.8میٹر) جبکہ شاہی کوبرا کی لمبائی18فٹ (5.5میٹر)ہو سکتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچھ سانپ7میل(11کلو میٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتے ہیں۔ یہ رفتار چھوٹے فاصلوں پر ہوتی ہے۔ یہ تیز رفتاری سے بھاگ کر اپنے شکار کو پکڑلیتے ہیں۔ یہ درختوں پر بھی آسانی سے چڑھ سکتے ہیں۔ درختوں پر پرندوں کے گھونسلوں سے انڈے اور بچے اٹھالیتے ہیں۔

اژدھا، اپنے شکار کو کیسے مارتا ہے؟

اژدھا اپنے موٹے اور طاقتور جسم کو اپنے شکار کے ارد گرد لپیٹ کر ، شکار کو زور سے دباتا ہے۔ اس طرح شکار ہونے والے جانور کا دم گھٹ جاتا ہے اور اژدھا اسے کھا لیتا ہے۔ اژدھا کی لمبائی 30-20فٹ (6-9میٹر )ہو سکتی ہے۔اینا کونڈا بھی اژدھا کی طرح اپنے شکار کا سانس گھونٹ دیتا ہے۔ اس کی ایک قسم 30فٹ(9میٹر) تک لمبی ہو جاتی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے لمبا سانپ ہے۔ یہ سانپ دریا یا جوہڑوں کے قریب رہتے ہیں۔ یہ جنوبی امریکہ کے ممالک میں رہتے ہیں۔ اینا کونڈا زہریلے نہیں ہوتے۔

سردیوں میں سانپ کیا کرتے ہیں؟

سانپ کی بہت سی اقسام سردیاں سو کر گزارتی ہیں۔ سردیوں کے شروع ہوتے ہی سانپ سوراخوں یا غاروں میں آجاتے ہیں۔ ایک جگہ پر بہت سے سانپ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اس طرح وہ ایک دوسرے کو گرم رکھتے ہیں۔ اپنی توانائی کو بچانے کے لے سانپ دم سادھے کوئی حرکت کیے بغیر ساری سردیاں ایک جگہ پر پڑے رہتے ہیں۔ اس دوران وہ کچھ نہیں کھاتے ہیں۔ گرمیوں کے آتے ہی وہ خوراک کے لیے نکل پڑتے ہیں۔

سانپ ہمارے لیے کونسے اچھے کام کرتے ہیں؟

سانپ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے جانوروں کو کھاتے ہیں۔ اس طرح ایسے جانوروں کی تعداد ایک حد سے نہیں بڑھتی ۔ سانپ کے زہر سے بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات تیار کی جاتی ہیں۔ اس زہر سے بننے والی ایک دوا سے دل کے دورے کا علاج کیا جاتا ہے۔ سانپ کے کاٹے کا علاج بھی سانپ کے زہر سے بنائی جانے والے دواسے کیا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments